30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ازکم پندرہ منٹ تک دم فرماتے رہے ، پھر مجھے کروٹ کے بل لیٹنے کا فرمایا ، میرے لیے تکلیف کے باعث ہلنا بھی ممکن نہ تھا ، آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے خود ہی اپنے دستِ شفقت سے کروٹ دلوائی اور کم وبیش پندرہ منٹ تک میری پشت پر اپنا ہاتھ رکھ کچھ پڑھ کر دم فرماتے رہے پھر مجھے چند تعویذات عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا حوصلہ رکھیں اِنْ شَآءَ اللہعَزَّوَجَلَّ آپریشن کی نوبت نہیں آئیگی۔ اس کے بعد آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تشریف لے گئے( آپ کے ہمراہ آپ کے بڑے شہزادے حضرت مولانا عبیدرضا عطاری مدنی مُدَّظِلُّہُ العَالِی اور مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران حضرت مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّظِلُّہُ العَالِی بھی تھے)۔ اگلی صبح 00 : 6بجے مجھے میرے اٹینڈینٹ (Attendant)ڈاکٹر نے بتایا کہ آج دوپہر 00 : 3 بجے آپ کا آپریشن ہوگا ، میرا کھانا وغیرہ بند کر دیا گیااور ڈرپ لگا دی گئی۔ دوپہر کے وقت میرا ایک اور ایکسرے لیا گیا ، میں سخت پریشان تھا کہ نجانے کیا ہو گا میں نے اس دوران اپنے بہن بھائیوں سے فون پر بات کی اور دعاؤں کا کہا۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے اطلاع ملی کہشیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بڑے شہزادے حضرت مولانا عبید رضا عطاری مُدَّظِلُّہُ العَالِی تشریف لائے ہیں ۔ جیسے ہی آپ مُدَّظِلُّہُ العَالِی اندر تشریف لائے میں انہیں دیکھ کر رو پڑا ، انہوں نے مجھے تسلی دی اور ایک لفافہ میری طرف بڑھا تے ہوئے کہا یہ بابا جان نے آپ کے لیے بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ پریشان نہ ہوں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپریشن کی نوبت نہیں آئیگی ، مجھے یہ سن کر کافی حوصلہ ملا پھر میں نے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی طرف سے عطا کردہ لفافہ کھولا تو اس میں 1200 روپے موجود تھے میں نے عرض کی حضور یہ کس لیے ہیں فرمایا : والد محترم نے آپ کے لئے ربیع الاوّل کی عیدی بھیجی ہے ، میں نے اس لفافے کو عقیدت سے چومتے ہوئے کہا یہ میرے لیے بارہ کروڑروپے سے بھی بڑھ کر ہیں ۔ اسی دوران آپریشن تھیٹرکا اسٹاف آگیا اور کہنے لگا : آپ کے آپریشن کا وقت قریب ہے ، آپ فٹ ہیں ؟ کوئی مسئلہ تو نہیں ۔ میں نے دیکھا کہ اس وقت شہزادہ عطا ر مسکرا رہے تھے گویا کہ آپ سوچ رہے تھے کہ یہ آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں حالانکہ باپا جان نے فرمایا ہے کہ آپریشن نہیں ہو گا۔ تھوڑی دیر بعد آپ مجھے تسلی دیتے ہوئے تشریف لے گئے آپ کے جانے کے بعد ڈاکٹر صاحب آگئے۔ ان کے ہاتھ میں ایکسرے کی نئی رپوٹ تھی ، انہوں نے حیرت و خوشی سے ملے جلے لہجے میں کہا (you are a very lucky man آپ بڑے خوش قسمت آدمی ہیں ) کہ اب کی رپوٹ کے مطابق آپ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اب آپ کا آپریشن کرنے کی ضرورت نہیں صرف فزیوتھراپی سے ہی آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور آپ کا ہاتھ بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ کچھ ہی دنوں میں میرا وہ ہاتھ کہ جو جنبش تک نہیں کرسکتا تھا بغیر آپریشن کے ہی بالکل ٹھیک ہو گیا اور حرکت بھی کرنے لگا۔ تادمِ تحریر اس میں کوئی تکلیف نہیں ہے ۔ یہ سب فیضان ولی ٔکامل ، شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی دعا کا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی برکت سے میری تکلیف دور فرمادی ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو : آپ نے ملاحظہ فرمایا اس مدنی بہار میں امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی دعا کی برکت سے عاشقِ میلاد اسلامی بھائی کو آپریشن کی آفت سے نجات مل گئی ۔ واقعی اللہ والوں کی زبان مبارک سے جب کوئی بات نکل جاتی ہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل سے اسے پورا فرما دیتا ہے جس سے ان بندگانِ خداکی عظمت وشان نمایاں ہوتی ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّا میر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سایہ اہلسنّت وجماعت پر قائم و دائم رکھے اور ان کے فیضان سے امت مسلمہ کو فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
صلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد
بِسمِ اللہ کالونی خانیوال روڈ (مدینۃ الاولیاء ملتان شریف) کے مقیم اسلامی بھائی کے تحریر کردہ مکتوب کا خلاصہ ہے کہ زندگی کے شب و روز عصیاں میں بسر ہو رہے تھے ، فلمیں ڈرامے دیکھنا ، گانے باجے سننا اور ویڈیو گیمز کھیلنا ، گالیاں دینا ، شعر و شاعری اور ہنسی مذاق کرنا میری زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ بدمذہبوں کے پاس اٹھنا بیٹھنا تھا اسی وجہ سے مجھ میں بھی بدمذہبی کے جراثیم پیدا ہونا شروع ہو چکے تھے۔ بس اسی طرح زندگی دنیاوی موج مستیوں میں ضائع ہورہی تھی ، شاید انہیں گناہوں کی شامت تھی کہ میں آشوبِ چشم کا شکار ہو گیا ، علاج معالجے کے باوجود اس محاورے کا مصداق تھاکہ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ دن بدن میری آنکھوں کی بیماری بڑھنے لگی ، آنکھوں کے کئی اسپیشلسٹ ڈاکٹروں سے علاج بھی کروایا مگر خاطر خواہ افاقہ نہ ہوا۔ میں انتہائی بے قراری سے دوچار تھا ، اسی اِضطراری کیفیت میں زندگی کے سات سال بیت گئے ، پھر قسمت کا ستارہ چمکا اور مجھے دعوتِ اسلامی کا مشکبار مدنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع