30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کٹوادی ، عمامہ اتار کرگھر رکھ دیااور رِکشا لے کر نکل کھڑا ہوا۔ گلزارِ حبیب مسجد کے پاس رِکشے میں بیٹھا سوچنے لگا کہ اگر آج میرے رکشے میں امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَاِلیَہ نہیں بیٹھے تو صبح (معاذ اللہ) داڑھی بھی منڈوا دوں گا۔ میں انہی شیطانی خیالات میں گُم تھا کہ ایک آواز نے مجھے ان خیالات کے بھنور سے نکال دیا ، سامنے کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مدنی حلیے میں ملبوس اسلامی بھائی پوچھ رہے ہیں : فیضانِ مدینہ پرانی سبزی منڈی چلیں گے؟ میں نے کہا : کتنے اسلامی بھائی ہیں ؟ یہ سن کر اس نے کہا پیچھے دیکھیں میں نے جیسے ہی چہرہ گھمایا تو حیرت سے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیا دیکھتا ہوں کہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَاِلیَہ سامنے تشریف فرماہیں ، آپ کو دیکھ کر دل میں تھما آنسوؤں کا سیلاب آنکھوں کے ذریعے امنڈ آیا اور میں روتا ہوا آپکی خدمت میں حاضر ہوا ، قربان جائیے ان کی شفقت پرکہ مجھے دیکھتے ہی اپنے دست دراز کرتے ہوئے لپک کر مجھے اپنے سینے سے لگالیا ، میں لپٹ کر خوب پھوٹ پھوٹ کررونے لگا ، آپ نے شفقت فرماتے ہوئے میری ڈھارس بندھائی اور میری زلفوں اور عمامے کی بابت دریافت کیا تو میرے پاس شرمندگی کے سوا کوئی جواب نہ تھا ، میری آنکھیں شرم سے جھک گئیں ، اتنے میں ایک اسلامی بھائی کارلے کر آگئے اور آپ کی خدمت میں بیٹھنے کی درخواست پیش کرنے لگے مگر قربان جائیے آپ کی دلجوئی پر آپ نے بڑے ہی احسن انداز میں منع کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کے ہمراہ رکشے میں جاؤں گا یہ سن کر خوشی سے میرا چہرہ کھل اٹھا اور میرے آنسو تھم گئے۔ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ میرے رکشے میں بیٹھے ، راستے بھر میں اپنی آپ بیتی سناتا رہا کہ نہ کاروبار ہے ، نہ ہی بچوں کی شادیوں کے اسباب ، مکان بھی چھوٹا ہے ، جو ہے وہ بھی میرا نہیں ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا ہوا تھا اور بغور میری پریشان کن داستان سماعت فرما رہے تھے۔ دورانِ گفتگو میں نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو جب اس شخص کی باتیں بتائیں جو اس نے آپ کے خلاف کی تھیں تو نہ تو آپ کو غصہ آیا اورنہ ہی آپ نے اسے برا بھلا کہا بلکہ فرمایا : ہو سکتا ہے کبھی نادانستگی میں ان کا مجھ سے دل دکھ گیا ہو ، ان سے میری طرف سے معافی مانگ لیجئے گا ، میرا سلام بھی کہیے گا ، اور اگر معاف نہ کریں تو مجھے بتا دیجئے گا اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میں خود ان کے پاس معافی کے لیے حاضری دوں گا۔
فیضانِ مدینہ پہنچ کر جب امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَاِلیَہ نے کرایہ دینا چاہا تو میں نے لینے سے انکار کر دیا مگر آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے زبردستی پانچ روپے میرے ہاتھ میں تھما دیے ، میں نے انتہائی عقیدت سے لے کر رکھ لئے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مرشدکے دیے ہوئے پانچ روپے کی برکت سے میرے رزق میں ایسی فراخی عطا فرمائی کہ میرے حالات بہتر سے بہتر ہونا شروع ہوگئے۔ میں نے رکشا بیچ کر اپنا کاروبار شروع کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ تنگدستی رخصت ہوگئی ، پریشانیاں کافور ہوگئیں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر سات بہن بھائیوں کی شادیاں نمٹا چکا ہوں ، اس کے علاوہ تین ذاتی مکانوں کی ترکیب بھی بن گئی ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس مدنی بہار سے پتا چلا کہ اللہ والوں سے عقیدت ومحبت جہاں آخرت میں فائدہ دیگی وہیں دنیا میں بھی بے شمار آفات و بلیات سے نجات دلاتی ہے اور جن پر یہ نفوس قدسیہ اپنی نظرِ کرم فرمادیتے ہیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل سے ان کی مشکلات آسان فرمادیتا ہے اور دنیا وآخرت کی بھلائیاں ان کامقدر بن جاتی ہیں ۔
پیارے اسلامی بھائیو! اگر نیکی کی دعوت دیتے ہوئے خوفِ خدا سے کوئی رو پڑے ، روتے ہوئے بیان کرے ، رو رو کر دعا کرے ، تلاوتِ قراٰن یا نعت شریف سُن کر رو پڑے تو یہ اُس کیلئے بڑی سعادت کی بات ہے۔ اُس کو رِیا کار سمجھتے ہوئے اُس پر ہرگز بدگمانی نہ کی جائے۔ یادرکھیے مسلمان پر بدگُمانی کرنا حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔ دوسروں پربدگُمانی کر کے اپنے دل جلانے والوں کی خود اپنی ہی بربادی ہے ، حضرت سیِّدُنا مَکْحُول دِمَشقی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : جب کسی کو روتا ہوا دیکھو تو تم بھی روپڑو اور اُسے رِیا کار نہ سمجھو ، میں نے ایک دَفعہ(دَف۔ عَہ)کسی رونے والے شخص کو رِیا کار تصوُّر کیا تو میں ایک سال تک رونے سے محروم رہا۔ (تنبیہ المغترین ، ص۱۰۷)
یادِ نبی میں رونے والا ہم دیوانوں کو لاکھ پرایا ہو وہ پھر بھی اپنا لگتا ہے
امیرُالمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ نے فرمایا : جو شخص رو سکتا ہو تو روئے اور اگر رونا نہ آتا ہو تو رونے جیسی صورت بنا لے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع