30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طویل عمر والا نیک مدنی مُنّا عطا فرمائے۔ اس دعا کو سن کر مجھے قلبی طور پر ایک اطمینان کا احساس ہوا ، میرے دل ودماغ پر چھائی پریشانی کافور ہوگئی ، چند دن بعد ہی مرکز الاولیاء (لاہور) میں دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا اِجتماع تھا میں بھی دُعا کے لئے مرکز الاولیاء پہنچ گیا۔ رات کم و بیش تین بجے سنّتوں بھرے اجتماع میں ایک اسلامی بھائی میرے پاس آئے جنہوں نے 612 روپے دیتے ہوئے کہا کہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے آپ کو مبارک باد کے ساتھ سلام بھی بھیجا ہے۔ میں نے اس اسلامی بھائی سے کہا میں نے پیسے تو نہیں مانگے تھے صرف دُعا کے لئے کہا تھا۔ انہوں نے کہا : یہ آپ کے پیر و مرشد نے دیئے ہیں ، میں یہ سن کر خوشی سے جھوم اُٹھا۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی دعا کے طفیل خیر وعافیت سے بغیر آپریشن کے رات تقریباً بارہ بجے مجھے بیٹے کی نعمت عطا فرما دی۔ اس واقعے کے بعد اللہ والوں سے محبت وعقیدت مزید بڑھ گئی اور شیخ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی عظمت میرے دل میں گھر کر گئی ۔
1992ء میں بہن کی شادی کرنا تھی مگر ہمارا ہاتھ تنگ تھا ۔ لڑکے والوں نے دس دن میں رخصتی مانگی ، جسکی وجہ سے مزید پریشانی میں اضافہ ہوگیا ، ہم سب گھر والے متفکر تھے کہ اب کیا ہوگا ؟ کس کے سامنے دستِ سوال دراز کریں ، کس طرح اتنی بڑی رقم کا انتظام کریں ، مزید جب بوڑھی والدہ کو افسردہ دیکھتا تو جی بھرآتا اور اپنی بے بسی پر افسوس کرتا ، اس معاملے کو سادگی سے نمٹانے کے لیے گھرمیں چند ہزار بھی نہیں تھے۔ میں ان دنوں رِکشا چلاتا تھا ، ایک دن حسب معمول رِکشا لے کر گھر سے نکلا ، دل ودماغ پر پریشانی کے بادل چھائے ہوئے تھے اور میں امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو یاد کررہا تھا کہ ان کی بارگاہ میں جا کر دعا کے لیے عرض کرونگا ، اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے اس نیک بندے کی دعا کی برکت سے کوئی سبب پیدا فرمادیگا ابھی میں انہیں خیالوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ ایک سواری شہید مسجد کھارادر جانے کے لیے آبیٹھی۔ اسے چھوڑ کر مسجد کے پیچھے جہاں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تشریف فرما ہوتے تھے۔ وہاں پہنچا تو آپ سے ملاقات ہو گئی مگر کچھ کہنے کی ہمّت نہ کرسکا (اور اپنا دُکھڑا بیان کیے بغیر واپس آگیا ، جس کا مجھے بڑا افسوس ہوا ) حیرت انگیز طور پر اسی دن ، ظہر ، عصر اور مغرب کے اوقات میں شہید مسجد کی سواری ملی اور یوں قدرتی طور پر اسباب بنتے رہے کہ میں اپنی روداد سنا کر دعا کی درخواست پیش کروں مگر نجانے کیوں جب آپکے سامنے جاتا تو کچھ عرض نہ کرپاتا ایک ہی دن میں چار بار ملاقات ہوئی مگر کچھ بھی عرض کرنے کی ہمّت نہ ہوئی۔ خوش قسمتی سے عشا کی نماز بھی شہید مسجد کھارادر میں اداکرنے کی سعادت مل گئی ، نمازادا کرنے کے بعد میں رِکشالے کر روڈ پر پہنچا تو دیکھا کہ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَاِلیَہ چند اسلامی بھائیوں کے ہمراہ کہیں تشریف لے جا رہے ہیں ، اب تو مجھ سے صبر نہ ہوسکا اور میں رکشے سے اتر کر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَاِلیَہ کے سامنے افسردہ حالت میں جا کھڑا ہوا ۔ جونہی آپکے چہرے پر نظر پڑی میری آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہہ نکلے اور میں نے ہچکیاں لے لے کر سارا معاملہ آپ کے گوش گزار کر دیا۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَاِلیَہ نے دعا فرمائی اور پیٹھ تھپکتے ہوئے تسلی دی آپ کا دستِ شفقت جیسے ہی جسم سے مس ہوا جسم میں ایک سکون کی لہر دوڑ گئی اور مجھے کافی اطمینان وسکون حاصل ہوا۔ ۔ میں رات گئے جب گھر پہنچا تو والدہ نے دروازہ کھولا۔ میں نے سرجھکا کر عرض کی : امی جان رقم کا کوئی انتظام نہیں ہوسکا ، میں تو خالی ہاتھ آیا ہوں ۔ والدہ یہ سن کر مسکرائیں اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا : بیٹا فکر مند ہونے کی کوئی بات نہیں ، رقم کا انتظام ہو گیا ہے ، میں نے حیرانگی سے کہا کس طرح؟ توکہنے لگیں : ابھی تمہارے مرحوم والد کے سیٹھ صاحب آئے تھے جن کے پاس آپ کے والد کے جمع شدہ 10,000 روپے تھے وہ دیکر گئے ہیں ، یہ سن کر دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ہاتھوں ہاتھ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَاِلیَہ کی دعاکی برکت دیکھ کر عقیدت کے مارے میری آنکھیں بھیگ گئیں ۔
اسی طرح غالباً 1994ء میں ایک بار پھر مصائب وآلام میں گھِر گیا دعا کروانے کے لییامیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَاِلیَہ کی خدمت میں حاضر ہوا مگر ملاقات نہ ہوسکی ، میں بے حد پریشان تھا۔ ایک دن ایک جاننے والے سے ملاقات ہوئی ، دل کا بار ہلکا کرنے کے لیے میں نے انہیں اپنی پریشانی کے بارے میں بتایا مگر انہوں نے میری ہمت بندھانے کے بجائے موقع پا کر مجھے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَاِلیَہ سے بدظن کرنے کی کوشش شروع کردی ، پریشانی پہلے ہی دل ودماغ پر چھائی ہوئی تھی اس کی باتیں سن کر شیطان نے مجھ پر فوراًحملہ کردیا اورمجھے مدنی ماحول سے متنفر کردیا میں اسی دن حجام کی دکان پر گیا ، زلفیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع