30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں مجھے دل کی کیفیّت بدلتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ بیان کے بعد جب لائٹیں بند کر دی گئیں اور ذِکرُ اللہ کا سلسلہ ہوا مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی ایسی جگہ پر ہوں جہاں ہر چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کر رہی ہے۔ اس کے بعد اُسی مبلّغ اسلامی بھائی نے دعا کروائی ، دعا کے شروع ہونے کی دیر تھی کہ مجمع پر ایسی رقّت طاری ہوئی کہ ہر طرف سے ا ٓہ وبُکا کی آوازیں آنے لگیں ۔ رقّت انگیز دعائیہ کلمات اور خوفِ خدا کے سبب رونے والے عاشقانِ رسول کی پُرسوز آوازوں نے میرے دل میں بھی ایک محشر بپا کر دیا ، بے ساختہ میری آنکھوں سے بھی آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور پورے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا ۔ ایسی رقّت انگیز دعا اور خوفِ خدا کے سبب رونے والوں کے رقت انگیز مناظر زندگی میں پہلی با ر دیکھے تھے۔ دورانِ دُعا میرا وہ بدعقیدہ دوست کہنے لگا : یہ ناٹک کر رہے ہیں ، یہ لوگوں کو اپنا گرویدہ کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں ۔ میں نے اس کی بات سُنی اَن سُنی کر دی۔ لیکن چونکہ میں نے اتنے لوگوں کو ایسا تڑپتا اور خوفِ خدا میں روتا نہیں دیکھا تھا اس لئے دل میں وسوسہ سا پیدا ہوا کہ ابھی اندھیرا ہے اس لئے یہ لوگ خوب آوازیں نکال رہے ہیں جب روشنی ہوگی تو اندازہ ہو جائے گا کہ حقیقت میں رو بھی رہے تھے یا نہیں ۔ جب دُعا اختتام پذیر ہوئی اور لائٹیں آن ہوئیں تو بے ساختہ میری نظر دعا مانگنے والے اسلامی بھائی کے روشن چہرے پر پڑی جن کی آنکھیں خوفِ خدا سے اَشکبار تھیں ۔ اپنے سر کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات دیکھ کر میرے دل میں اطمینان و سُکون کی لہر دوڑ گئی ، میرے دل و دماغ میں پیدا کئے گئے تمام وَساوس کی کاٹ ہو گئی اور دعا کروانے والے مبلغِ دعوتِ اسلامی کی محبت وعقیدت میرے دل میں گھر کر گئی۔ مزید میں نے اپنے گردو پیش میں نظر دوڑائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ قریب بیٹھے ہوئے عاشقانِ رسول کی آنکھیں بھی پُرنم ہیں ، جس سے واضح طور سے پتا چل رہا تھا کہ یہ اس دُعا کروانے والے اِخلاص کے پیکر مبلغِ دعوتِ اسلامی کا خلوص ہی تو ہے جس نے سب کو اَشکبار کر دیا تھا۔ اجتماع کے بعد اعلان ہوا کہ ابھی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اسلامی بھائیوں سے ملاقات فرمائیں گے۔ میں چونکہ ان سے ناواقف تھا ، اعلان سن کر زیارت کا اِشتیاق بڑھ گیا چنانچہ میں نے بھی زیارت وملاقات کی سعادت پانے کی نیت کر لی مگر جب میں نے اپنے اُس بدمذہب دوست سے اس کا اِظہار کیا تو وہ مجھے منع کرنے لگا مگر میں دل کے ہاتھوں مجبور تھا میں نے اس کی بات ماننے سے انکا ر کر دیا ، اس پر وہ بے حد خفا ہوا اور چلا گیا۔ مجھے اس کی ناراضگی کی کوئی پروا نہیں تھی میں تو ایک ولیٔ کامل کے دیدار کے لیے بے قرار تھا۔ خوش قسمتی سے وہ مبارک لمحہ بھی آگیا جب میں نے ولیٔ کامل کا دیدار کیا تو میری حیرت کی اِنتہا نہ رہی کہ یہ تو وہی شخصیت ہیں جن کے بیان اور رِقّت انگیز دعا کی برکت سے میری بھی آنکھیں چھلک گئی تھیں ۔ میں جب ملاقات کے لئے قریب پہنچا تو امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مسکراتے ہوئے شفقت و محبت سے مجھے سینے سے لگایا ، سلام و مصافحے کے بعد میری حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے پابندی سے اجتماع میں آنے اور دوسروں کو دعوت دے کر ساتھ لانے کا ذہن دیا۔ پہلی ہی ملاقات میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے اعلیٰ اَخلاق اور کانوں میں رس گھولنے والی میٹھی گفتار نے مجھے ان کی محبت میں گرفتار کر دیا۔ ساری زندگی میں آج ایسا شخص پہلی بار دیکھا تھا جو پہلی ملاقات میں اتنی محبت سے گفتگو فرما رہا تھا اور میں ان کی سادگی سے مزید متأثر ہوگیا اسی وجہ سے وہ دن اور آج کا دن دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوں ۔ میں نے بدمذہبوں سے پیچھا چھڑایا اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے جانے لگا۔ کچھ ہی عرصے بعد 1984ء میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہاتھوں بیعت ہو کر انہیں اپنا مرشد مان لیا۔ میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں تو کیا شامل ہوا میرے تو دن ہی پھِر گئے ، سر پر عمامے شریف کا تاج سجا لیا ، سفید مدنی لباس پہننے کا معمول بن گیا ، سنّتوں بھرے اجتماع میں بھی پابندی کے ساتھ شرکت کی سعادت حصے میں آنے لگی۔ مزیدڈھیروں ڈھیربھلائیاں میرا مقدر بن گئیں ۔ جن میں سے چند کا تذکرہ تحدیثِ نعمت کے لیے کرتا ہوں ۔ چنانچہ ،
غالباً 1990ء کی بات ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے گھر میں پہلی بار ولادت متوقع تھی ، ڈاکٹرز نے بتایا کہ بچّہ پیٹھ کے بل ہو چکا ہے ، جس کی وجہ سے اب نارمل ڈلیوری مشکل ہے لہٰذا آپریشن کرنا ہو گا۔ آپریشن کا سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ ان دنوں میرے معاشی حالات ایسے تھے کہ بمشکل گھر کے اخراجات پورے ہوتے تھے ، آپریشن کے اخراجات کی مجھ میں سکت کہاں ۔ اس پریشانی سے چھٹکارا پانے کے لیے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں پہنچ گیا اور اپنی داستانِ غم آپ کے سامنے بیان کردی۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تسلی دیتے ہوئے دعا دی : اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو بغیر آپریشن کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع