30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کیذاتِ بابرکات بھی یادگار سَلَف شخصیات میں سے ہے آپ کے مریدین و محبین آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور دُعاؤں کے لئے عرض کرتے رہتے ہیں آپ کی دعا کی برکات سے لوگوں کی امیدیں بر آتی ہیں پریشانیاں کافورہوتی ہیں ۔ آپ کی دعاؤں سے فیضیاب ہونے والے کئی اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں بذریعہ تحریر ان واقعات کو اِرسال کرتے رہتے ہیں ۔ اس رسالے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقرب بندے ، امیرِ اہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کی دعاؤں سے فیضیاب ہونے والوں کی مدنی بہاریں بنام ’’ پانچ روپے کی برکت سے سات شادیاں ‘‘ پیش کی جا رہی ہیں ۔
اللہتعالیٰ ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مدنی اِنعامات پر عمل اور مدنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے۔
اٰمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
مجلسِ اَ لْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ {دعوتِ اسلامی} شعبہ امیرِ اَہلسنّت
۱۴جُمادَی الاُولٰی ۱۴۳۵ھ بمطابق 16مارچ 2014 ء
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ اپنے رسالے ’’پان گُٹکا‘‘میں دُرودِپاک کی فضیلت نقل فرماتے ہیں : نبیوں کے سلطان ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَسَلَّم نے نماز کے بعد حمد و ثنا و دُرود شریف پڑھنے والے سے فرمایا : ’’دُعا مانگ قبول کی جائے گی ، سُوال کر ، دیا جائے گا۔ ‘‘ (نسائی ، ص۲۲۰ ، حدیث : ۱۲۸۱)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{1}پانچ روپے کی بَرَکت سے سات شادیاں
بابُ المدینہ (کراچی ، پاکستان) کے ایک عمر رسیدہ اسلامی بھائی کے حلفیہ بیان کا لُبِّ لُباب ہے : 1982ء کی بات ہے کہ بدقسمتی سے مجھے کچھ بدعقیدہ لوگوں کی صحبت میسر آگئی جس کی نحوست نے یوں اثر دکھایا کہ میں نہ صرف ان کے جلسے جلوسوں میں آنے جانے لگا بلکہ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اپنے معمول میں شامل کر لیا۔ کم و بیش ڈیڑھ سال انکی صحبتِ بد کا شکار رہا اسی وجہ سے میری زندگی عشقِ رسول کی حلاوت سے خالی تھی جس کا احساس مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے کے بعد ہوا۔ خوش قسمتی سے ایک دن دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ اُجلے چہرے والے ایک عاشقِ رسول اسلامی بھائی سے ملاقا ت ہو گئی ، سلام دُعا کے بعد انہوں نے بڑی اپنائیت سے انتہائی محبت بھرے انداز میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ ان کے سادہ مگر دل جیت لینے والے انداز کے سامنے میں کوئی عذر پیش نہ کر سکا اور شرکت کے لئے نہ صرف ہامی بھر لی بلکہ پکا وعدہ بھی کر لیا۔ پہلے پہل تو ذہن یہ تھا کہ ان کے اجتماع میں بھی جا کر دیکھتے ہیں یہ کیا کہتے ہیں ؟ مگر جب اجتماع میں شریک ہوا تو بس یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ چنانچہ ایک دن معمول کے مطابق میں اپنے ایک بدمذہب ساتھی کے ساتھ انہی کے جلسے میں شریک تھا کہ اچانک مجھے اس دعوتِ اسلامی والے عاشق رسولِ اسلامی بھائی کی اجتماع کی دعوت اور ان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ یاد آگیا ۔ میں نے اس سے کہا : چلو قریب ہی مسجد میں دعوتِ اسلامی کا اجتماع ہو رہا ہے اس میں شرکت کرتے ہیں ۔ پہلے تو اس نے مجھے ٹالنے کی کوشش کی مگر میرا اصرار دیکھ کر مجبوراً وہ میرے ساتھ چل پڑا۔ جب ہم دعوتِ اسلامی کے اولین مرکز گلزارِ حبیب مسجد میں داخل ہوئے تو عجب کیف و سرور کا سماں تھا ، ہر طرف عماموں کی بہاریں تھیں ۔ ایک نورانی چہرے والے مبلّغ انتہائی پرسوز آواز میں سنّتوں بھرا بیان فرما رہے تھے اور سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضر ہونے والے اسلامی بھائی نہایت توجہ سے ان کا بیان سن رہے تھے ، چنانچہ ہم بھی عاشقانِ رسول کے قرب میں بیٹھ گئے اور بغور اس سنّتوں کے آئینہ دار ، مبلغ اسلامی بھائی کا بیان سننے لگے۔ نجانے بیان میں ایسی کیا تا ثیر تھی کہ تھوڑی ہی دیر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع