30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ایک اسلامی بھائی کے سنّتوں بھرا مَدَنی حلیہ اپنانے اور انفرادی کوشش کی برکت سے ’’راہِ حق ‘‘ کے متلاشی کو اپنی منزل مل گئی ۔اس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں شرکت کی بَرَکت سے بسا اوقات دنیاوی مسائل بھی حل ہوجاتے ہیں ، مریضوں کو شفا مل جاتی ہے ، بے روز گاروں کو روزگار مل جاتا ہے لیکن صرف دنیاوی مسائل کے حل کی نیت کرنے کے بجائے طلبِ علم اور ثوابِ آخرت کمانے کی بھی نیتیں ضرور کرنی چاہئیں ۔
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
میں دعوتِ اسلامی کامبلِغ کیسے بنا؟
سردارآباد (فیصل آباد)کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں اپنے شہر کے ایک مشہور جامعہ میں درسِ نظامی کا طالب علم تھا ۔اٹک شہر کے ایک اسلامی بھائی جن کے ماموں ہمارے جامعہ کے قریب رہائش پذیر تھے ، کبھی کبھار سردار آباد تشریف لایا کرتے ۔ دورانِ قیام وہ ہمارے جامعہ میں بھی آیا کرتے اور طَلَبہ سے ملاقات کر کے ان پر انفرادی کوشش کرتے ۔ میری اُن سے دوستی ہوگئی ۔ وہ مجھے دعوتِ اسلامی اوربانیٔ دعوتِ اسلامی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بارے میں بتایا کرتے ۔ان کی باتیں سن سن کر میں دعوتِ اسلامی اور بانیٔ دعوتِ اسلامی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مُحِبِّیْن میں شامل ہوگیا ۔ پھر ایک دن وہ واپس اپنے شہر جانے لگے تو مجھے فیضانِ مدینہ سردار آباد(سُوساں روڈنزد پرانی ٹنکی مدینہ ٹاؤن) میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی جو میں نے قبول کر لی اور اجتماع والے دن اکیلا ہی اجتماع میں شریک ہونے کے لئے چل دیا ۔اُس رات مبلغِ دعوتِ اسلامی نے عمامہ شریف کے فضائل پر بیان کیا ، جسے سن کر میں اتنا متأثر ہوا کہ ہاتھوں ہاتھ عمامہ خرید کر اپنے سر پر سجا لیا اور بستے (اسٹال) سے فیضانِ سنّت بھی خرید ی اور اپنی مسجد میں اس کادرس شروع کر دیا۔جامعہ میں پڑھنے کے باوجود نماز کے مسائل کا علم نہ تھا چُنانچہ میں نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تالیف ’’نماز کا جائزہ‘‘ [1]؎سے نماز کے مسائل سیکھے ۔وقت گزرنے کے ساتھ میں نے مکمل طور پر مَدنی حُلیہ اپنا لیا ۔اب میں اجتماع میں اپنے ساتھ دیگر طلبہ کو بھی لے جاتا پہلے ہفتے 3اسلامی بھائی تھے دوسرے ہفتے ان کی تعداد بڑھ کر 12ہوگئی ۔میں نے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں بھی سفر کیا اور اپنے علاقے میں مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچانا شروع کر دیں ۔1994ء میں فیضانِ مدینہ سردار آباد میں مدرسۃ المدینہ میں بطورِناظم سنّتوں کی خدمت کا موقع ملا اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں تادمِ تحریر مجلس مدرسۃ المدینہ پنجاب کا رُکن بھی ہوں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں استقامت نصیب فرمائے اور مرشدِ کریم کی نسبت سلامت رکھے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ کس طرح ایک طالب علم ، اپنے دوست کی انفرادی کوشش سے دعوتِ اسلامی کے مَدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے۔ یاد رکھئے!اجتماعی کوشش کے مقابلے میں اِنفرادی کوشش بے حد آسان ہے کیونکہ کثیر اسلامی بھائیوں کے سامنے ’’بیان‘‘ کرنے کی صلاحیّت ہر ایک میں نہیں ہوتی جبکہ اِنفرادی کوشش ہر ایک کر سکتا ہے خواہ اُسے بیان کرنا نہ بھی آتا ہو۔مَدَنی مرکز کے دئیے ہوئے طریقۂ کار کے مطابق انفرادی کوشِش کے ذَرِیعے خوب خوب نیکی کی دعوت دیتے جائیے اور ثواب کا خزانہ لوٹتے جائیے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مرکز الاولیاء (لاہور) کے مقیم اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خُلاصہ ہے کہ میں لااُبالی طبیعت کا مالک تھا۔اپنی مستی میں مست ، دنیوی غفلتوں میں گُم تھا۔ ٹِفن بجا کر گلوکاروں اور قوالوں کی نقلیں اْتارنے کے معاملے میں خاندان بھر میں مشہور تھا۔شادی و دیگر تقریبات میں لطیفے اور مزاحیہ نظمیں سُنانا، گانا گانا، بے ڈھنگے انداز میں ناچ کر لوگوں کو ہنسانا محبوب میرا مشغلہ تھا۔ والدہ سمجھا بجھا کر نَماز پڑھنے کے لئے مسجد بھیجتیں تو گھوم پھر کر بغیر نماز پڑھے واپس لوٹ آتا۔ ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی اکثر بڑے بھائی سے ملنے آیا کرتے تھے۔ ایک دن بھائی نے میرا اُن سے تعارف کروایا تو انہوں نے ہاتھوں ہاتھ مجھ پر انفرادی کوشش کی اور دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتو ں بھرے اجتماع کی برکتیں بتاتے ہوئے اس میں شرکت کی دعوت دی میں اُن کی دعوت پر جمعرات کو سنّتوں بھرے اجتماع میں جاپہنچا ۔مجھے یہ اجتماع بہت اچھا لگا، یوں میں نے پابندی سے جانا شروع کردیا اور دیگر دوستوں کو بھی دعوت پیش کی جس پر وہ بھی جانے لگے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں نے نمازوں کی پابندی شروع کردی، آہستہ آہستہ عمامہ شریف بھی سج گیا۔ جس پر گھر کے بعض افراد نے سختی و مخالفت بھی کی، بعض اوقات عمامہ کھینچ کر اُتاردیا جاتامگر میں نے ہمت نہیں ہاری ۔کھانے کے بعد برتن دھوکر پیتا تو (معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ ) تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ، ، گھر والے درسِ فیضانِ سنّت دینے سے روکتے، زلفیں رکھیں تو زبردستی کٹوادیں ، داڑھی ابھی نہیں نکلی تھی مگر میں نے نیت کر لی تھی۔ ان تمام آزمائشوں کے باوجود مدنی ماحول کی کشش اور عاشقان رسول کا حسن سلوک مجھے دعوتِ اسلامی کے قریب کرتا چلا گیا ۔ پیرو مرشد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیانات کی کیسٹیں سُننے سے ڈھارس بندھتی اور حوصلہ ملتا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ آہستہ آہستہ توجہ مرشد کی بدولت گھر میں مَدَنی ماحول بننے لگااور گھر والے جو کسی وقت مجھے اجتماع میں شرکت اور مدنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع