30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی طرح چھپ کر نمازیں ادا کرتا۔ نیند کی قربانی دے کر بھی اپناوُضُو قائم رکھتا تاکہ موقع ملنے پرنماز ادا کر سکوں ۔میرا کوئی پُرسانِ حال نہ تھا نہ مجھے کوئی ہمدرد دکھائی دیتا جسے میں اپنی بپتا (یعنی دُکھ بھری داستان)سناتا ۔ تقریباً 2ماہ اسی طرح گزر گئے یہاں تک کہ رمضان المبارَک کا مقدس مہینہ تشریف لے آیا ۔ آزمائشوں کی اِن راتوں میں کون مجھے سحری فراہم کرتا مگر رمضان کا روزہ چھوڑنا مجھے گوارا نہ ہوا چنانچہ میں نے بِغیر سَحری روزہ رکھ لیا۔شام تک جب میں نے کھانا نہیں کھایا تو گھر والوں کو تشویش ہوئی ۔وہ جمع ہوکر آئے اور کھانا کھانے کیلئے زور دینے لگے ۔ میں نے کہا : ’’رکھ دو میں کھالوں گا ۔‘‘ ان کے جانے کے بعدمیں نے مزید اصرار سے بچنے کے لئے سالن اِدھر اُدھر کر دیا اور روٹیاں جیب میں ڈال لیں مگر گھر والوں کو کسی طرح شک ہو گیا اور انہوں نے زبر دستی مجھے کھا نا کھلا یا۔ میں دل ہی دل میں کڑھتا رہا مگر مجبور تھا۔ یوں میں پانچ روزے نہ رکھ سکا ۔
آخر کار کسی سبب سے گھر والوں کی طرف سے کچھ ڈھیل ملی اورمیں دوبارہ کلینک جانے لگا ۔میں بغیر سحری روزے کی نیت کر لیتا اور بظاہر دوپہر کا کھانا ساتھ لے جاتا مگر شام کے وقت اس سے افطاری کرتا۔اسی دوران میں نے اسلام قبول کرنے کے متعلق قانونی کاغذات بھی مکمل کروا لئے مگر گھر والوں کو پتا نہیں چلنے دیا۔میں گھر والوں سے چھپ کر جس مسجد میں نماز ادا کرنے جاتاوہاں کی انتظامیہ نے ڈر کر مجھے منع کر دیا کہ آپ یہاں نہ آیا کریں ، کہیں فساد نہ ہوجائے ۔میرا دل تو بہت دُکھا کہ میں مسلمان ہوتے ہوئے بھی حالات کی ستم ظریفی کی وجہ سے مسجد میں داخلے سے روک دیا گیا ہوں مگر بے بس ولاچار تھا کیا کرتا؟دعوتِ اسلامی کا مَدَنی مرکز وہاں سے بہت دُور تھااور میں نے انہیں خودسے رابطہ کرنے سے بھی منع کر رکھا تھا۔
مسلسل پریشانیوں نے میرے اعصاب شل کردئیے تھے ۔مجھے کوئی ایسا ہمدرد اور غمگسار چاہئیے تھا جس کے کندھے پر سر رکھ کر چند اَشک بہا لُوں مگر آہ !میں بالکل تنہا تھا۔ایسے وقت میں مجھے نماز پڑھنے میں بڑا سکون اور حوصلہ ملتا تھا۔ میری زبان پر دُرُود شریف جاری رہتا ۔اب میں نے ہمت کرکے3کلومیٹر دُور ’’جَنتا کالونی‘‘ کی مسجدمیں باجماعت نماز ادا کرنے کے لئے جانا شروع کردیا ۔گھر والے ایک بارپھر نرم پڑ چکے تھے۔ایک روز محلے کے کسی نام نہادمسلمان نے پھر گھر والوں کا ذہن خراب کرنے کی کوشش کی کہ’’ ہم بھی مسلمان ہیں ہم کون سی نمازیں پڑھتے ہیں ؟ جمعہ یا عید کی نماز پڑھ لی بس کافی ہے! تمہارا بیٹاضرور کسی جن کو قابو کرنے کا عمل کر رہا ہے، یہ پاگل ہوجائے گاتو پتا چلے گا۔‘‘اس کی باتیں سن کرگھر والے ڈر گئے اور پھر سے سختی کرنا شروع کر دی حتی کہ میرے ہونٹ ہلانے پر بھی پابندی لگادی گئی ۔گھر والے مجھے پکڑ کر ایک عامل کے پاس لے گئے ۔ اس نے بھی کہہ دیا کہ مجھ پر ’’اثرات‘‘ ہیں !
ان حالات سے میں بہت دلبر داشتہ ہوا اور شایددوبارہ کفر کے اندھیروں میں کھو جاتا مگر ربّ عَزَّوَجَلَّ کا کرم کہ میں نے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں عاشقانِ رسول کے بیان کردہ سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ پرہونے والے مظالم کی داستا ن سن رکھی تھی ، ان مظالم کے سامنے میری تکالیف کچھ بھی نہیں تھیں ، اپنے آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آزمائشوں کو یاد کرکے میرا ایمان اور مضبوط ہوجاتا۔
ایک روز میں چھپ کر دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماع میں جاپہنچا۔ اطلاع پا کر گھر والے آدھمکے اوروہاں سے مجھے اٹھا کر لے گئے ۔نہ میں نے کوئی مزاحمت کی اور نہ کسی کو کرنے دی کہ فساد ہوگا۔گھر لے جا کر مجھے اتنا مارا گیاکہ میں نیم بے ہوش ہوگیا۔ہوش آنے پر میں نے گھر چھوڑنے کا پختہ ارادہ کر لیا حالانکہ3 دن پہلے ہی میری سرکاری نوکری کی تقرری کا آرڈرموصول ہواتھا جس کے لئے میں نے سالوں محنت اور کوششیں کی تھیں ۔ اب ایک طرف ذاتی مکان ، ماں باپ اور روشن مستقبل اور دوسری طرف ایمان جیسی عظیم دولت! مگر میں نے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کے کرم سے ایمان کے تحفظ کی خاطر 21 مارچ 2007ء کو اپنی مرضی سے گھر چھوڑ دیا۔
اَلْحَمْدُ ِللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ آج میں ہند کے مختلف شہروں میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافلوں میں سفر کر رہا ہوں اورگھر والوں کی سختی کے باعث رہ جانے والی تمام نمازیں بھی قضاء کرلی ہیں ۔میری خواہش تھی کہ میں بھی کبھی نماز میں اِمامت کی سعادت حاصل کر سکوں ۔ اَلْحَمْدُ ِللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مدنی قافلے میں سفر کی بَرَکت سے چند سورتوں کو دُرُست مخارج کے ساتھ سیکھنے اور نماز کے مسائل یاد کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔13 اپریل2007ء کو میری مراد بَر آئی اور مجھے ’’جھانسی ‘‘ شہرمیں فجر کی جماعت میں امامت کی سعادت حاصل ہوگئی۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بنائی ہوئی دعوتِ اسلامی پر میری جان قربان کہ اس نے کفر کی آغوش میں پلنے والے کو نہ صرف دولتِ ایمان سے نوازا بلکہ اِمامت کے مصلّے پر لاکھڑا کیا۔یہ سب میر ے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ، سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عنایت اور میرے پیر و مُرشد امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نظرِ ولایت کا فیض ہے۔
اِن ہی نومُسلِم اسلامی بھائی کے بیان کا مزیدخلاصہ ہے کہ دورانِ سفر ’’قَنّوج ‘‘شہرکے محلہ ’’کا غزیانی‘‘ میں جب علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کیلئے پہنچا تو وہاں کی ’’پرانی مسجد ‘‘کے سامنے والا میدان لوگوں سے بھرا پایا، کوئی تاش کھیلنے میں تو کوئی جوئے میں مصروف تھا۔میں نمازِ عصر کے بعد جب ان لوگوں کے پاس نیکی کی دعوت دینے کیلئے حاضر ہوا تو ایک شخص انتہائی غصے کی حالت میں کھڑا ہو کر مجھے گندی گندی گالیاں دیتے ہوئے ڈانٹے لگا کہ کسی اور کو جاکرسمجھاؤ ہمیں سمجھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اتنے میں ایک بوڑھے شخص نے اس سے کہا : ’’ اس کی بات تو سنو کہ یہ کیا کہنا چاہتا ہے؟‘‘ چنانچہ میں نے اسے نیکی کی دعوت پیش کی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں سیکھے ہوئے نماز پڑھنے کے فضائل اور نہ پڑھنے سے متعلق وعیدیں سنائیں ، جب محسوس ہواکہ لوہا گرم ہو چکا ہے تو میں نے کہا ’’ جو باتیں میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ توآپ حضرات کو مجھے بتانی چاہئے کیوں کہ میں نے ابھی کچھ عرصہ قبل ہی اسلام قبول کیا ہے، پھر میں نے مختصراً اپنے اسلام قبول کرنے اور اس دوران آنے والی آزمائشوں کے واقعات سنانا شروع کئے تو وہاں موجود لوگ رونے لگے حتی کہ مجھے گالیاں بکنے والا شخص روتے ہوئے کہنے لگا، بس کرو ورنہ میرا دم نکل جائے گا۔اب یہ تمام ہمارے ساتھ مسجد میں چلنے کیلئے تیار تھے۔نمازِعصر میں ہم دو نمازی تھے مگر حیرت انگیز طور پرنمازِ مغرب میں 3 صفیں بن گئیں ۔ایک بُزُرگ فرمانے لگے : ’’میں ان لوگوں کو دیکھتے دیکھتے بوڑھا ہو گیا ہوں آج پہلی بار انہیں مسجد میں دیکھ رہا ہوں ۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع