30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سبق نمبر: 36
مرفوعات ومنصوبات ومجرورات
جملہ خواہ اسمیہ ہو یا فعلیہ اسمیں موجود اسماء یا تومرفوع ہونگے یا منصوب یا مجرور۔ چنانچہ مرفوعات ،منصوبات اور مجرورات بیان کیے جاتے ہیں۔
مرفوعات:
یہ کل آٹھ ہیں: ۱۔فاعل ۲۔نائب الفاعل ۳۔ مبتدا ۴۔خبر ۵۔ افعال ناقصہ کااسم ۶۔ ماولا المشبھتان بلیس کا اسم ۷۔ حروف مشبہ بالفعل کی خبر ۸۔ لائے نفی جنس کی خبر ۔
منصوبات:
یہ کل بارہ ہیں: ۱۔ مفعول بہ ۲۔ مفعول مطلق ۳۔ مفعول لہ ۴۔ مفعول فیہ ۵۔ مفعول معہ ۶۔ حال ۷۔ تمییز ۸۔ مستثنی۹۔ افعال ناقصہ کی خبر ۰۱۔ماولا المشبھتان بلیس کی خبر ۱۱۔ حروف مشبہ بالفعل کااسم ۲۱۔ لائے نفی جنس کا اسم ۔
مجرورات:
یہ فقط دو ہیں : ۱۔مضاف الیہ ۲۔ مجرور بحرف جر
نوٹ:
مرفوعات ومنصوبات ومجرورات کی کل تعدادبائیس ہے۔
تنبیہ:
مرفوعات ومنصوبات ومجرورات کی یہ تقسیم اسماء کے اعتبار سے ہے ورنہ فعل مضارع بھی مرفوع ومنصوب ہوتاہے۔
*****
مشق
سوال نمبر1:۔مندرجہ ذیل جملوں میں موجود مرفوعات ومنصوبات ومجرورات کی پہچان کریں ۔
۱۔اَلْھَوَاء ضَرُوْرِی لِلْحَیَاۃ۔۲۔اِذَاطَلَعَتِ الشَّمْس طَلَعَ النَّھَار وَظَھَرَ الصُّبْح وَ یَسْتَیْقِظُ النَّاس صَبَاحا۔۳۔ھَلْ تَشْکُرُ اللّٰہ بَعْد الطَّعَام؟۔۴۔أیُّھَا الطَّالِب الذَّکِی! اِخْتَرِالصَّدِیْق الَّذِیْ یَتَّصِفُ بِالْأَخْلَاق الْفَاضِلَۃ۔۵۔اَلْمَسْجِد بَیْت اللّٰہ۔ ۶۔یَجْتَمِعُ النَّاس فِی الْمَسْجِد خَمْس مَرَّات فِیْ یَوْم۔۷۔خَرَجَ فَرِیْد مِنَ الْبَیْت ۔۸۔اَلرَّاشِی وَالْمُرْتَشِی کِلاَ ھُمَا فِی النَّار ۔۹۔ذِکْر اللّٰہ شِفَاء الْقُلُوْب ۔۰۱۔اَلرَّجُل عَلٰی دِیْن خَلِیْلہ فَلْیَنْظُر أَحَدکم مَن یُّخَالِلُ۔
****
سبق نمبر: 37
فعل کی اقسام
فعل کی مختلف اعتبار سے تقسیم کی جاتی ہے۔
۱۔ زمانے کے اعتبار سے ۔
۲۔ مفعول بہ کی ضرورت ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے ۔
۳۔ فاعل معلوم ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے ۔
یہاں صرف آخری دواعتبارات سے فعل کی اقسام بیان کی جائیں گی۔
۱۔مفعول بہ کی ضرورت ہونے یا نہ ہونے کے
اعتبار سے فعل کی۱قسام
اس اعتبار سے فعل کی دوقسمیں ہیں:
۱۔لازم ۲۔متعدی
۱۔لازم کی تعریف:
وہ فعل جو صرف فاعل سے ملکر مکمل معنی ظاہر کرے ۔اوراسے مفعول بہ کی ضرورت نہ ہو۔ جیسے جَلَسَ زَیْدٌ ( زیدبیٹھا) ۔
۲۔متعدی کی تعریف:
وہ فعل جو صرف فاعل سے ملکر مکمل معنی ظاہرنہ کرے ۔بلکہ اسے مفعول بہ کی بھی ضرورت ہو ۔ جیسے ضَرَبَ زَیْدٌ طِفْلَہٗ ۔(زید نے اپنے بچے کو پیٹا)
فعل متعدی کی تین اقسام ہیں :
۱۔متعدی بَیک مفعول ۔ ۲۔متعدی بَدومفعول۔ ۳۔متعدی بَسہ مفعول
۱۔ متعدی بیک مفعول :
وہ فعل ہے جوصر ف ایک مفعول بہ چاہتا ہے۔ جسیے أَکْرَمْتُ زَیْدًا۔(میں نے زید کی تعظیم کی)۔
۲۔ متعدی بَدَو مفعول:
وہ فعل ہے جو دو مفعول بہ چاہتا ہے۔جیسے أَعْطَیْتُ زَیْدًا دِرْھَمًا۔(میں نے زید کوایک درہم دیا)
۳۔متعدی بسہ مفعول :
وہ فعل ہے جو تین مفعول بہ چاہتاہے ۔جیسے أَرَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنَ الْجَنَّۃَ مَثْوَاہٗ ( اللہ تعالی نے مومن کو جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھایا) ۔
۲۔فاعل معلوم ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار
سے فعل کی اقسام
فعل چاہے لازم ہو یامتعدی اسکی دواقسام ہیں۔
۱۔ معروف ۲۔مجہول
۱۔معروف:
وہ فعل جس کا فاعل معلوم ہو۔یعنی فعل کی نسبت فاعل کی طرف کی گئی ہو۔ جیسے مَرَّنََ أُسْتَاذٌ ( استاد نے مشق کرائی)۔
۲۔مجہول:
وہ فعل جس کا فاعل معلوم نہ ہو یعنی فعل کی نسبت مفعول کی طرف کی گئی ہو۔ جیسے ضُرِبَ تِلْمِیْذٌ (شاگرد کو مارا گیا)،یہاں مارنے والا معلوم نہیں۔
ضروری وضاحت:
فعل مجہول فعل لازم سے نہیں بنتا اس لئے کہ فعل مجہول میں فعل کی نسبت مفعول کی طرف ہوتی ہے اور فعل لازم کا مفعول آتا ہی نہیں ۔البتہ اگر فعل لازم سے فعل مجہول بنانا ہوتو فعل کو مجہول ذکر کر کے اس کے بعد ایسا اسم ذکر کر دیا جاتاہے۔ جس پر حرف جرباء داخل ہو ۔جیسے کُرِمَ بِزَیْدٍ۔(زید کی تعظیم کی گئی)
فائدہ:
جَائَ اور دَخَلَ اگرچہ لازم ہیں مگر متعدی کی طرح بھی استعمال ہوتے ہیں۔
جیسے: جَائَ نِیْ زَیْدٌ ،دَخَلَ زَیْدُنِ الْمَسْجِدَ۔
*****
مشق
سوال نمبر1:۔مندرجہ ذیل جملوں میں موجود فعل لازم و متعدی اور معروف و مجہول کی پہچان کریں۔
۱۔وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَی الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَأٰی بِجَانِبِہٖ وَإِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ کَانَ یَئُوسًا۔۲۔وَقُلْ جَاء َ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا ۔۳۔وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرٰی أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ۔۴۔ حَسِبْتُ أَخَاکَ صَالِحًا۔۵۔خَرَجَ فَرِیْدٌ۔۶۔نَزَلْتُمْ مِنَ الْبَاصِّ ۔۷۔لَعِبَ عَلِیٌّ فِی الْمَیْدَانِ ۔۸۔ تُفْسِدُ الْیَھُوْدُ وَ النّصَارٰی أَقَلِیِّۃَ الْمُسْلِمِیْنَ۔۹۔فَرِحَ زَیْدٌ ۔۰۱۔رَجَعَ مُسَافِرٌ ۔۱۱۔فُتِحَ الْبَابُ۔۲۱۔اذا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ زِلْزالَہا۔
سوال نمبر2: ۔اعراب لگائیں۔اور ترجمہ کریں۔
۱۔ أکل اسد ظبیا۔ ۲۔من قتل نفسا بغیر نفس أو فساد فی الارض فکأنما قتل الناس جمیعا ومن أحیاہا فکانما أحیا الناس جمیعا ۔ ۳۔ شربت عصیر التفاح۔ ۴۔ اللّٰہ یعلم ما فی صدورکم۔ ۵۔ وعظت أخاک۔ ۶۔ اجتھد أخوک۔ ۷۔ بعثت أخی إلی السوق۔ ۸۔ ھل أنت تقرء ھذا الکتاب فی الجامعۃ وماذا تقول عنھا۔ ۹۔ھو یسئل ولا یسئل۔
****
سبق نمبر: 38
فعل کا عمل
فعل کے عمل کے بارے میں پیچھے اجمالا گزر چکا اب ہم قدرے تفصیل بیان کرتے ہیں۔ کوئی بھی فعل غیر عامل نہیں ہوتا ،چاہے لازم ہو یا متعدی۔ فاعل کو رفع اوردرج ذیل چھ اسماء کو نصب دیتاہے۔
۱۔مفعول مطلق:۔ جیسے قَامَ زَیْدٌ قِیَامًا ( لازم) ضَرَبَ زَیْدٌ ضَرْبًا (متعدی)۔
۲۔مفعول فیہ:۔جیسیصُمْتُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ (لازم) ضَرَبْتُ زَیْدًا فَوْقَ السَّقَفِ (متعدی)
۳۔مفعول معہ:۔جیسیجَائَ الْبَرْدُ وَالْجُبَّاتِ ( لازم) رَأَیْتُ الأَسَدَ وَ الْفِیْلِ (متعدی) ۔
۴۔مفعول لہ:۔جیسے قُمْتُ اِکْرَامًا (لازم ) ضَرَبْتُہٗ تَادِیْبًا (متعدی)۔
۵۔حال:۔جیسیجَائَ زَیْدٌ رَاکِبًا (لازم) ضَرَبْتُ زَیْدًا مَشْدُوْدًا (متعدی) ۔
۶۔تمییز :۔جیسیطَابَ زَیْدٌ نَفْسًا (لازم) رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا (متعدی)
نوٹ:
فعل متعدی مفعول بہ کو بھی نصب دیتاہے۔ جیسینَصَرََ زَیْدٌ عَمْرًوا ۔فعل کا یہ عمل تو اس صورت میںتھا جب کہ وہ معروف ہو اور اگر مجہول ہوتودرج ذیل صورت ہوگی۔
فعل مجہول کا عمل:
فعل مجہول فاعل کے بجائے مفعول بہ کو رفع دیتا ہے اور اس مفعول بہ کو نائب الفاعل کہتے ہیں۔ جیسے أُکِلَ رُمَّانٌ (انار کھایا گیا) ،اور بقیہ اسماء کو نصب دیتاہے جیسے وُزِّعَ الکُتَیْبَاتُ وَالْعَمَائِمَ تَوْزِیْعاً یَوْمَ الْجُمُعَۃِاَمَامَ الْمَسْئُوْلِ تَالِیْفاً لِّلْقُلُوْبِ۔(رسالے عماموں کے ساتھ خوب تقسیم کئے گئے ،جمعہ کے دن ذمہ دار کے سامنے دلوں میں محبت پیدا کرنے کے لئے)
مشق
سوال نمبر1:۔ مندرجہ ذیل جملوں میں فعل کا عمل پہچانئے۔
۱۔کَلَّمْتُ عَلَی الْجَوَّالِ تَکْلِیْماً۔۲۔جِئْتُ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ۔۳۔اِسْتَیْقَظَ زَیْدٌ وَ طُلُوْعَ الشَّمْسِ ۔۴۔کَظَمْتُ الْغَیْظَ طَلْباً للثَّوَابِ۔۵۔أَکَلْتُ الْفَطِیْرَۃ مَحْشُوَّۃً بِلَحْمٍ جَالِساً فِی الْفُنْدُقِ۔ ۔۶۔زَادَ اللّٰہُ الْمَدِیْنَۃَ الْمُنَوَّرَۃَ شَرْفاً وَّ تَعْظِیْماً ۔۷۔قُتِلَ کَافِرٌ ۔۸۔أُعْطِیَ زَیْدٌ جَوَّالَۃً للذَّھَابِ اِلَی السُّوْقِ۔۹۔حَفِظْتُ نِصَابَ النَّحْوِ حِفْظًا۔۰۱۔وُلِدَ بَکْرٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔
سوال نمبر2:۔درج ذیل حکایت پر اعراب لگائیں اور فعل کے عمل کی نشاندہی کریں۔
حکی ان لصا دخل بیت رابعۃ بصریۃ وھی نائمۃ فجمع امتعۃ البیت وھم بالخروج من الباب فخفی علیہ الباب فقعد ینتظر ظھورالباب واذا ھاتف یقول لہ ضع الثیاب واخرج من الباب فوضع الثیاب فظھر لہ الباب فعلمہ ثم اخذ الثیاب فخفی علیہ الباب فوضعھا فظھر لہ الباب فاخذھا فخفی وھکذا ثلث مرات او اکثر فناداہ الھاتف ان کانت رابعۃ قد نامت فالحبیب لاینام ولا تاخذ ہ سنۃ ولا نوم فوضع الثیاب و خرج من الباب۔
****
سبق نمبر: 39
توابع کابیان (صفت)
یادرہے کہ پیچھے جتنے بھی اسمائے معربہ گزرے ان کا اعراب بالاصالت تھا۔ اس طور پر کہ ان پر رفع نصب یا جر دینے والے عوامل داخل تھے۔ لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اسم پر اپنے ماقبل کی تبع میں اعراب ظاہر ہوتے ہیں اوربذات خودا س پر کوئی عامل داخل نہیں ہوتا۔ ایسے اسم کو تابع کہتے ہیں ۔ اسکی اصطلاحی تعریف درج ذیل ہے۔
تابع کی تعریف:
ہرو ہ اسم جسے ایک ہی جہت(۱) سے اپنے ماقبل کا اعراب دیا گیا ہو۔جیسے جَائَ رَجُلٌ(۲) عَالِمٌ ۔اس مثال میں عالمِ تابع ہے۔جسے ماقبل رجل کا اعراب دیا گیا ہے۔
متبوع:
وہ اسم جو تابع سے پہلے ہو۔جیسے مذکورہ مثال میں رَجُلٌ۔
تابع کی اقسام
تابع کی پانچ اقسام ہیں۔
۱۔صفت ۲۔بدل ۳۔ تاکید ۴۔عطف بحرف ۵۔عطف بیان۔
۱۔صفت:
ایسا تابع جو اپنے متبوع یا اسکے متعلق میں موجود وصف پر دلالت کرے۔ متبوع کو موصوف اور تابع کو صفت کہتے ہیں ۔
صفت کی اقسام
صفت کی دو اقسام ہیں ۔
۱۔ صفت حقیقی ۲۔ صفت سببی
۱۔صفت حقیقی:
وہ صفت جو اپنے متبوع (موصوف) میں موجود وصف پر دلالت کرے۔جیسے جَائَ رَجُلٌ عَالِمٌ ، یہاں عَالِمٌ صفت حقیقی ہے جس نے اپنے متبوع (موصوف) رَجُلٌ میں موجود وصف ِ علم پردلالت کی۔
۲۔ صفت سببی:
وہ صفت جواپنے متبوع (موصوف) میں موجود وصف پر دلالت نہ کرے۔ بلکہ متبوع (موصوف) کے متعلق میں جووصفی معنی پائے جاتے ہوں ان پر دلالت کرے۔ جیسے جَائَ رَجُلٌ عَالِمٌ أَبُوْہٗ ، یہاں عَالِمٌ صفت سببی ہے۔ جس نے رَجُلٌ کے متعلق أَبُوْہٗ میں موجود وصف ِعلم پر دلالت کی۔ لیکن یاد رہے کہ ترکیب میں دونوں جگہ عَالِمٌ کو رَجُلٌ ہی کی صفت بنایا جائے گا۔
موصوف صفت میں مطابقت:
صفت کا اپنے موصوف کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ اگرصفت حقیقی ہو تو وہ اپنے موصوف سے دس چیزوں میں موافقت رکھے گی۔جوکہ درج ذیل ہیں۔
۱۔رفع ۲۔ نصب ۔ ۳۔جر ۴۔ اِفراد ۵۔تثنیہ ۶۔ جمع ۷۔تعریف ۸۔تنکیر ۹۔ تذکیر ۰۱۔ تانیث
اسکی مثالیںمرکب توصیفی کے بیان میںگزر چکی ہیں۔ مذکورہ بالادس چیزوں میںسے بیک وقت چار چیزوں میںموافقت ضروری ہے۔جیسے قصرٌ عظیمٌ۔ عظیم چار چیزوں یعنی مرفوع،مفرد،مذکر اورنکرہ ہونے میں موصوف کے مطابق ہے۔ اور اگر صفت سببی ہوتو اسکا اپنے موصوف سے پانچ چیزوں میں موافق ہونا ضروری ہے۔ لیکن بیک وقت دو چیزیں پائی جائیںگی۔وہ پانچ چیزیںیہ ہیں۔
۱۔ تعریف ۲۔ تنکیر ۳۔ رفع ۴۔ نصب ۵۔ جر
جیسے تعریف ورفع میں جَائَ زَیْدُنِ الْعَالِمُ أَبُوْہٗ اورتنکیر ونصب میں رَأَیْتُ رَجُلاً عَالِمًا أَبُوْہٗ (علی ھذا القیاس )۔
صفت کے فوائد:
*…موصوف نکرہ ہو تو صفت لگانے سے نکرہ مخصوصہ بن جاتاہے جیسے رَجُلٌ عَالِمٌ مَوْجُوْدٌ (عالم آدمی موجود ہے) ۔
*…اور اگر معرفہ ہوتوصفت موصوف کی وضاحت کیلئے آتی ہے۔ جیسے جَائَ الأُسْتَاذُ الْفَقِیْہُ(فقیہ استاد آیا)
*…موصوف، صفت لگانے سے پہلے بھی معروف ومشہور ہو توصفت یا تومدح کیلئے آتی ہے۔جیسے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یا مذمت کیلئے جیسے أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔
*…کبھی حصول رحم کیلئے بھی صفت ذکر کی جاتی ہے۔ جیسے اَللّٰھُمَّ ارْحَمْ عَبْدَکَ الْمِسْکِیْنَ۔
*…کبھی صفت موصوف کی تاکید کیلئے لگائی جاتی ہے۔ جیسے نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ اور تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ میں واحدۃ اور کاملۃ۔
صفت کے چند ضروری قواعد:
*…صفت سببی تذکیروتانیث میں اپنے موصوف کے مطابق ہونے کی بجائے اپنے مابعد کے مطابق ہوتی ہے جیسے جَائَ تْ فَاطِمَۃُ الْعَاقِلُ زَوْجُہَا۔
*…صفت سببی میں موصوف اگر چہ تثنیہ یا جمع ہو صفت ہمیشہ مفرد ہی آتی ہے جیسے ھٰئوُلاَئِ بَنَاتٌ عَاقِلٌ أَھْلُھَا ۔
*…صفت واقع ہونے والے صیغے عموما اسم فاعل ،اسم مفعول،صفت مشبہ اور اسم تفضیل کے ہوتے ہیں۔جیسے رَجُلٌ عَالِمٌ،وَقْتٌ مَّعْلُوْمٌ،طِفْلٌ حَسَنٌ،زَیْدُنِ الأَفْضَلُ ۔
*…یاد رہے کہ صفت کے لیے عموما اسم مشتق ہی استعمال ہوتا ہے لیکن کبھی اسم جامد بھی صفت واقع ہوتا ہے اسوقت اسے مشتق کی تاویل میں کیا جاتاہے جیسے ذُوْصاحب کے معنٰی میں ہو کر مشتق بن جاتا ہے۔جیسے جَائَ رَجُلٌ ذُوْمَالٍ (مال والا آدمی آیا)۔
*…اسم نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ یا فعلیہ ہو تو یہ نکرہ کی صفت واقع ہوتے ہیں جیسے جَائَ رَجُلٌ أَبُوْہُ مُمَرِّضٌ اور جَائَ رَجُلٌ یَقْرَئُ الْقُرْآنَ۔
*…جب جملہ صفت واقع ہو رہا ہو تو اس میں ایک ضمیر ہوتی ہے جو واحد و تثنیہ وجمع اور تذکیر وتانیث میں موصوف کے مطابق ہوتی ہے ۔ جیسے جَائَ رَجُلٌ ضَرَبَ زَیْدًا
*…اگر موصوف جمع مکسریا غیر ذوی العقول کی جمع ہو تو صفت واحد مؤ نث بھی آسکتی ہے ۔جیسے رِجَالٌ کَثِیْرَۃٌ، کُتُبٌ مُفِیْدَۃٌ،أَشْجَارٌ مُثْمِرَۃٌ۔
*…اِبْنٌ یا بِنْتٌ جب کسی کی صفت واقع ہوں تو موصوف سے تنوین گر جاتی ہے نیز اِبْنٌ اور بِنْتٌ سے بھی تنوین گر جاتی ہے کیونکہ یہ ما بعد کے لیے مضاف واقع ہوتے ہیں جیسے زَیْدُ بْنُ عَمْرٍواور ھِنْدُ بِنْتُ زَیْدٍ۔
*…اسم نکرہ کے بعد لفظ غَیْرُ آجائے تو عموما یہ نکرہ کی صفت واقع ہوتا ہے جیسے اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ۔
*…اسی طرح اسم نکرہ کے بعدلفظ ذَات آجائے تو یہ بھی نکرہ کی صفت بنتا ہے جیسے فِیْ کُلِّ صَلوٰۃٍ ذَاتِ رُکُوْعٍ وَّ سُجُوْدٍ۔
*****
مشق
سوال1:۔ مندرجہ ذیل جملوں میں موجود موصوف صفت کی پہچان کریں نیز صفت حقیقی اور صفت سببی الگ الگ کریں ۔
۱۔جَائَ رَجُلٌ نَاصِرٌ ۔۲۔مَرَرْتُ بِزَیْدِنِ الْفَاضِلِ ۔۳۔قَامَ الرَّجُلُ الْعَالِمُ أَخُوْہٗ۔۴۔رَأَیْتُ رَجُلَیْنِ نَادِمَیْنِ۔۵۔اِنَّ الرَّجُلَ الْعَالِمَ أَفْضَلُ مِنَ الْعَابِدِ ۔۶۔أُحِبُّ وَلَدًا مُجْتَھِدًا۔۷۔رَاٰی زَیْدٌ شَجَرَۃً طَوِیْلَۃً۔۸۔اِشْتَرَیْتُ أَقْلاَماً جَدِیْدَۃً۔۹۔فِی الْمَدِیْنَۃِ رِجَالٌ صَالِحُوْنَ ۔۰۱۔رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہَذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا۔۱۱۔اَلْاَوْلَادُ السَّابِحُوْنَ قَائِمُوْنَ عَلٰی شَاطِئِی النَّھْرِ ۔۲۱۔جَائَ نِیْ رَجُلٌ عَالِمَۃٌ بِنْتُہٗ۔
سوال2:۔مذکورہ بالا جملوں میں صفت کے استعمال سے کیا فائدہ حاصل ہوا ۔
****
سبق نمبر: 40
تاکید کا بیان
تاکید کی تعریف:
تاکیدوہ تابع ہے جو متبوع کی طرف کسی چیزکی نسبت کو پختہ کرنے کے لئے لایا جائے۔ جیسے جَائَ نِیْ زَیْدٌ نَفْسُہٗ(میرے پاس زید بذات خود آیا) یا اس بات کوواضح کرنے کیلئے لایا جاتا ہے کہ حکم متبوع کے تمام افراد کو شامل ہے ۔جیسے فَسَجَدَ الْمَلٰئِکَۃُ کُلُّھُمْ أَجْمَعُوْنَ (تو تمام ملائکہ نے ایک ساتھ سجدہ کیا)۔پہلی مثال میںزید کے آ نے کی نسبت کو نفسُہ نے پختہ کیاجبکہ دوسری مثال میں کلّھم نے تما م ملائکہ کے سجدہ کرنے کو واضح کیا۔جسکی تاکید بیان کی جائے اسے مؤکَّد کہتے ہیں ۔ یاد رہے کہ مؤکَّد اور تاکید کا اعراب ایک جیسا ہوتاہے۔
تاکید کی اقسام
تاکید کی دو قسمیں ہیں۔
۱۔تاکید لفظی ۲۔تاکید معنوی
۱۔تاکید لفظی:
وہ تاکید ہے جس میں لفظ تکرار کے ساتھ لایا جائے ۔جیسے جَائَ نِیْ زَیْدٌ زَیْدٌ ،اِنَّ اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ۔
۲۔تاکید معنوی:
وہ تاکید ہے جو چند مخصوص الفاظ کے لانے سے حاصل ہو ۔وہ الفاظ یہ ہیں۔
نَفْسٌ ،عَیْنٌ ، کِلاَ ،کِلْتَا ،کُلٌّ ،أَجْمَعُ ،أَکْتَعُ ، أَبْتَعُ، أَبْصَعُ
اِن کی تفصیل
۱۔نفس اور عین:
صیغے اور ضمیر کی تبدیلی کے ساتھ واحد ،تثنیہ اور جمع تینوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے جَائَ نِیْ زَیْدٌ نَفْسُہٗ، جَائَ نِیَ الزَّیدانِِ أَنْفُسُھُمَا، اور جَائَ نِیَ الزَّیْدُوْنَ أَنْفُسُھُمْ ۔اسی طرح عَیْنٌ کی مثال جیسے عَیْنُہٗ، أَعْیُنُھُمَا، أَعْیُنُھُمْ ۔مونث کیلئے مونث کی ضمیر لگا کر استعمال کرتے ہیں۔ جیسے جَائَ نِیْ ھِنْدٌ نَفْسُھَا ،جَائَ نِی ھِنْدَانِ أَنْفُسُھُمَا، جَائَ نِی ھِنْدَاتٌ أَنْفُسُھُنَّ اسی پر لفظ عَیْنٌ کو قیاس کریں۔
۲۔ کلا و کلتا :
صرف تثنیہ مذکرو مونث کیلئے استعمال ہوتے ہیں جیسے جَائَ الرَّجُلاَنِ کِلاَھُمَا ،اور جَائَ تِ الْمَرْئَ تَاِن کِلْتَاھُمَا۔
۳۔کل ، اجمع ، اکتع، ابتع، اور ابصع:
واحد اور جمع کیلئے آتے ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہکُلٌّ میں ضمیر متصل کو بدلنا پڑتا ہے جبکہ باقی الفاظ میں صیغوں کو ۔جیسیسَمِعْتُ الْکَلَامَ کُلَّہٗ،جَائَ نِیَ الْقَوْمُ کُلُّھُمْ أَجْمَعُوْنَ أَکْتَعُوْنَ أَبْتَعُوْنَ أَبْصَعُوْنَ،اِشْتَرَیْتُ الرِّزْمَۃَکُلَّھَا جَمْعَائَ ،کَتْعَائَ، بَتْعَائَ، بَصْعَائَ، قَامَتِ النِّسَائُ کُلُّھُنَّ ،جُمَعُ ، کُتَعُ ،بُصَعُ ،بُتَعُ۔
نوٹ :
أَجْمَعُ ،أَکْتَعُ ، أَبْتَعُ اور أَبْصَعُ بھی کُلٌّ کے معنیٰ میں ہیں ۔
تاکید کے چند ضروری قواعد:
*…ضمیر متصل بارز یا مستتر کی تاکید ضمیر مرفوع منفصل سے لائی جاتی ہے خواہ ضمائر موکدہ مرفوع ہوں یا منصوب یا مجرور ، جیسے ضمیر متصل بارز کی مثال ۔ قُمْتُ أَ نَا، مَارَاٰکَ أَنْت أَحَدٌ ، سَلََّمْتُ عَلَیْہِ ھُوَ اور ضمیر متصل مستتر کی مثال أَنْصَحُ أَنَا زَیْدًا۔
*…أَکْتَعُ، أَبْتَعُ، اور أَبْصَعُ یہ تینوں أَجْمَعُ کے تابع ہیں یعنی نہ تو أَجْمَعُ کے بغیر آتے ہیں اور نہ ہی أَجْمَعُ سے پہلے آتے ہیں۔
*…اگر ضمیر مرفوع متصل بارز ومستتر کی تاکید معنوی نَفْسٌ یاعَیْنٌ سے لانی ہوتو پہلے ضمیر مرفوع منفصل سے تاکید لائی جاتی ہے اسکے بعد نَفْسٌ یا عَیْنٌ کا ذکر کیا جاتاہے۔ جیسے قُمْتُ أَنَا نَفْسِیْ ،ضَرَبَ ھُوَ نَفْسُہٗ۔
*…اگر انکے بجائے ضمیر منصوب یا مجرور ہوتو اب نَفْسٌ یا عَیْنٌ کو تاکیدکیلئے براہ راست لا یا جا ئے گا۔ جیسے ضَرَبْتُھُمْ أَنْفُسَھُمْ ،مَرَرْتُ بِہٖ نَفْسِہٖ۔
*…اسم ظاہر کو ضمیر کے ساتھ مؤکد نہیں کر سکتے ۔لہذا یوں کہنا غلط ہو گا، جَائَ زَیْدٌ ھُوَ۔
*…لیکن ضمیر ، ضمیر اور اسم ظاہر دونوں سے مؤکد کی جاسکتی ہے جیسے جِئْتَ أَنْتَ نَفْسُکَ، أَحْسَنْتَ اِلَیْھِمْ أَنْفُسِھِمْ ۔
*…عموما أَجْمَعُ کا استعمال کُلٌّ کے بعد ہوتا ہے جیسے سَجَدَ الْمَلٰئِکَۃُ کُلُّھُمْ أَجْمَعُوْنَ اور بعض اوقات اکیلا بھی آتاہے۔ جیسے جَائَ الْقَوْمُ أَجْمَعُ ۔
*…نَفْسٌ یا عَیْنٌ سے تثنیہ کی تاکید کرنی ہو تو انکی جمع سے کرینگے، جیسے جَائَ الرَّجُلاَنِ أَنْفُسُھُمَا یا أَعْیُنُھُمااور نَفْسَاھُمْا یا عَیْنَاھُمَا نہیں کہیں گے۔
*…نَفْسٌ کی جگہ عَیْنٌ بھی بولا جاتاہے۔کُلٌّ کی جگہ جَمِیْعٌ بھی آسکتاہے ،جیسے رَأَیْتُ زَیْدًا نَفْسَہٗ ،عَیْنَہٗ، اور جَائَ الْقَوْمُ کُلُّھُمْ، جَمِیْعُھُمْ ۔
*…کبھی جَمِیْعٌ بغیر اضافت کے استعمال ہوتا ہے اسوقت وہ بجائے تاکید کے حال واقع ہوتاہے ۔جیسے جَائَ الْمُسْلِمُوْنَ جَمِیْعًا ۔
*…تاکید لفظی میں بعینہ سابقہ لفظ کا اعادہ ضروری نہیں ۔بلکہ ما قبل کا ہم معنی لفظ بھی لایا جاسکتاہے۔ جیسے أَتیٰ جَائَ زَیْدٌ، اورضَرَبْنَا نَحْنُ۔
*…اگر کسی اسم ظاہر کے بعد نَفْسٌ یا عَیْنٌ حر ف جر باء کی وجہ سے مجرور نظر آئے تو وہ باء ہمیشہ زائدہ ہوگی ، اور مابعد اسم براہ راست تاکید بنے گا۔جیسے جَائَ زَیْدٌ بِنَفْسِہٖ، بِعَیْنِہٖ۔
*****
مشق
سوال1:۔درج ذیل جملوں میں موجود موکد تاکید کی پہچان کریں ۔
۱۔الصَّحابَۃُ کُلُّھم عَدُوْلٌ۔ ۲۔رَغِبْتَ أنْتَ نَفُْسُک فی الْخیر۔ ۳۔رَأَیْتُ رَجُلَیْنِ أَنْفُسَھُمَا۔۴۔اِنّ الشّمْس اِنّھا قَاتِلۃ للْجَراثیم۔ ۵۔وَالصَّلٰوۃُ عَلَی النَّبِیِّ وَآلِہٖ أَجْمَعِیْنَ۔۶۔کُنْتَ أَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ۔ ۷۔حَدَّثَنِیَ الْوَزِیْرُ نَفْسُہٗ۔۸۔دَخَلَ زَیْدٌ بِعَیْنِہٖ۔۹۔جَائَ النِّسَائُ أکرَمتُ کُلَّھُنَّ۔۰۱۔ذَھَبَ الْقَوْمُ أَجْمَعُ أَکْتَعُ أَبْتَعُ أَبْصَعُ ۔۱۱۔فَسَجَدَ الْمَلٰئِکَۃُ کُلُّھُمْ أَجْمَعُوْنَ۔ ۲۱۔اِشْتَرَیْتُ الْعَبْدَ کُلَّہٗ۔۳۱۔کَذَبَ عَمْرٌو بِنَفْسِہٖ۔۴۱۔مَاتَ الْقَوْمُ جَمِیْعُھُمْ۔۵۱۔أَحْسَنَ اِلَیْھِمْ أَنْفُسِھُمْ۔
سوال2:۔مذکورہ بالا جملوں کی نحوی ترکیب کریں ۔
****
سبق نمبر: 41
عطف بحرف (معطوف) اور عطف بیان
معطوف کی تعریف:
معطوف وہ تابع ہے جو حرف عطف کے بعد واقع ہو اور تابع ومتبوع دونوں مقصود بالنسبۃہوں۔ تابع کو معطوف اور متبوع کو معطوف علیہ کہتے ہیں ، جیسے جَائَ نِیْ زَیْدٌ وَعَمْرٌو۔ میں زَیْدٌ معطوف علیہ اور عَمْرٌو معطوف ہے۔
نوٹ:
تابع اور متبوع دونوں مقصود بالنسبۃ تو ہونگے لیکن ضروری نہیںکہ دونوں کی طرف نسبت کی نوعیت بھی ایک ہو جیسے جَائَ نِیْ زَیْدٌ لاَ عَمْرٌو، یہاں زَیْدٌ کی طرف آنے کی اور عَمْرٌو کی طرف نہ آنے کی نسبت کی گئی ہے۔ اور یہاں یہ مقصود بھی تھا کہ زَیْدٌ کی طرف آنے کی نسبت کی جائے اور عَمْرٌو سے اسکی نفی کی جائے لہذا یہ دونوں مقصود بالنسبۃ ہوئے اگرچہ نسبت کی نوعیت مختلف ہے۔
حروفَِ عطف دس ہیں :
۱۔ واؤ ۲۔ فاء ۳۔ ثُمَّ ۴۔ حتٰی ۵۔ أَو۶۔اِمَّا ۷۔ اَمْ ۸۔ لاَ۹۔ بَلْ ۰۱۔لٰکِنْ
معطوف کے چندضروری قواعد:
*…اسم کاعطف اسم پر،فعل کا فعل، حرف کا حرف،مفرد کا مفرد، جملے کاجملے ، نیز عامل کا عامل ، اور معمول کا معمول پر ہوتا ہے۔
*…جملہ اسمیہ کا عطف جملہ اسمیہ پر اور فعلیہ کا فعلیہ پر مناسب ہوتا ہے لیکن برعکس بھی جائز ہے۔ جیسے جَائَ زَیْدٌ وَ عَلِیٌّ ذَھَبَ۔
*…اسم ظاہر کا عطف اسم ظاہر یااسم ضمیر پر اور اسم ضمیر کا عطف اسم ضمیر یا اسم ظاہر پر جائزہے۔ جیسے جَائَ زَیْدٌ وَعَمْرٌو، جَائَ زَیْدٌ وَأَنْتَ ، مَاجَائَ نِیْ اِلاَّ أَنْتَ وَعَلِیٌّ اور أَنَا وَأَنْتَ صَدِیْقَانِ۔
*…بسا اوقات جملے کے شروع میں واقع ہونے والی وائو عطف کی غرض سے نہیں آتی بلکہ استیناف کیلئے آتی ہے ۔ جیسے وَقَالُوْا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا اس وقت اسے وائو مستانفہ ااورجملے کو جملہ مستانفہ کہتے ہیں ۔
*…ضمیر مرفوع متصل بارز یا مستتر پر عطف کرنا ہوتو پہلے ضمیر مرفوع منفصل کے ساتھ اسکی تاکید لا نا ضروری ہے۔ جیسے نَجَوْتُمْ اَنْتُمْ وَ مَن مَّعَکُمْ (تم نے اور تمھارے ساتھیوں نے نجات پائی)أُسْکُنْ أَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ۔
*…ضمیر مجرور پر عطف کرناہو توعموما حرف جر کا اعادہ کیا جاتاہے۔ جیسے مَرَرْتُ بِہٖ وَبِزَیْدٍ اور بعض اوقات اعادہ نہیں کیا جاتا ،جیسے قرآن پاک میں وَکُفْرٌ بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَََرَامِ آیا ہے۔
فائدہ :
بعض عبارتوں میں عطف کی یہ نشانیاں ہوتی ہیں ۔ عط عط یا عف عف ۔
عطفِ بیان کی تعریف:
وہ تابع ہے جو صفت تو نہ ہو لیکن صفت کی طرح اپنے متبوع کو واضح کرے یہ اپنے متبوع سے زیادہ مشہور ہوتا ہے۔ جیسے أَقْسَمَ با اللّٰہِ أَبُوْ حَفْصِ عُمََََرُ۔ اس مثال میں عمرتابع ہے جس نے متبوع ابوحفص کوواضح کیا۔ اور قَالَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ أَبُوْھُرَیْرَۃَ، تابع کو عطف بیان اور متبوع کومبیَّن کہتے ہیں ۔
عطفِ بیان کے چند ضروری قواعد:
*…اگر کنیت اور علم ایک ساتھ آجائیں توان میں سے مشہور کو عطف بیان بنائیں جیسے مذکورہ بالا مثالوں میںپہلی میں عُمَرُ اور دوسری میں أَبُوْھُرَیْرَۃَ عطف بیان ہیں۔
*…اگر متبوع معرفہ ہو تو عطف بیان اسکی وضاحت کرتاہے جیسے مذکورہ مثالیں اورنکرہ ہو تو اسکی تخصیص کا فائدہ دیتاہے۔ جیسے وَیُسْقٰی مِنْ مَّائٍ صَدِیدٍ۔(اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا) اس مثال میں صدید عطف بیان نے ماء متبوع کی تخصیص کی۔
*…عطف بیان تخصیص اور ازالہ وہم کیلئے بھی آتاہے جیسے أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اور اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعَالٰمِیْنَ رَبِّ مُوْسٰی وَھَارُوْنَ۔
وضاحت:
طَعَامُ مَسٰکِیْنَنے کفارہ کی اقسام میں طعام کو خاص کردیا ہے اور لفظ رَبِّ مُوْسیٰ وَھَارُوْنَ نے فرعون پر ایمان لانے اور اسکے دعوائے ربوبیت کا ازالہ کیا ہے۔
*****
مشق
سوال1:۔مندرجہ ذیل جملوں میں معطوف ،معطوف علیہ ،مبین اور عطف بیان کی پہچان کریں۔
۱۔تَوَضَّأَ زَیْدٌ وَعَلِیٌّ۔۲۔قَالَ أَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍرضی اللّٰہ عنہ ۔۳۔أَکَلْتُ الطَّعَامَ وَشَرِبْتُ الْمَائَ ۔۴۔نَحْنُ مُقَلِّدُوالاِمَامِ الأَعْظَمِ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ۔۵۔مِنْ وَ اِلٰی مِنَ الْحُرُوْفِ الْجَارَّۃ۔ ۶۔نُحِبُّ أَمِیْرَ أَہْلِ السُّنَّۃِ مُحَمَّداِلْیَاس الْعَطَّار الْقَادَرِیّ الرَّضَوِیّ ( مدظلہ العالی ) ۔۷ ۔ضَرَ بَنِیْ وَأَکْرَمَنِیْ زَیْدٌ۔۸۔أَصَابَ زَیْدٌ وَأَخْطَأَ عَمْرٌو۔۹۔حسَابُ الدُّنْیا یَسِیْرٌ و حِسِابُ الاٰخرَۃ غیْرُ یَسیرٍ ۔۰۱۔کُنْتَ أَنْتَ الرَّقِیْبَ ۔۱۱۔أَنَا وَأَنْتَ وَزَیْدٌ أَصْدِقَائُ۔ ۲۱۔یُوقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُبَارَکَۃٍ زَیْتُونَۃٍ۔
سوال2:۔مذکورہ بالا جملوں کا ترجمہ کریں ۔
****
سبق نمبر: 42
بدل کا بیان
بدل کی تعریف:
بدل وہ تابع ہے جو خود مقصود بالنسبت ہو اور اسکا متبوع بطور تمہید آیا ہو جیسے جَائَ السلطانُ مَحْمُوْدٌ (سلطان محمود آیا) ، اس میں آنے کی اصل نسبت محمود کی طرف ہے جوکہ بدل ہے اور السطان محض تمہیدا لایا گیا ہے۔ متبوع کو مبدل منہ اورتابع کو بدل کہتے ہیں۔
بدل کی اقسام
بدل کی چار اقسام ہیں۔
۱۔بدلِ کل ۲۔ بدلِ بعض ۳۔ بدلِ اشتمال ۴۔ بدلِ غلط
۱۔بدل کل کی تعریف:
جب بدل اورمبدل منہ دونوں کا مدلول ایک ہو تو ایسے بدل کو بدل کل کہتے ہیں۔جیسے جَائَ زَیْدٌ صَدِیْقُکَ۔(تیرا دوست زید آیا)
۲۔بدل بعض کی تعریف:
جب بدل کا مدلول مبدل منہ کے مدلول کابعض ہو تو ایسے بدل کو بدل بعض کہتے ہیں۔ جیسے أکلتُ البطیخۃَ ثُلثَھا ( میں نے خربوزے کا تیسرا حصہ کھایا)
۳۔بدل اشتمال کی تعریف:
جب بدل مبدل منہ کا نہ کل ہو اورنہ جز بلکہ اسکا مبدل منہ سے کچھ تعلق ہو۔ جیسے بَھَرَنی عُمَرُ عَدْلُہٗ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عدل نے مجھے حیران کردیا)
۴۔بدل غلط کی تعریف:
جب مبدل منہ کو غلطی سے ذکر کر دیا جائے پھر اس غلطی کے ازالے کیلئے جو بدل لایا جائے اسے بد ل غلط کہتے ہیں ۔ جیسےإِشْتَرَیْتُ الْبَرَّایَۃَ الْمِمْحَاۃَ (میں نے شارپنر نہیں بلکہ ربڑ خریدا)۔
بدل کے چند ضروری قواعد:
*…بدل غلط میں متبوع کوتمہید کے طورپر عمدا ذکر نہیں کیا جاتا بلکہ اسکا صدور سہوا یا خطأ ہوتاہے۔
*…مبدل منہ اور بدل میں تعریف وتنکیر کے اعتبار سے مطابقت ضروری نہیں لہذا ایسا ہوسکتا ہے کہ مبدل منہ معرفہ اوربدل نکرہ ہو جیسے جَائَ زَیْدٌ غُلاَمٌ لَکَ ، یا برعکس جیسے جَائَ غُلاَمٌ لَکَ زَیْدٌ، یادونوں نکرہ جیسے جَائَ نِیْ رَجُلٌ غُلاَمٌ لَکَ۔
*…مبدل منہ اور بدل دونوں اسم ظاہربھی ہوسکتے ہیں جیسے مذکورہ مثالیںاور اسم ضمیر بھی جیسے زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ اِیَّاہُ یا ایک اسم ظاہر دوسرا ضمیر جیسے مَرَرْتُ بہٖ زیدٍ۔ (میں زید کے پاس سے گزرا)
*…ضمیر متکلم و مخاطب کا بدلِ کل نہیں آتا کیونکہ یہ بہت واضح ضمائر ہیں لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ مررتَ بِی بِزیدٍ ومررتُ بِکَ بِعَمْروٍ۔ہاں بدلِ بعض آ سکتا ہے جیسے اِشْتَرَیْتُکَ نِصْفَکَ (میں نے تجھے آدھے کو خریدا)، أَوْ اِشْتَرَیْتَنِیْ نِصْفِی (تو نے مجھے آدھے کو خریدا)۔
*…معرفہ کا بدل نکرہ لانے کیلئے نکرہ کی صفت لانا ضروری ہے جیسے مَرَرْتُ بِزَیْدٍ رَجُلٍ عَالِمٍ ،بِالنَّاصِیَۃِ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ ۔
*…بدل بعض اور بدل اشتمال دونوں ایک ایسی ضمیر کی طر ف مضاف ہوتے ہیں جو مبدل منہ کی طرف لوٹتی ہے۔عََالَجَ الطَّبِیْبُ الْمَرِیْضَ رَاسَہُ(طبیب نے مریض کے سر کا علاج کیا)
*…اسم اسم سے ،فعل فعل سے،اورجملہ جملے سے بدل بنتاہے۔ اورکبھی کبھی جملہ مفرد سے بھی بدل بن جاتاہے ۔
*****
مشق
سوال1:۔مندرجہ ذیل جملوں میں موجود بدل کی پہچان کریں نیز بتائیں کہ یہ بدل کی کس قسم سے تعلق رکھتا ہے ؟
۱۔ رَأَیْتُ زَیْدًا أَخَاکَ۔۲۔أَکَلْتُ التُّفَّاحَ الرُّمَّانَ ۔۳۔ضَرَبْتُ السَّارِقَ رَأْسَہٗ۔۴۔صَلَّیْتُ فِی الْمَطْبَخِِ الْمَسْجِدِ۔۵۔اَعْجَبَنِی الرَّجُلُ عِلْمُہ۔ ۶۔خَابَ الْکَافِرُ مَکْرُہٗ۔۷۔زُرْتُ عَالِمًا أُسْتَاذَکَ۔۸۔یُکَذِّبُ الْمُنَافِقُ بِالْقُرْآنِ اٰیَاتِہ۔۹۔جَائَ النَّاسُ أَھْلُ مَکَّۃَ ۔۰۱۔أُتْلُوْا الْقُرْآنَ سُوْرَۃَ الْمُلْکِ۔۱۱۔یَأْکُلُ خَالِدُن الطَّعَامَ الْفَطُوْرَ۔۲۱۔أَسْتَیْقِظُ لَیْلاً صَبَاحًا۔۳۱۔مَرَرْتُ بِزَیْدٍ رَجُلٍ ذَکِیٍّ ۔
****
سبق نمبر: 43
ترخیم واستغاثہ وندبہ کا بیان
ترخیم کی تعریف:
منادٰی کے آخری حرف کوتخفیف کے لئے گرادینے کو ترخیم کہتے ہیں۔اور ایسے منادٰی کو منادٰی مرخم کہتے ہیں۔ جیسے یَامَالِکُ سے یَا مَالُ اور یَا حَارِثُ سے یَاحَارُ ۔
ترخیم کی شرائط:
ترخیم کی شرائط یہ ہیں۔
۱۔منادٰی مضاف نہ ہو ۔
۲۔تین حروف سے زائد ہو۔چنانچہ عُمَرُ میں ترخیم نہیںہوسکتی۔
۳۔ مبنی بر ضمہ ہو۔
منادٰی مرخم کا اعراب:
ترخیم کے بعد منادٰی کو اصل حرکت کے مطابق مضموم بھی پڑھ سکتے ہیں اور اس حرکت کے ساتھ بھی جو فی الحال آخری حرف پر موجود ہے۔جیسے یا فاطمۃُ کو یا فَاطِمُ اور یا فاطِمَ ۔
منادٰی کی صورتیں :
منادٰی کی دو صورتیں اورہیں۔
۱۔ استغاثہ ۲۔ ندبہ
۱۔استغاثہ:
مصیبت کے وقت کسی کو مدد کیلئے نداء کرنا ،استغاثہ کہلاتاہے۔ جیسے یَالَلْقَوِیِّ لِلضَّعِیْف(اے قوت والے ضعیف کی خبرلے)اور جس سے مدد طلب کی جائے اسے مستغاث کہتے ہیں۔ اور جس کے لئے مدد لی جائے اسے مستغاث لہ کہتے ہیں۔مذکورہ مثال میں قوي مستغاث اور ضعیف مستغاث لہ ہے۔
مستغاث کا اعراب:
۱۔ جب مستغاث سے پہلے لام استغاثہ ہو تومستغاث مجرور ہوتاہے۔ جیسے یَالَلأَمِیْرِ لِلْفَقِیْرِ۔
فائدہ:
یادرہے کہ لام استغاثہ مفتوح ہوتاہے(۱) بشرطیکہ یہ حرف نداء کے ساتھ ہو ورنہ مجرور ہوگا۔
۲۔کبھی لام استغاثہ کی بجائے مستغاث کے آخر میں الف استغاثہ بڑھادیا جاتاہے۔ اس وقت مستغاث مفتوح ہوتاکیونکہ الف اپنے ماقبل فتحہ چاہتاہے۔ جیسے یَا مُحَمَّدَا۔
۲۔ندبہ:
کسی مردے یا مصیبت پر پکار کر رونے کو ندبہ کہتے ہیں ۔ جیسے وَازیدُ (ہائے زید)۔ جس پر رویا جائے اسے مندوب کہتے ہیں۔کبھی مندوب کے آخر میںہائے وقف لگا دی جاتی ہے۔ جیسے وَامُصِیْبَتَاہْ (ہائے مصیبت) ۔
تنبیہ:
حرفِ ندبہ واؤ، مندوب کے ساتھ ہی خاص ہے۔ جبکہ یا منادٰی اورمندوب دونوں میں مستعمل ہے۔
*****
مشق
سوال1:۔مندرجہ ذیل جملوں میں موجود مناٰدی مرخم،مستغاث اور مندوب کی پہچان کریں۔
۱۔وَامُصِیْبَتَاہ۔۲۔یَامَنْصُ۔۳۔یَالَلطَّبِیْبِ لِلْمَرِیْضِ ۔۴۔یَامُحَمَّدَا۔ ۵۔وَامَحْمُودُ۔۶۔یَا حَارُ ۔۷۔یَا جعفَ۔۸۔ یَا لَلْجَوَادِ لِلْمِسْکِیْنِ۔۹۔یَا قَوْمَا۔ ۰۱۔وَا رَجُلاَہ۔
****
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع