30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سبق نمبر: 12
اقسام مرکب کابیان
مرکب کی دو قسمیں ہیں: ۱۔مرکب مفید ۲۔ مرکب غیر مفید
۱۔مرکب مفید کی تعریف:
وہ مرکب جس کے سننے سے کوئی خبر یاطلب معلوم ہو۔جیسے : زَیْدٌ وَلَدٌ نَجِیْبٌ (زید ایک شریف لڑکا ہے) اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ (نماز قائم کرو )۔اسے ’’جملہ‘‘، ’’کلام‘‘، ’’مرکب تام‘‘ اور’’ مرکب اسنادی ‘‘بھی کہتے ہیں۔
۲۔مرکب غیر مفید کی تعریف:
وہ مرکب جس کے سننے سے کوئی خبر یا طلب معلوم نہ ہو۔جیسے: سَائِقُ السَّیَّارَۃِ (گاڑی کا ڈرائیور) رَجُلٌ صَالِحٌ (نیک مرد) اسے ’’مرکب ناقص ‘‘ اور ’’مرکب غیراسنادی ‘‘بھی کہتے ہیں۔
فائدہ:
ایک کلمے کی دوسرے کلمے کی طرف اس طرح نسبت کرنا کہ سننے والے کو پورا فائدہ حاصل ہو’’اسناد ‘‘کہلاتا ہے۔ جس کی طرف نسبت کی جائے اسے ’’مسند الیہ‘‘ اور جس کی نسبت کی جائے ’’اسے مسند ‘‘کہتے ہیں ۔ جیسے: زَیْدٌ کَاتِبٌ میں کاتب کی جو نسبت زید کی طرف ہے اسے اسناد ، کاتب کو مسند اور زید کو مسند الیہ کہیں گے ۔
مرکب مفید کی اقسام
مرکب مفید کی تقسیم دو اعتبار سے ہے:
تقسیمِ اول:… صدق و کذب کا احتمال ہونے یا نہ ہونے کے اعتبارسے ۔اس اعتبارسے مرکب مفید کی دو قسمیںہیں: ۱۔ جملہ خبریہ ۲۔جملہ انشائیہ.
۱۔جملہ خبریہ کی تعریف:
وہ مرکب تام جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جاسکے۔جیسے: زَیْدٌ ذَکِیٌّ (زیدذہین ہے)۔اسے ’’خبر‘‘ بھی کہتے ہیں۔
توضیح:
اگر واقعی زیدذہین ہوتو اس کے کہنے والے کو سچا کہیںگے ورنہ اسے جھوٹاکہاجائے گا۔
۲۔جملہ انشائیہ کی تعریف:
وہ مرکب تام جس کے کہنے والے کو سچایا جھوٹانہ کہا جاسکے جیسے: اِضْرِبْ (تو مار)، اسے ’’انشائ‘‘ بھی کہتے ہیں۔
توضیح:
اگرکسی نے کہا’’تومار‘‘ تواس کہنے والے کو یہ بھی نہیںکہہ سکتے کہ تونے سچ کہااور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تونے جھوٹ بولا۔
جملہ انشائیہ کی اقسام
جملہ انشائیہ کی مشہو ربارہ اقسام ہیں۔
(۱)…امر(۲)…نہی(۳)…استفہام(۴)…تمنی(۵)…ترجی (۶)…عقود(۷)…قسم(۸)…دعا(۹)…ندائ(۱۰)…عرض
(۱۱)…تعجب (۲۱)… مدح وذم.
تقسیمِ ثانی:…فعل اور فاعل یامبتدأ وخبر سے مرکب ہونے کے اعتبارسے بھی مرکب مفید کی دو قسمیں ہیں: ۱۔جملہ فعلیہ ۲۔جملہ اسمیہ.
مرکب غیر مفید کی اقسام
مرکب غیر مفید کی پانچ اقسام ہیں: ۱۔ مرکب اضافی ۲۔ مرکب توصیفی ۳۔ مرکب تعدادی ۴۔مرکب مزجی ۵۔مرکب صوتی.
*****
مشق
سوال نمبر 1 : مرکب مفید اور غیر مفید الگ الگ کریں۔
۱۔ زَمِیْلُ زَیْدٍ (زید کا کلاس فیلو ) ۲۔ زَیْدٌنَشِیْطٌ ( زیدچست ہے ) ۳۔ جَاء رَفِیْقِیْ ( میرا ساتھی آیا) ۴۔ طِفْلٌ صَغِیْرٌ (چھوٹا بچہ ) ۵۔ ھُوَ أُسْتَاذٌ (وہ استاد ہے) ۶۔ أَحَدَ عَشَرَ (گیارہ) ۷۔ مَنْ یَّفْرُطْ فِیْ الْاَکْلِ یَتْخَمْ (جو زیادہ کھائے گا اسے بد ہضمی ہو گی) ۸۔ مَنْ أَبُوْکَ ؟ ۹۔ کِتَابُ طِفْلٍ ۰۱۔ اَلرَّجُلُ الشُجَاعُ ۱۱۔ یَا زَیْدُ ۲۱۔ أَ زَیْدٌ قَائِمٌ ؟
****
سبق نمبر: 13
مرکب اضافی کا بیان
مرکب اضافی کی تعریف:
وہ مرکب ناقص جس میں ایک کلمہ کی اضافت دوسرے کلمہ کی طرف ہو۔ جیسے: وَلَدُ زَیْدٍ۔
فوائد وقواعد:
۱۔ جس اسم کی اضافت کی جائے اسے’’ مضاف‘‘ اورجس کی طرف اضافت کی جائے اسے ’’مضاف الیہ‘‘ کہتے ہیں ۔ جیسے: مِشْبَکُ زَیْد ٍ(زید کا کلپ) میں مِشْبَکُ کی اضافت زَیْدٍ کی طرف کی گئی ہے لہذا مِشْبَکُُ مضاف اور زَیْدٍ مضاف الیہ ہے۔
۲۔عربی زبان میں پہلے مضاف آتاہے پھر مضاف الیہ ۔جیسے اوپر کی مثالوں میں۔
۳۔ مرکب اضافی کااردو ترجمہ کرتے وقت پہلے مضاف الیہ کا ترجمہ کریں گے پھر مضاف کا ۔
۴۔ مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان اردو ترجمہ کرتے وقت عموماً لفظ(کا،کی،کے یارا،ری ،رے )وغیرہ آتے ہیں۔ جیسے : مُسْتَشْفٰی زَیْدٍ (زید کا ہسپتال) أَطْفَالُ مَدْرَسَۃٍ (مدرسے کے بچے) کِتَابُ زَیْدٍ (زید کی کتاب) قَلَمِیْ (میرا قلم)۔
۵۔ مضاف پر نہ تو تنوین آتی ہے اور نہ ہی الف لام داخل ہوتاہے۔
۶۔ مضاف کا اعراب عامل کے مطابق ہوتاہے اور مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے۔
۷۔ مضاف الیہ پر تنوین بھی آسکتی ہے اور الف لام بھی داخل ہوسکتا ہے بشرطیکہ وہ خود کسی اور اسم کی طرف مضاف نہ ہو۔ جیسے: مِنْشَفَۃُ الرَّجُلِ، مِنْشَفَۃُ رَجُلٍ۔ (آدمی کا تولیہ)
۸۔ مرکب اضافی پوراجملہ نہیں ہوتا بلکہ جملہ کا جز بنتا ہے۔ جیسے: عَیْنُ زَیْدٍ حَسَنَۃٌ۔ (زید کی آنکھ اچھی ہے)۔ اس جملے میں عَیْنُ زَیْدٍٍ جو مرکب اضافی ہے ، مبتدا بن رہا ہے ،اور حَسَنَۃٌ اس کی خبر ہے۔
۹۔ مندرجہ ذیل الفاظ عموماً مضاف ہو کرہی استعمال ہوتے ہیں:
کُلٌّ، بَعْضٌ، عِنْدَ، ذُوْ، أُولُوْ، غَیْرُ، دُوْنَ، نَحْوُ، مِثْلُ، تَحْتُ، فَوْقُ، خَلْفُ، قُدَّامُ، قَبْلُ، بَعْدُ، حَیْثُ، أَمَامُ، مَعَ، بَیْنَ، أَیٌّ، سَائِرٌ، لَدَی، لَدُنْ، وغیرہا۔
۰۱۔ تین سے لیکر دس تک اسماء اعداد اور لفظ مِائَۃٌ (سو) اور أَلْفٌ (ہزار) بھی عموماً مابعد معدود کی طرف مضاف ہوتے ہیں ۔ جیسے: ثَلاثَۃُ أَقْلاَمٍ، مِائَۃُ عَامِلٍ، أَلْفُ دِرْھَمٍ وغیرہ ۔
۱۱۔ اسم کے ساتھ متصل ضمیر ہمیشہ مضاف الیہ ہو گی جیسے: رَبُّہٗ، رَبُّنَا، رَبُّکُمْ وغیرہ۔
۲۱۔ مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان کوئی تیسری چیزحائل نہیںہوسکتی، لہٰذا اگرمضاف کی صفت ذکر کرنامقصود ہو تومضاف الیہ کے بعد ذکرکی جائے گی۔مثلاً کہناہے: ’’مرد کانیک لڑکا‘‘تو اس طرح کہیں گے:’’ وَلَدُ الرَّجُلِ الصَّالِحُ ‘‘ ۔
اوراگر مضاف اورمضاف الیہ دونوں کی صفت بیان کرنامقصود ہے تو مضاف الیہ کے بعد پہلے اس کی اور پھر مضاف کی صفت بیان کی جائے گی ۔مثلاً کہناہے:’’نیک مرد کا نیک بیٹا ‘‘ تو اس طرح کہیںگے: ’’ اِبْنُ الرَّجُلِ الصَالِحِ الصَالِحُ ‘‘ ۔ اور اس بات کی پہچان کہ یہ صفت مضاف کی ہے یا مضاف الیہ کی، اعراب سے ہوگی ۔
۳۱۔ اگرلفظ ابن یا ابنۃ یا بنت ، اَعلام کے درمیان آجائیں تو ما قبل کے لیے صفت اور ما بعد کے لیے مضاف بنیںگے ۔جیسے: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ اور فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمْ۔ پہلی مثال میں اِبْنُ مضاف اپنے مضاف الیہ سے ملکر لفظ مُحَمَّدُ کی صفت بنے گا۔ اور دوسری مثال میں بِنْتُ اپنے مضاف الیہ سے ملکر لفظ فَاطِمَۃُ کی صفت بنے گا۔
۴۱۔ بعض اوقات ایک ترکیب میں ایک سے زائد بھی مضاف اورمضاف الیہ ہوتے ہیں۔ جیسے: قَلَمُ وَلَدِ زَیْدٍ (زید کے لڑکے کاقلم) اس مثال میں قَلَمُ مضاف ہے وَلَدِ کی طرف اور وَلَدِ پھر مضاف ہے زَیْدٍ کی طرف ۔
۵۱۔ اگرمضاف تثنیہ یا جمع مذکر سالم کا صیغہ ہو تو بوقت اضافت اس کے آخر سے نونِ تثنیہ اور نونِ جمع گر جاتا ہے۔ جیسے: صَحْنَا رَجُلٍ (مرد کی دوپلیٹیں) یہ اصل میں صَحْنَانِ تھا ،اضافت کی وجہ سے نون ساقط ہوگیا۔اسی طرح مُسْلِمُوْ بَاکِسْتَانَ (پاکستان کے مسلمان)یہ اصل میں مُسْلِمُوْنَ تھا ۔
۶۱۔نکرہ کی اضافت اگر معرفہ کی طرف ہو تو وہ نکرہ بھی معرفہ بن جاتاہے اور اگر نکرہ کی طرف ہو تو نکرہ مخصوصہ بن جائے گا۔جیسے: مَاکِیْْنَۃُ زَیْدٍ (زید کی مشین) ، مُشْطُ رَجُلٍ۔ (آدمی کی کنگھی)
تنبیہ:
بعض اسماء ’’ مُتَوَغِّل فِی الْاِبْہَام ‘‘ کہلاتے ہیںیعنی ابہام اور پوشیدگی میں بہت غلو کئے ہوئے جیسے لفظ: نَحْوُ، مِثْلُ اور غَیْرُ وغیرہ ان کی اضافت اگرچہ معرفہ کی طرف ہومگرپھر بھی یہ معرفہ نہیں بنتے بلکہ نکرہ ہی رہتے ہیں۔
*****
مشق
سوال نمبر 1 : درج ذیل الفاظ کا ترجمہ کریںاور مضاف اور مضاف الیہ کو الگ الگ کریں:
۱ ۔کِتَابُ خَالِدٍ۔ ۲ ۔اِبْنُ عَلِیٍّ۔ ۳ ۔رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۔ ۴ ۔مِصْعَدُ الْبَنْک ِ(بینک کی لفٹ) ۔ ۵ ۔ثَلاَثـَۃُ أَشْجَارٍ۔ ۶ ۔مِائَۃُ عَامِلٍ۔ ۷ ۔ذُوْمَالٍ۔ ۸ ۔کُلُّ رَجُلٍ۔ ۹ ۔رَبُّنَا۔ ۰۱ ۔أَلْفُ شَھْرٍ۔ ۱۱ ۔غَیْرُ الرَّجُلِ۔ ۲۱ ۔غُلاَما زَیْدٍ۔ ۳۱ ۔مُسْلِمُوْ مِصْرَ۔ ۴۱ ۔أُولُو الاَ لْبَابِ۔ ۵۱ ۔مِثْلُ زَیْدٍ۔ ۶۱ ۔کِتَابُہٗ۔ ۷۱ ۔دَرَّاجَۃُ عَمْرٍو۔ ۸۱ ۔لَیْلَۃُ الْقَدْرِ۔
سوال نمبر 2 : درج ذیل الفاظ کی عربی بنائیں:
۱۔ زید کا سرخ قلم ۲۔ بڑی مسجد کا دروازہ ۳۔ گائے کا دودھ ۴۔ علی کا بیٹا ۵۔ دروازے کی چابی ۶۔ قرآن کی آیت ۷۔ نحو کی کتاب ۸۔ اللہ کابندہ ۹۔ خالد کے دو غلام ۰۱۔ مدینے کے مسلمان ۱۱۔جامعہ کی بڑی عمارت ۲۱۔کرم کا دریا۔
****
سبق نمبر: 14
مرکب توصیفی کا بیان
مرکب توصیفی کی تعریف:
وہ مرکب ناقص جس کا دوسرا جزء پہلے جزء کی صفت( اچھائی ،برائی،مقدار، رنگت وغیرہ) بیان کرے۔ جیسے: رَجُلٌ جَمِیْلٌ، رَجُلٌ قَبِیْحٌ، فُصُوْلٌ ثَلاَ ثَۃٌ، اَلْحَجَرُ الأَسْوَدُ۔
فوائد وقواعد:
۱۔مرکب توصیفی کے پہلے جز ء کو’’ موصوف ‘‘اور دوسرے جزء کو’’ صفت ‘‘کہتے ہیں۔
۲۔ مرکب توصیفی میںپہلا جزء اسمِ ذات(۱)ہو تا ہے اور دوسرا جزء اسمِ صفت۔ جیسے مذکورہ بالامثالوں میںنظر آرہاہے۔
۳۔ دو معرفہ یادو نکرہ اکٹھے آجائیں اور ان میں پہلااسم ذات اور دوسرا اسم صفت ہوتو عموماً پہلاموصوف اور دوسرا صفت ہوتاہے۔ جیسے: اَلرَّجُلُ الْمُجْتَہِدُ، رَجُلٌ مُجْتَہِدٌ۔
۴۔اسم منسوب صفت کے حکم میں ہے، لہٰذا یہ جہاں بھی آئے گاصفت بنے گا چاہے اس کا موصوف مذکورہو یا محذوف ۔جیسے : جَائَ زَیْدُنِ الْبَغْدَادِیُّ، جَائَ بَغْدَادِیٌّ۔
۵۔ ضمیریں نہ موصوف بن سکتی ہیں نہ صفت، اسی طرح علَم بھی کسی کی صفت نہیںبنتا ۔
۶۔ اگرمعدود کے بعد اسم عدد واقع ہوتو اسم عدد صفت بنتاہے۔ جیسے: نَفْخَۃٌ وَاحِدَۃٌ، عُلُوْمٌ ثَلاَ ثَۃٌ۔
۷۔ صفت موصوف سے مقدم نہیں ہو سکتی۔
۸۔ مرکب توصیفی پورا جملہ نہیں ہوتا بلکہ جملہ کا جزء بنتا ہے۔
۹۔ صفت دس چیزوں میں موصوف کے مطابق ہوتی ہے:اِفراد،تثنیہ وجمع میں جیسے: رَجُلٌ عَالِمٌ، رَجُلاَنِ عَالِمَانِ، رِجَالٌ عَالِمُوْنَ، اعراب میںجیسے: رَجُلٌ عَالِمٌ، رَجُلاً عَالِماً، رَجُلٍ عَالِمٍ، تذکیروتانیث میںجیسے: رَجُلٌ عَالِمٌ، اِمْرَأَۃٌ عَالِمَۃٌ، تعریف وتنکیر میںجیسے: اَلرَّجُلُ الْعَالِمُ، رَجُلٌ عَالِمٌ۔
البتہ بیک وقت صرف چار چیزوں میں مطابقت پائی جائے گی: (۱)اِفرادمیں،(۲)اعراب میں، (۳)تذکیر یا تانیث میں اور(۴)تعریف یاتنکیرمیں۔
*****
مشق
سوال نمبر 1 : درج ذیل الفاظ کا ترجمہ کریں اور موصوف ،صفت الگ الگ کریں۔
۱ ۔طِفْلٌ جَمِیْلٌ ۲ ۔بَیْتٌ نَظِیْفٌ ۳ ۔اَلْمَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَۃُ ۴ ۔رَجُلٌ طَوِیْلٌ ۵ ۔کُتُبٌ مُفِیْدَۃٌ ۶ ۔رَجُلاَنِ عَالِمَانِ ۷ ۔رِجَالٌ عَالِمُوْنَ ۸ ۔بَابَانِ مَفْتُوْحَانِ ۹ ۔اَلرَّجُلُ الْمُسْلِمُ ۱۰ ۔غُرْفَۃٌ وَاسِعَۃٌ ۱۱ ۔اَلْحَدِیْقَۃُ الْمُثْمِرَۃُ ۱۲ ۔رُمَّانٌ حُلْوٌ۔
سوال نمبر 2 : درج ذیل الفاظ کی عربی بنائیں ۔
۱۔لمبادرخت ۲۔ کھلا ہوا دروازہ ۳۔پھل دار درخت ۴۔ میٹھا سیب ۵۔ بڑاآدمی ۶۔ بہادر آدمی ۷۔ عالمہ عورت ۸۔ دوخوبصورت بچے ۹۔چھوٹے بچے ۱۰۔ کمزور آدمی۔
****
سبق نمبر: 15
بقیہ مرکبات ناقصہ کا بیان
مرکب بنائی کی تعریف:
وہ مرکب ناقص جس کا دوسرا جز ء حرف عطف کو شامل ہو ۔جیسے: أَحَدَ عَشَرَ یہ اصل میں أَحَدٌ وَعَشَرٌ تھا۔ اسے’’ مرکب تعدادی ‘‘بھی کہتے ہیں۔
تنبیہ:
مرکب بنائی کے دونوں جز ء مبنی بر فتحہ ہوتے ہیں سوائے اِثْنَا عَشَرَ کے؛ کہ اس کا دوسراجزء تو مبنی بر فتح ہی ہوتاہے مگرپہلاجزء معرب ہوگا،اس کی حالت رفعی الف سے اور حالت نصبی وجری یاء سے آئے گی۔جیسے: ہٰذِہِ اثْنَاعَشَرَ کِتَاباً، رَأَیْتُ اثْنَيْ عَشَرَ کِتَاباً۔
مرکب منع صرف کی تعریف:
وہ مرکب جس میں دو کلمات کو بغیراضافت اور اسناد کے ملا کر ایک کردیاگیاہواور ان میںدوسراکلمہ نہ صوت ہو اورنہ کسی حرفِ عطف کو متضمن ہو ۔ جیسے: بَعْلَبَکُّ (1) ۔ اسے ’’مرکب مزجی‘‘ بھی کہتے ہیں۔
تنبیہ:
مرکب منع صرف کا پہلا جزء مبنی بر فتحہ اور دوسراجز ء معرب باعراب غیرمنصرف ہوتاہے۔
مرکبِ صوتی کی تعریف:
وہ مرکب ناقص جس سے کسی جاندار کو بلایا جائے یاجانداریابے جان کی آواز کو نقل کیا جائے۔جیسے: نِخْ نِخْ ( اونٹ کو بٹھانے کی آواز) غَاقِ غَاقِ ( کوے کی آواز) ۔
تنبیہ:
یہ تمام مرکبات ناقصہ مکمل جملہ نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ جملے کاجزء بنتے ہیں۔
*****
مشق
سوال نمبر 1 : درج ذیل میں سے مرکب تعدادی، مرکب مزجی اور مرکب صوتی علیحدہ علیحدہ کریں۔
۱ ۔أَحَدَ عَشَرَ ۲ ۔بَعْلَبَکُّ ۳ ۔غَاقِ غَاقِ ۴ ۔نِخْ نِخْ ۵ ۔ثَلاَ ثَۃَ عَشَرَ ۶ ۔سِیْبَوَیْہِ ۷ ۔أُحْ أُحْ ۸ ۔مَعْدِیْکَرِبُ ۹ ۔ثَلٰثٌ وَعِشْرُوْنَ ۰۱ ۔حَضْرَ مَوْت۔
****
سبق نمبر: 16
جملۂ اسمیہ کا بیان
جملۂ اسمیہ کی تعریف:
وہ جملہ جو مبتدأ اور خبر سے مرکب ہو۔جیسے: زَیْدٌ عَاقِلٌ، زَیْدٌ فَحَصَ الْمَرِیْضَ (زید نے مریض کا معائنہ کیا)۔
مبتدأ وخبرکے بعض احکام:
۱۔ وہ اسم جو عوامل لفظیہ سے خالی ہو اگر مسند الیہ ہو تواسے ’’مبتدأ ‘‘اوراگر مسند ہوتواسے ’’خبر‘‘ کہتے ہیں ۔جسے مذکورہ بالامثالوں میں لفظ زَیْدٌ مبتدأ جبکہ عَاقِلٌ اور فَحَصَ الْمَرِیْض خبر ہیں۔
۲۔ مبتدا ٔا کثر معرفہ اور خبر اکثر نکرہ ہوتی ہے۔ جیسے: زَیْدٌ عَالِمٌ ، کبھی نکرہ مخصوصہ بھی مبتدأ بن جاتا ہے ۔جیسے: طِفْلٌ صَغِیْرٌ جَمِیْلٌ (چھوٹا بچہ خوبصورت ہے)۔
۳۔ ایک مبتدا ٔکی کئی خبریں بھی ہو سکتی ہیں ۔جیسے: زَیْدٌ عَالِمٌ فَاضِلٌ صَالِحٌ۔
۴۔ فعل مضارع اَنْ کے ساتھ ہو اور اس کے بعد کوئی اسم نکرہ آجائے تو فعل مضارع کو مصدرکی تاویل میں کر کے مبتدأ بنائیںگے اور اسم نکرہ کو خبر۔ جیسے: اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَکُمْ (تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے) ۔
۵۔ مبتدا ٔکی خبر کبھی مفرد ہوتی ہے اور کبھی جملہ ۔جیسے: زَیْدٌ عَالِمٌ، بَکْرٌ یَأْکُلُ الطَّعَامَ۔ (بکر کھانا کھاتا ہے)۔
۶۔ خبراگر جملہ ہو تواس میں عائد کا ہوناضروری ہے جو مبتدأ کی طرف لوٹے،یہ عائد عموماً ضمیرہوتی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ تذکیرو تانیث اورافرادو تثنیہ وجمع میں مبتدأ کے مطابق ہو۔ جیسے: زَیْدٌ ضَرَبَ، اَلزَیْدَانِ ضَرَبَا، اَلزَیْدُوْنَ ضَرَبُوْا، ہِنْدٌ ضَرَبَتْ۔
۷۔ خبر کبھی ظرف یا جار مجرور بھی ہوتی ہے۔ جیسے: زَیْدٌ فِی الدَّارِ، اَلْکِتَابُ فَوْقَ الدُوْلَابِ (کتاب الماری کے اوپر ہے)۔
۸۔اگر ظرف یا جار مجرور کا متعلَّق عبارت میں لفظاً موجود ہو تو انہیں’’ ظرفِ لغو ‘‘اور اگرلفظاً موجود نہ ہو توانہیں’’ ظرفِ مستقر‘‘کہتے ہیں ۔
۹۔اگر جملے کے شروع میں ظرف یاجار مجرور آجائیں اور بعد میں اسم آرہا ہو توظرف یاجار مجرور ’’خبر مقدم‘‘ اور اسم ’’مبتدأ مؤخر‘‘ کہلائے گا ۔جیسے: فِي الدَّارِ رَجُلٌ۔
مبتدأ وخبرمیں مطابقت کی شرائط:
درج ذیل شرائط کے ساتھ مبتدأ وخبرمیں تذکیروتانیث، وحدت وتثنیہ وجمع کے اعتبار سے مطابقت ضروری ہے:
۱۔جب خبر اسم مشتق یا اسم منسوب ہو ۔جیسے: زَیْدٌ عَالِمٌ ، زَیْدٌ مَدَنِیٌّ۔
۲۔خبرمیں ایسی ضمیر ہوجومبتدأ کی طرف راجع ہو۔جیسے مذکورہ مثالوں میں۔
۳۔خبر اسم تفضیل مستعمل بمِنْ نہ ہو۔
۴۔خبر ایسا صیغہ نہ ہوجو مؤنث کے ساتھ خاص ہو۔
۵۔خبر ایساصیغہ نہ ہوجومذکر ومؤنث میں مشترک ہو۔
لہٰذا آنیوالی صورتوں میں مطابقت ضروری نہیں :
۱۔خبر اسم مشتق یا اسم منسوب نہ ہو۔جیسے: اَلرَّجُلُ أَسَدٌ، اَلْاِمْرَأَۃُ أَسَدٌ۔
۲۔خبر میں ایسی ضمیر نہ ہو جو مبتدأ کی طرف راجع ہو۔ جیسے: اَلْکَلِمَۃُ اِسْمٌ الخ۔
۳۔خبر اسم تفضیل مستعمل بَمِنْ ہو۔جیسے: اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ میں لفظ خَیْرٌ۔
۴۔ خبرایسا صیغہ ہوجوصرف مؤنث کے ساتھ خاص ہو۔ جیسے: اَلْمَرْأَۃُ طَالِقٌ۔
۵۔ خبرایسا صیغہ ہوجومذکر و مؤنث میںمشترک( یکساں مستعمل )ہو۔ جیسے: اَلرَّجُلُ جَرِیْحٌ، اَلْاِمْرَأَۃُ جَرِیْحٌ۔
تقدیمِ مبتدأ کی وجوبی صورتیں:
درج ذیل صورتوں میں مبتدأ کوخبر پر مقدم کرنا واجب ہے:
۱۔ جب مبتدأ اور خبر دونوں معرفہ ہوں ۔جیسے: زَیْدُنِالْمُنْطَلِقُ۔
۲۔ جب مبتدأ خبر دونوں نکرۂ مخصوصہ ہوں۔جیسے: غُلَامُ رَجُلٍ صَالِحٍ خَیْرٌ مِنْکَ۔
۳۔جب خبر جملہ فعلیہ ہو ۔جیسے: زَیْدٌ قَامَ أَبُوْہٗ۔
۴۔جب مبتدأ ایسے کلمے پر مشتمل ہو جسے ابتدائِ کلام میں لانا واجب ہے(2)۔جیسے: مَن أَبُوْکَ ؟
*****
مشق
سوال نمبر 1 : مبتدأ وخبر کی پہچان کریں اور ترجمہ فرمائیں۔
۱ ۔تَدْخِیْنُ السِّیْجَارَۃِ مُضِرٌّ لِلصِّحَّۃِ ۲ ۔رَجُلٌ کَبِیْرٌ قَائِمٌ ۳ ۔اَنْ تَذْھَبُوْا اِلَی الْمَدْرَسَۃِ مُوَاظَبَۃً خَیْرٌ لَکُمْ ۴ ۔فِی الدَّارِ رَجُلٌ ۵ ۔اَلرَّجُلُ أَخُوْہٗ قَائِمٌ ۶ ۔خَادِمُ زَیْدٍ عَاقِلٌ عَالِمٌ فَاضِلٌ ۷ ۔زَیْدٌ بَغْدَادِیٌّ ۸ ۔اَلْمَرْأَۃُ عَالِمَۃٌ ۹ ۔اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ ۱۰ ۔زَیْدٌ قَامَ أَبُوْہٗ ۱۱ ۔مَنْ جَارُکَ ؟ ۱۲ ۔اَلَّذِیْ یَتَنَاوَلُ الْفُطُوْرَ فَلَہٗ رُوَْبِیَّۃٌ۔
سوال نمبر 2 : مندرجہ ذیل جملوں کی ترکیب کریں۔
۱ ۔زَیْدٌ فَاضِلٌ صَالِحٌ ۲ ۔زَیْدٌ فِی الدَّارِ ۳ ۔فِی الدَّارِطَاؤُوْسٌ ۴ ۔رَجُلٌ جَمِیْلٌ جَائَ ۵ ۔فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ النِّسَائِ ۶ ۔حَامِدٌ ذَھَبَ اِلَی الْمَدْرَسَۃِ ۷ ۔اَلْکَاسِبُ حَبِیْبُ اللّٰہِ ۸ ۔اَلْمُؤمِنُ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ ۹ ۔اَلْمُسْلِمُ یَعْبُدُ اللّٰہَ ۱۰ زَیْدٌ یُصَلِّیْ فِی الْمَسْجِدِ ۱۱ ۔زَیْدٌ یَتَعَلَّمُ فِی الْمَدْرَسَۃِ۔
سوال نمبر 3 : درج ذیل جملوں کی عربی بنائیں۔
۱.کاشف مسلمان ہے۔ ۲. عمران مسجد میں ہے ۔ ۳. زید اچھالڑکا ہے ۔ ۴. چھوٹا بچہ ذہین ہے ۔ ۵. عابد حافظ قرآن ہے ۔ ۶. باغ میں پرندے ہیں۔ ۷. اچھا انسان کامیاب ہے۔ ۸.حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نوجوانانِ جنت کے سردارہیں۔ ۹.عاطف بہت نیک بچہ ہے۔ ۱۰. علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔
*…*…*
سبق نمبر: 17
جملہ فعلیہ کابیان
جملہ فعلیہ کی تعریف:
وہ جملہ جو فعل اور فاعل سے مرکب ہو۔ جیسے: جَائَ زَیْدٌ۔
فائدہ:
(۱)فعل کو’’ مسند‘‘ اور فاعل کو’’ مسند الیہ‘‘ کہتے ہیں ۔
(۲)ہر فعل چاہے لازم ہو یا متعدی اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے(۱) اور متعدی ہوتو فاعل کو رفع دینے کے ساتھ ساتھ مفعول بہ کو نصب بھی دیتاہے۔ جیسے: شَرِبَ الْوَلَدُ اللَّبَنَ۔
فاعل کی تعریف:
وہ اسم جس سے پہلے کوئی فعل یا شبہ فعل (اسم فاعل ، صفت مشبہ، اسم تفضیل یا مصدر) آجائے اور وہ فعل یا شبہ فعل اس اسم کے ساتھ قائم ہو۔ جیسے: جَائَ زَیْدٌ، میں زیداور زَیْدٌ ضَارِبٌ أَبُوْہٗ میں أبوہ۔
فاعل کی اقسام
فاعل کبھی اسم ظاہر ہوتاہے ۔جیسے: لَمَعَ الْبَرْقُ (بجلی چمکی) میں الْبَرْقُ اسے ’’ مُظْہَرْ ‘‘ بھی کہتے ہیں.
کبھی اسم ضمیر ہوتاہے خواہ بارز ہو یامستتر۔جیسے: ضَرَبْتُ میں تُ ضمیربارز فاعل ہے اور زَیْدٌ ضَرَبَ میں ھُوَ ضمیر مستتر فاعل ہے،اسے ’’ مُضْمَرْ ‘‘بھی کہتے ہیں۔اور کبھی فاعل مصدر کی تاویل میں ہوتاہے۔جیسے: أَعْجَبَنِیْ أَنْ تَجْتَھِدَ۔ (مجھے تمہارے محنت کرنے نے حیرت میں ڈالا)اس میں أَنْ تَجْتَہِدَ مصدر کی تاویل میں ہوکر فاعل واقع ہورہاہے۔اسی طرح بَلَغَنِیْ أَنَّکَ عَالِمٌ۔ اس میں أَنَّ حر ف مشبہ بالفعل اپنے اسم اور خبر کے ساتھ مل کر فاعل بن رہا ہے۔
فعل کی فاعل کے ساتھ مطابقت کا بیان
درج ذیل صورتوں میں فعل کو مذکر لانا واجب ہے:
۱۔جب فاعل مذکر ہو۔ جیسے: جَلَسَ وَلَدٌ۔
۲۔جب فاعل مؤنث حقیقی ہو لیکن فعل اور فاعل کے درمیان اِلاَّ کا فاصلہ آجائے جیسے: مَا نَصَرَ اِلاَّ فَاطِمَۃُ۔
درج ذیل صورتوں میں فعل کو مؤنث لانا واجب ہے:
۱۔ جب فاعل مؤنث حقیقی ہو اور فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ نہ ہو جیسے: قَالَتْ اِمْرَأَۃٌ۔
۲۔ جب فاعل ضمیر ہو اور مؤنث حقیقی یا غیر حقیقی کی طرف لوٹ رہی ہو۔ جیسے: ھِنْدٌ قَامَتْ، اور اَلشَّمْسُ طَلَعَتْ۔
درج ذیل صورتوں میں فعل کو مذکر ومؤ نث دونوں طرح لاناجائز ہے:
۱۔ جب فاعل مؤنث حقیقی ہو اور فعل وفاعل کے درمیان اِلاَّ کے علاوہ کسی اور کلمے سے فاصلہ آجائے ۔جیسے: جَائَ الْیَوْمَ فَاطِمَۃُ ، اور جَائَ تِ الْیَوْمَ فَاطِمَۃُ۔
۲۔جب فاعل مؤنث لفظی ہو جیسے: طَلَعَ الشَّمْسُ اور طَلَعَتِ الشَّمْسُ۔ اسی طرح اِمْتَلأَ الْحَدِیْقَۃُ بِالأَزْہَارِ اور اِمْتَلأتِ الْحَدِیْقۃُ بِالأَزْہَارِ (باغ کلیوں سے بھر گیا)
۳۔ جب فاعل جمع مکسر ہو ۔جیسے: جَائَ الرِّجاَلُ اور جَائَ ت الرِّجَال ُاسی طرح قَالَ نِسْوَۃٌ اور قَالَتْ نِسْوَۃٌ۔
۴۔ جب فاعل ضمیر ہو اور اس کا مرجع مذکر عاقل کی جمع مکسر ہو ۔ جیسے: اَلرِّجَالُ ذَہَبَتْ اور اَلرِّجَالُ ذَھَبُوْا۔
۵۔ جب فاعل اسم جمع ہو ۔جیسے: جَائَ الْقَوْمُ اور جَائَ تِ الْقَوْمُ۔
تنبیہ:
اجزاء ِکلام کی ترتیب میںاصل یہ ہے کہ پہلے فعل آئے پھر فاعل اوراس کے بعد مفعول آئے ۔جیسے: اَکَلَتِ الْبِنْتُ الْخُبْزَ۔ مگر کبھی مفعول کو (جوازاً یا وجوباً)فاعل پر مقدم کر دیا جاتا ہے ۔ جیسے: أَکْرَمَ عَمْرواً زَیْدٌ۔ اور کبھی فعل پر بھی مقدم کردیا جاتاہے۔ جیسے: زَیْداً ضَرَبْتُ۔ البتہ فعل پر فاعل کی تقدیم جائز نہیں ۔
درج ذیل صورتوں میں فاعل کو مفعول پر مقدم کرنا ضروری ہے:
۱۔ جب فاعل ضمیر مرفوع متصل ہو ۔جیسے : أَکَلْتُ خُبْزاً۔
۲۔ جب فاعل اور مفعول میں اعراب اور قرینہ(۱) دونوں مُنتفِی ہوں جوان میں سے کسی ایک کے فاعل اور ایک کے مفعول ہونے پر دلالت کرے۔جیسے: لَقِیَ مُوْسٰی عِیْسٰی (موسی نے عیسی سے ملاقات کی) ۔ یہاں مُوْسٰی کو فاعل بنانا واجب ہے ۔
۳۔ جب مفعول اِلَّا کے بعد واقع ہورہاہو۔ جیسے: مَا أَکَلَ زَیْدٌ اِلاَّ زُبْدًا (زید نے صرف مکھن کھایا)۔
درج ذیل صورتوں میںمفعول کو فاعل پر مقدم کرنا ضروری ہے:
۱۔جب مفعول ضمیر منصوب متصل ہو اور فاعل اسم ظاہر ہو۔جیسے: جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ۔
۲۔جب فاعل اِلَّا کے بعد واقع ہورہاہو۔جیسے: مَا قَطَفَ الْاَزْھَارَ اِلَّا الْاَوْلَادُ (کلیاں بچوں نے ہی توڑیں)۔
۳۔جب فاعل کے ساتھ ایسی ضمیر متصل ہو جومفعول کی طرف راجع ہو۔جیسے: ضَرَب لِصَّاً رَفِیْقُہٗ (چور کو اس کے دوست نے مارا)۔
فائدہ:
جب فاعل یا مفعول میں سے کسی کووجوباً مقدم کرنے کی صورتوں میں سے کوئی بھی صورت نہ پائی جائے تو ان دونوں میں تقدیم و تاخیر جائز ہے۔جیسے: رَأٰی زَیْدُن الْجَامُوْسَ یا رَأٰی الْجَامُوْسَ زَیْدٌ، أَکَلَ یَحْیٰی الْکُمَّثْرٰی یا أَکَلَ الْکُمَّثْرٰی یَحْیٰی، ضَرَبَتِ الْحُبْلٰی الْفَتٰی یا ضَرَبَتِ الْفَتٰی الْحُبْلٰی۔
فعل، فاعل اور مفعول کا حذف:
۱۔جب حذفِ فعل پرکوئی قرینہ(ایساامر جو فعل محذوف پر دلالت کرے)پایا جائے تو فعل کو حذف کرنا جائز ہے۔ جیسے کوئی سوال کرے: مَنْ جَائَ ؟ اور اس کے جواب میں صرف: زَیْدٌ کہاجائے تو اس سے پہلی جَائَ فعل محذوف ہو گااور زَیْدٌٌ اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہوگا۔اور فعلِ محذوف پر قرینہ سوال ہوگاکیونکہ جوچیز سوال میں مذکور ہوتی ہے وہ جواب میں بھی ملحوظ ہوتی ہے۔
۲۔ اگر فاعل ایسے کلمہ کے بعد آجائے جو صرف فعلوں پر داخل ہوتے ہیں(۱) تو فعل کا حذف کرنا و اجب ہے۔ جیسے آیت کریمہ:{ وَاِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ } یہاں أَحَدٌ سے پہلے اِسْتَجَارَکَ فعل محذوف ہے جس کی تفسیر بعد والا اِسْتَجَاَرَک کررہاہے۔
۳۔ جب سوال کے جواب میںصرف نَعَمْ یا بَلٰی کہا جائے تو سوال میں جوفعل، فاعل اور مفعول مذکور ہوںگے سب محذوف مانے جائیں گے۔ جیسے: أَ أَیْقَظَ زَیْدٌ بَکْراً لِصَلٰوۃِ الْفَجْرِ ؟(کیا زید نے بکر کو نمازِ فجر کے لئے جگایا؟) کے جواب میں نَعَمْ یا بَلٰی کہا تو فعل ،فاعل اور مفعول تینوں محذوف ہوں گے۔
چند ترکیبی قواعد:
۱۔ بذریعہ عطف ایک فعل کے کئی فاعل ہوسکتے ہیں۔ جیسے: جَائَ زَیْدٌ وَبَکْرٌ وَخَالِدٌ۔ میں جَائَ فعل ، زَیْدٌ معطوف علیہ، وائو عاطفہ، بَکْرٌ معطوف اول ،وائو عاطفہ ، خَالِدٌ معطوف ثانی ،معطوف علیہ اپنے معطوفات سے ملکر فاعل ،فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ ۔
۲۔ فعل کافاعل کبھی مفردہوتاہے اورکبھی مرکب توصیفی واضافی وغیرہ۔ جیسے: جَائَ زَیْدٌ میں جَائَ فعل زَیْدٌ فاعل ،فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ ۔ جَائَ طَعَامُ زَیْدٍ میں جَائَ فعل طَعَامُ مضاف ، زَیْدٍ مضاف الیہ دونوں ملکر مرکب اضافی ہو کر فاعل ،فعل فاعل ملکرجملہ فعلیہ ۔ جَائَ رَجُلٌ عَالِمٌ میں جَائَ فعل ، رَجُلٌ موصوف، عَالِمٌ صفت ،دونوں ملکر مرکب توصیفی ہو کر فاعل،فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ۔
*****
مشق
سوال نمبر 1 : تذکیر و تانیث کا خیال رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل اسماء کے ساتھ مناسب افعال لگائیں۔
۱ ۔اَلرَّجُلُ۔ ۲ ۔ہِنْدٌ۔ ۳ ۔فَاطِمَۃُ۔ ۴ ۔اَلأُسْتَاذُ۔ ۵ ۔اَلرِّجَالُ۔ ۶ ۔اَلْبِنْتُ۔ ۷ ۔طِفْلاَنِ۔ ۸ ۔مُسْلِمَاتٌ۔ ۹ ۔مُسْلِمُوْنَ۔ ۱۰ ۔طَائِرٌ۔ ۱۱ ۔اَلأُمَرَائُ۔ ۱۲ ۔عُلَمَائُ۔
سوال نمبر 2 : مندرجہ ذیل جملوں کی ترکیب اورترجمہ کریں۔
۱ ۔جَائَ خَالِدٌ ۲ ۔ضَرَبَ أَبُوْہٗ ۳ ۔نَصَرَ خَالِدٌ وَ زَیْدٌ ۴ ۔سَمِعَ غُلاَمُ زَیْدٍ صَوْتَہٗ ۵ ۔رَاٰنِیْ زَیْدٌ وَأَبُوْہٗ ۶ ۔خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ ۷ ۔اِذْھَبْ اِلَی الْمَدْرَسَۃِ ۸ ۔جَائَ الْمُصَلِّی فِی الْمَسْجِدِ ۹ ۔اِشْتَریٰ زَیْدٌ ثَوْبًا ۱۰ ۔ رَأٰی زَیْدٌ أَبَاہٗ۔
سوال نمبر 3 : مندرجہ ذیل جملوںکی عربی بنائیں۔
۱۔ زیدنے مارا ۲۔ زید نے کتاب پر مہر لگائی ۳۔ خالد نے اپنے ا بو کی مدد کی ۴۔ زید مسجدکی طرف گیا ۵۔ زید او ر اس کے ابو نے مدرسہ دیکھا ۶۔مدرسہ جائو ۷۔بکر نے کتاب خریدی ۸۔ عمر نے قرآن سنا ۹۔زید کے ابونے اسے مارا۔ ۱۰۔مجھے کتاب اچھی لگتی ہے۔
****
سبق نمبر: 18
غیر منصرف کا بیان
غیرمنصرف کی تعریف:
وہ اسم معرب جس میں منع صرف کے اسباب میں سے کوئی دوسبب یا ایک ایسا سبب پایا جائے جو دو کے قائم مقام ہو ۔جیسے: عُمَرُ، عَائِشَۃُ، وغیرہ ۔
غیر منصرف کا حکم:
غیر منصرف کا حکم یہ ہے کہ اس پر نہ تنوین آتی ہے نہ کسرہ۔جیسے: جَائَ عُثْمَانُ، مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ اور ہٰذِہِ مَسَاجِدُ،رَأَیْتُ مَسَاجِدَ،مَرَرَتُ بِمَسَاجِدَ۔ ان مثالوں میں عثمان اور مساجد غیر منصرف ہیںاسی لئے ان کا آخر کسرہ اور تنوین سے خالی ہے۔
تنبیہ:
اگر کسی اسم غیر منصرف پر الف لام داخل ہوجائے یاکسی اسم کی طرف اس کی اضافت کردی جائے تو ان دونوں صورتوں میں اس پرکسرہ آسکتاہے۔ جیسے: مَرَرْتُ بِالْمَسَاجِدِ، أُصَلِّيْ فِيْ مَسَاجِدِکُمْ۔
اسباب منع صرف:
اسباب منع صرف نوہیں:(۱)عدل (۲)وصف (۳)تانیث (۴)تعریف (۵)عجمہ (۶) ترکیب (۷) وزن فعل (۸) الف نون زائد تان (۹)جمع ۔
فائدہ:
ان اسباب میں سے دوسبب (جمع اور تانیث بالالف) دودو اسباب کے قائم مقام ہیں.
اسباب منع صرف کی تعریفات اور شرائط
( ۱ ) عدل کی تعریف:
کسی اسم کابغیر کسی قاعدۂ صرفی کے اپنے صیغے سے دوسرے صیغے کی طرف پھیراہوا ہونا۔جیسے: ثُلٰثُ (تین تین) ثَلٰثـَۃٌ ثَلٰثـَۃٌ سے اور عُمَرُ (نام) عَامِرٌ سے بغیر کسی قاعدۂ صرفی کے پھیراگیا ہے .
فائدہ:
جو اسم دوسرے صیغے سے پھیرا گیا ہواسے ’’معدول‘‘ اور جس صیغے سے پھیرا گیا ہویا بنایا گیا ہو اسے ’’معدول عنہ‘‘ کہتے ہیں۔جیسے مذکورہ مثالوں میں ثُلٰثُ اور عُمَرُ معدول اور ثَلٰثَۃٌ ثَلٰثَۃٌ اور عَامِرٌ معدول عنہ ہیں۔
عدل کی دو قسمیںہیں : ۱۔ عدل تحقیقی ۲۔ عدل تقدیری.
۱۔عدل تحقیقی کی تعریف:
وہ اسم معدول جس میں( غیر منصرف ہونے کے علاوہ) اصلی صیغے سے معدول ہونے کی دلیل موجود ہو۔جیسے: ثُلٰثُ۔
توضیح:
ثُلٰثُ کا معنی ہے:’’ تین تین‘‘ اس سے معلوم ہو اکہ اس کی اصل ثَلٰثَۃٌ ثَلٰثَۃٌ ہے؛ کیونکہ ثُلٰثُ میں معنی کی تکرار ہے اور معنی کی تکرار لفظ کی تکرار پر دلالت کر تی ہے اس دلیل سے معلوم ہواکہ ثُلٰثُ، ثَلٰثَۃٌ ثَلٰثَۃٌ سے معدول ہے ۔
فائدہ:
ایک سے لے کر دس تک کے اعداد جب فُعَالُ یا مَفْعَلُ کے وزن پر ہوں تو ان میں عدل تحقیقی ہوگا۔ جیسے: أُحَادُ، مَوْحَدُ، رُبَاعُ، مَرْبَعُ، عُشَارُ، مَعْشَرُ وغیرہ۔
۲۔عدل تقدیری کی تعریف:
وہ اسم معدول جس میں( غیر منصرف ہونے کے علاوہ) اصلی صیغے سے معدول ہونے کی دلیل موجودنہ ہو۔جیسے: عُمَرُ، زُفَرُ۔
توضیح:
یہ دونوں عَامِرٌ اور زَافِرٌ سے معدول ہیں مگر ان میں غیرمنصرف ہونے کے علاوہ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرے کہ یہ عامر اور زافر سے معدول ہیں۔مگرچونکہ اہل عرب ان کوغیر منصرف استعمال کرتے ہیں اور ان میں سوائے علمیت کے اور کوئی دوسرا سبب بھی نہیں پایا جارہاہے اور ایک سبب سے کوئی اسم غیر منصرف نہیں ہوتالہذا اس میں دوسراسبب عدل فرض کر لیا گیاہے اور عُمَرُ کو عَامِرٌ سے اور زُفَرُ کو زَافِرٌ سے معدول مان لیاگیا۔
تنبیہ:
عدل کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے کوئی شرط نہیں۔
( ۲ ) وصف کی تعریف:
اسم کاایسی ذات پر دلالت کرنے والاہوناجس کے ساتھ اس کی کوئی صفت بھی ماخوذ ہو۔ جیسے: أَحْمَرُ (سرخ) ۔
توضیح:
لفظ أَحْمَرُ ایک ایسی ذات پر دلالت کررہاہے جس کے ساتھ اس کی ایک صفت یعنی ’’سرخ ہونا‘‘ بھی ماخوذہے۔اسی طرح أَخْضَرُ،اَسْوَدُ وغیرہ ہیں۔
وصف کی شرط:
وصف کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ اصل وضع میںوصف ہو۔یعنی اس کی وضع ہی وصفی معنی کے لیے ہوئی ہو ۔ جیسے: اَبْیَضُ اور أَسْوَدُ وغیرہ۔
فائدہ:
جواسماء اصل وضع میں وصف ہوتے ہیں وہ یہ ہیں : (۱)صفت مشبہ ۔جیسے: أَحْمَرُ، حَسَنٌ۔ (۲)اسم تفضیل۔جیسے: أَکْمَلُ،أَفْضَلُ۔ (۳)اسم فاعل۔ جیسے: ذَاہِبٌ، قَائِمٌ۔ (۴)اسم مفعول۔جیسے: مَضْرُوْبٌ، مَغْسُوْلٌ۔ (۵)ایک سے لیکر دس تک وہ اسماء اعداد جو فُعَالُ یا مَفْعَلُ کے وزن پر معدول ہوں۔جیسے: أُحَادُ، مَوْحَدُ، ثُنَائُ، مَثْنٰی، ثُلٰثُ، مَثْلَثُ وغیرہ۔
تنبیہ:
مذکورہ تمام اسماء میں ایک سبب وصف پایاجارہاہے اور جن اسماء میںدوسراسبب بھی پایاجارہاہے وہ غیر منصرف ہوںگے۔جیسے نمبر2 ، نمبر5 کی تمام مثالوں اور نمبر1کی پہلی مثال میں۔اور جن میں دوسرا سبب نہیں پایاجارہا وہ منصرف ہوںگے۔ جیسے باقی مثالوں میں کیونکہ ایک سبب سے اسم ’’غیر منصرف‘‘ نہیں ہوتا۔
( ۳ ) تانیث کی تعریف:
کسی اسم کا مؤنث ہونا ۔جیسے: طَلْحَۃُ، ھِنْدٌ۔
وضاحت:
علامت تانیث کبھی لفظاًہوتی ہے اورکبھی معنی، لفظاًعلامت تانیث تین طرح کی ہوتی ہیں جیسا کہ تانیث کے سبق میں گزرا۔
اور معنیً علامت تانیث صرف ایک ہوتی ہے اور وہ ’’ۃ‘‘مقدرہ ہے ۔جیسے: قَدَمٌ، دَارٌ وغیرہ میں .
فائدہ:
(۱) وہ تانیث جس میں علامت تانیث الف مقصورہ یاالف ممدودہ ہو اسے ’’تانیث بالالف‘‘کہتے ہیں۔اور جس میں علامت تانیث ’’ۃ‘‘لفظاًہواسے’’ تانیث لفظی‘‘ کہتے ہیں۔ اور جس میں تقدیراً ہواسے ’’تانیث معنوی‘‘ کہتے ہیں۔
شرائط:
(۱)تانیث بالالف (چاہے الف ممدودہ کے ساتھ ہویاالف مقصورہ کے ساتھ) دوسببوں کے قائم مقام ہوتی ہے اور اس کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے کوئی شرط بھی نہیں ہے۔
(۲)تانیث لفظی کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے اسم ِمؤنث کا علم ہوناشرط ہے۔ جیسے: طَلْحَۃُ، فَاطِمَۃُ۔
(۳)تانیث معنوی میں جواز ِمنعِ صرف کے لیے مؤنث کا علم ہوناشرط ہے ،اور اگر اس کے ساتھ درج ذیل تین چیزوں میں سے کوئی چیز پائی جائے تواسے غیر منصرف پڑھنا واجب ہوجائے گا:
۱۔وہ اسم تین حروف سے زائد حروف پر مشتمل ہو۔جیسے: زَیْنَبُ۔ ۲۔ اگر وہ اسم تین حرفی ہوتو متحرک الاوسط ہو۔جیسے: سَقَرُ۔ ۳۔ وہ اسم عجمہ ہو۔جیسے: مَاہُ، جُوْرُ (شہروں کے نام)۔
( ۴ ) تعریف کی تعریف:
کسی اسم کا معرفہ ہونا۔ جیسے: أَحْمَدُ، زَیْنَبُ وغیرہ۔
تعریف کی شرط:
تعریف کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے اسم کا علم ہوناشرط ہے۔
( ۵ ) عجمہ کی تعریف:
کسی اسم کا غیر عربی ہونا۔جیسے: اِبْرَاھِیْمُ، اِسْمٰعِیْلُ وغیرہ ۔
عجمہ کی شرط:
عجمہ کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے دوشرطیں ہیں: ۱۔ اسم ٗلغت ِعجم میں علَم ہو۔ جیسے: اِبْرَاھِیْمُ۔ ۲ ۔وہ اسم یاتوزائد علی الثلثۃ ہو۔جیسے مثال مذکورمیں، یا ثلاثی ہو تو متحرک الاوسط ہو۔جیسے: شَتَرُ (قلعہ کانام) ۔
( ۶ ) ترکیب کی تعریف:
دویا اس سے زائد اسماء کا ملکر ایک ہوجانا۔جیسے: بَعْلَبَکُّ، مَعْدِیْکَرِبُ۔
توضیح:
اس میں بَعْلٌ اور بَکٌّ اسی طرح مَعْدِیْ اور کَرِبُ کو ملاکر ایک کلمہ بنادیاگیاہے ۔ اول ایک شہر کا نام ہے اور ثانی ایک شخص کا نام ہے ۔
شرائط:
ترکیب کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے چند شرائط ہیں: ۱۔ اسم مرکب کسی کا علم ہو۔ ۲۔ترکیب بغیر اضافت اور بغیر اسناد کے ہو۔ ۳۔دوسراجزء حرف نہ ہو۔ ۴۔دوسرا جزء حرف عطف کومتضمن( شامل)نہ ہو۔ مذکورہ بالامثالوں میں یہ تمام شرائط موجود ہیں۔
( ۷ ) وزن فعل کی تعریف:
اسم کا اوزا ن فعل میں سے کسی وزن پر ہونا۔جیسے: شَمَّرَ (گھوڑے کا نام)
توضیح:
شَمَّرَ ٗ فَعَّلَ کے وزن پر ہے اور فَعَّلَ فعل کے اوزان میں سے ایک وزن ہے۔
شرائط:
وزن فعل کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ وزن فعل ہی کے ساتھ خاص ہو جیسے مذکورہ بالامثال۔اور اگر وہ وزن فعل کے ساتھ خاص نہ ہو تو یہ شرط ہے کہ اسم کے شروع میں حروفِ اَتَین(ا، ت، ی، ن)میںسے کوئی حرف ہو۔جیسے: أَحْمَدُ، یَشْکُرُ وغیرہ۔
فائدہ:
چھ اوزان ایسے ہیں جنھیں فعل کے ساتھ خاص مانا جاتاہے:(۱) فَعَّلَ (۲) فُعِّلَ (۳) فُعِلَ (۴) فُعْلِلَ (۵) تَفَعْلَلَ (۶) تُفُعْلِلَ۔ ( اَلْمُقَدِّمَۃُ الْبَاسُوْلِیَّہ )
( ۸ ) الف نون زائدتان کی تعریف:
وہ الف نون جو کسی اسم کے آخر میں زائد ہوں۔جیسے: عُثمانُ، نَدْمَانُ (نادم وشرمندہ)
شرائط:
الف نون زائدتان اگر اسم محض (جوصفت نہ ہو)کے آخرمیں ہوں تو اس کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ علم ہو۔جیسے: عُثْمَانُ، عِمْرَانُ، سَلْمَانُ وغیرہ۔ اور اگر اسم صفت کے آخر میں ہوں تو شرط یہ ہے کہ اسکی مؤنث میں تانیث نہ آتی ہو۔ جیسے: سَکْرَانُ کہ اس کی مؤنث کے آخر میں تاء تانیث نہیں آتی کیونکہ اس کی تانیث سَکْرٰی ہے ۔
( ۹ ) جمع کی تعریف:
وہ اسم جو مفرد میں کچھ زیادتی کے ساتھ دوسے زائد افراد پر دلالت کرے۔ جیسے: مَسَاجِدُ، مَصَابِیْحُ وغیرہ۔
شرائط:
جمع کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ جمع منتہی الجموع کے صیغے پر ہو۔جیسے مذکورہ مثالیں۔
*****
مشق
سوال نمبر 1 : منصرف وغیر منصرف الگ الگ کریں۔
۱ ۔زَیْدٌ۔ ۲ ۔زُفَرُ۔ ۳ ۔مَسَاجِدُ۔ ۴ ۔رِجَالٌ۔ ۵ ۔ثَلاثَۃٌ۔ ۶ ۔مَثْلَثُ۔ ۷ ۔رُبَاعُ۔ ۸ ۔أَرْبَعٌ۔ ۹ ۔سَوْدَآئُ۔ ۱۰ ۔أَسْوَدُ۔ ۱۱ ۔ضَارِبٌ۔ ۱۲ ۔ھِنْدٌ۔ ۱۳ ۔زَیْنَبُ۔ ۱۴ ۔نُوْحٌ ( علیہ السلام ) ۔ ۱۵ ۔مَائٌ۔ ۱۶ ۔مَاہُ۔ ۱۷ ۔اِسْمَاعِیْلُ۔ ۱۸ ۔عَائِشَۃُ۔ ۱۹ ۔طَلْحَۃُ۔ ۲۰ ۔فَرَازِنَۃٌ۔ ۲۱ ۔أَحْمَدُ۔ ۲۲ ۔عِمْرَانُ۔ ۲۳ ۔عُثْمَانُ۔ ۲۴ ۔أُحَادُ۔ ۲۵ ۔مِیْکَائِیْلُ۔ ۲۶ ۔سَکْرَانُ۔
سوال نمبر 2 : مذکورہ بالا اسماء میں سے جو غیر منصرف ہیں ان کے اسباب منع صرف بیان کریں ۔
****
1 بعل ایک بت کا نام ہے اور بک ایک بادشاہ کا نام ہے جو اسے پوجا کرتا تھا،دونوں کو ملا کر ایک شہر کا نام رکھ دیا گیا۔
2 وہ کلمات جن کو مقدم لانا واجب ہے یہ ہیں :۱۔اسمائے استفہام ۔جیسے : مَنْ أَبُوْکَ؟ ۲۔ اسمائے شرط۔ جیسے: مَنْ جَائَ فَھُوَ مُکْرَمٌ۔۳۔ جب اسم کسی ایسے لفظ کی طرف مضاف ہو جس کے لیے صدر کلام ضروری ہے ۔ جیسے: غُلاَ مُ مَنْ قَامَ؟ (کس کا غلام کھڑا ہوا؟)۴۔وہ مبتدا ٔ جسے ایسی چیز کے درجے میں اتار دیا گیا ہو جس کے لیے صدر کلام ضروری ہو۔ جیسے: اَلَّذِیْ یَأ تِیْنِیْ فَلَہٗ دِرْھَمٌ۔ اس میں اسم موصول کو شرط کے درجے میں اتاراگیاہے اور شرط کے لیے صدر کلام ضروری ہوتاہے۔۵۔ ضمیر شان اور ضمیر قصہ ۔جیسے: ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ، ھِیَ ھِنْدٌ عَالِمَۃٌ۔۶۔ما تعجبیہ۔ جیسے: مَا أَحْسَنَ زَیْداً۔۷۔ وہ مبتدأ جس پرلام ابتدائیہ داخل ہو۔ جیسے: لَزَیْدٌ مَنْطَلِقٌ۔ (زید ضرور جانیوالاہے)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع