دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nisab ul Adab | نصاب الادب

book_icon
نصاب الادب
            
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

’’ بِسْمِِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ

‘‘ کے ۱۹ حُروف کی نسبت سے اس کتاب کو پڑھنے کی ۱۹ ’’ نیتیں‘‘

فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہ۔ یعنی مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ ( المعجم الکبیر للطَبَراني، الحدیث: ۵۹۴۲ ، ج ۶ ، ص ۱۸۵) دو مَدَنی پھول: {۱} بغیر اچّھی نیّت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا۔ {۲}جتنی اچّھی نیّتیں زِیادہ، اُتنا ثواب بھی زِیادہ۔ {۱}ہر بارحمد و { ۲}صلوٰۃ اور{ ۳}تعوُّذو{ ۴}تَسمِیہ سے آغاز کروں گا۔(اسی صفحہ پر اُوپر دی ہوئی دو عَرَبی عبارات پڑھ لینے سے چاروں نیّتوں پر عمل ہوجائے گا)۔ {۵ }رِضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لیے اس کتاب کا اوّل تا آخِر مطالَعہ کروں گا۔{۶} حتَّی الْوُسْعْ اِس کا باوُضُو اور {۷}قِبلہ رُو مُطالَعَہ کروں گا۔ {۸}کتاب کو پڑھ کرکلام اللہ وکلام رسول اللہ عزوجل و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوصحیح معنوں میں سمجھ کر اوامر کا امتثال اور نواہی سے اجتناب کروں گا۔{۹}درجہ میں اس کتاب پر استاد کی بیان کردہ توضیح توجہ سے سنوں گا۔ {۱۰}استاد کی توضیح کو لکھ کر ’’ اِسْتَعِنْ بِیَمِیْنِکَ عَلَی حِفْظِکَ ‘‘پر عمل کروں گا۔{۱۱ }طلبہ کے ساتھ مل کر اس کتاب کے اسباق کی تکرار کروں گا۔{ ۱۲}اگر کسی طالب علم نے کوئی نامناسب سوال کیا تو اس پر ہنس کر اس کی دل آزاری کا سبب نہیں بنوں گا۔ { ۱۳}درجہ میں کتاب ، استاد اور درس کی تعظیم کی خاطر غسل کرکے،صاف مدنی لباس میں،خوشبو لگا کر حاضری دوں گا۔ { ۱۴}اگر کسی طالب علم کو عبارت یامسئلہ سمجھنے میں دشواری ہوئی تو حتی الامکان سمجھانے کی کوشش کروں گا۔{۱۵}سبق سمجھ میں آجانے کی صورت میںحمد الٰہی عزوجل بجا لاؤں گا۔{۱۶}اورسمجھ میںنہ آنے کی صورت میں دعاء کروںگااور باربارسمجھنے کی کوشش کروں گا۔{۱۷}سبق سمجھ میںنہ آنے کی صورت میں استادپر بدگمانی کے بجائے اسے اپنا قصور تصور کروں گا۔{ ۱۸}کتابت وغیرہ میں شَرْعی غلَطی ملی تو نا شرین کو تحریری طور پَر مُطَّلع کروں گا(مصنّف یاناشِرین وغیرہ کو کتا بوں کی اَغلاط صِرْف زبانی بتاناخاص مفید نہیں ہوتا)۔{ ۱۹}کتاب کی تعظیم کرتے ہوئے اس پرکوئی چیزقلم وغیرہ نہیں رکھوںگا۔اس پر ٹیک نہیں لگاؤںگا۔ **** اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

المد ینۃ العلمیۃ

از:بانیِ دعوتِ اسلامی ،عاشق اعلیٰ حضرت، شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ الحمد للّٰہ علی اِحْسَا نِہٖ وَ بِفَضْلِ رَسُوْلِہٖصلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور اِشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے، اِن تمام اُمور کو بحسن وخوبی سر انجام دینے کے لیے متعدِّد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں سے ایک مجلس ’’المد ینۃ العلمیۃ ‘‘ بھی ہے جو دعوتِ اسلامی کے عُلماء و مُفتیانِ کرام کَثَّرَ ھُمُ اللّٰہُ تعالی پر مشتمل ہے ،جس نے خالص علمی، تحقیقی او راشاعتی کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس کے مندرجہ ذیل چھ شعبے ہیں: (۱)شعبۂ کتُبِ اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (۲)شعبۂ درسی کُتُب (۳) شعبۂ اِصلاحی کُتُب (۴)شعبۂ تفتیشِ کُتُب (۵)شعبۂ تراجِم کُتُب (۶)شعبۂ تخریج ’’ا لمد ینۃ العلمیۃ‘‘ کی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلیٰحضرت اِمامِ اَہلسنّت،عظیم البَرَکت،عظیم المرتبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامی ٔسنّت، ماحی ٔبِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر و بَرَکت، حضرتِ علاّمہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری الشّاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی گِراں مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق حتَّی الْوُسع سَہْل اُسلُوب میں پیش کرنا ہے۔ تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس عِلمی ،تحقیقی اور اشاعتی مدنی کام میں ہر ممکن تعاون فرمائیں اورمجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتُب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اِس کی ترغیب دلائیں ۔ اللہ عزوجل ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بَشُمُول’’ المد ینۃ العلمیۃ‘ ‘ کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اخلاص سے آراستہ فرماکر دونوںجہاں کی بھلائی کا سبب بنائے۔ہمیں زیرِ گنبدِ خضراء شہادت، جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ

پیش لفظ

عرصۂ دراز سے ایک ایسی کتاب کی کمی محسوس کی جارہی تھی جس میں عربی گرامر سے واقفیت کے ساتھ ساتھ جدید تکلم بھی شامل ہوبالعموم درس نظامی کی کتب پڑھ کر عربی زبان سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے لیکن بولنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابرہوتی ہے۔ الحمد للہ علی احسانہ تبلیغ وقرآن وسنت کی عالم گیر غیر سیاسی تحریک’’دعوت اسلامی‘‘کی مجلس ’’المدینۃ العلمیہ‘‘کے’’شعبہ درسی‘‘ کتب نے عربی گرامر کی کتب’’نصاب الصرف ‘‘اور ’’نصاب النحو‘‘کے بعد عربی ادب کی ابتدائی کتاب بنام’’نصاب الادب‘‘ پیش کرنے کی سعی کی ہے جو جامعۃ المدینہ کے درس نظامی کے نصاب میں بھی شامل ہے اس پر مندرجہ ذیل نکات کے تحت کام کرنے کی کوشش کی گئی ہے: (۱)…کتاب کو چارحصوں میں تقسیم کیا گیاہے: ۱…الحکایات، ۲…تکلموا باللغۃ العربیۃ،۳…اناشید،۴…الدروس النحویۃ (۲)…پہلے حصے (الحکایات) میں صرفی، نحوی قواعد کے اجراء کیلئے آسان اور عام فہم حکایات ذکر کی گئی ہیںتاکہ طلبہ انہیں آسانی کے ساتھ پڑھ اور سمجھ کر عربی میں مہارت حاصل کرسکیں۔ (۳)…دوسرے حصے( تَکَلَّمُوا بِاللغۃ العربیۃ ) میںعربی تکلم پر زیادہ زور دیا گیاہے،جدید اوردارج الفاظ بھی ذکر کئے گئے ہیں اس حصے میں عربی تکلم دور ِ جدید کے مطابق روایتی انداز سے کچھ ہٹ کرذکر کیا گیاہے۔ (۴)…جبکہ تیسرے حصے (اناشید) میںعربی نظم سے بھی رُو شناس کرنے کیلئے آسان اورعام فہم نظمیں ذکر کی گئی ہیں تاکہ طلبہ کو ابتداء سے ہی عربی اشعار سے قدرے واقفیت اور انکا شغف حاصل ہو۔ (۵)…اور چوتھے حصے (الدروس النحویۃ) میں نحوی تعریفات و قواعداختصار کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد ان کی امثلہ تفصیلا ذکر کی گئی ہیں تاکہ عربی الفاظ طلبہ کو زیادہ سے زیادہ ازبر ہو سکیں۔ (۶)…اسباق کے تحت تمارین (مشقوں) کا التزام بھی کیا گیا ہے تاکہ سبق اچھی طرح یاد ہوسکے۔ (۷)…اردو سے عربی بنانے کی تمارین کابھی التزام کیا گیاہے۔تاکہ اردو سے عربی بنانے کا ملکہ پیداہو۔ (۸)…امثلہ میںجدید الفاظ شامل کئے گئے ہیں تاکہ رائج الوقت عربی الفاظ بھی ذہن نشین ہو جائیں۔ (۹)…اسباق کی ہیڈنگز (عنوانات) کا التزام کیا گیا ہے تاکہ سبق کی نوعیت واضح ہوجائے۔ (۱۰)…عربی تکلم کو اسئلہ اور اجوبہ کی صورت میں ذکر کیا گیاہے تاکہ بے دھڑک سوالات کرنے اور جوابات دینے میں آسانی ہو۔ (۱۱)…اس کتاب کی ترتیب وتالیف میں تقریبا ۳۰ سے زائد کتب سے مددلی گئی ہے جن میں انٹر نیٹ سے لی گئی کتب بھی شامل ہیں ۔ (۱۲)…کتاب کے آخر میں مشکل الفاظ کے معانی ترتیب اسباق کے لحاظ سے ذکر کئے گئے ہیں۔ آخر میں اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ اس کتاب کی تمارین طلبہ سے حل کروائیں اورعربی تکلم کرانے میں بالخصوص توجہ فرمائیں ۔ان تمام ترکوششوں کے باوجوداگر اہل فن کتابت یا فنی غلطی پائیں تومجلس کو مطلع فرماکر مشکور ہوں۔ اللہ عزوجل سے دعا ء ہے کہ امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ ومولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی مدظلہ العالی وتمام علماء اہلسنت کا سایہ عاطفت ہمارے سروں یر تادیر قائم رکھے اورہمیں ان کے فیوض وبرکات سے مستفیض فرمائے اور قرآن وسنت کی عالم گیر غیر سیاسی تحریک دعو ت اسلامی کی تمام مجالس بشمول المدینۃ العلمیہ کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطافرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم شعبہ درسی کتب المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی) بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

مُقَدِّمۃ

الحمد للّٰہ رب العلمین والصلاۃ والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین أما بعد! اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا فرما کر اسے اپنی اطاعت و بندگی کا حکم فرمایا اور جس طرح اپنی اطاعت لازمی قرار دی اسی طرح اپنے پیارے حبیب خاتم المرسلین سید العٰلمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فرمانبرداری کو عین اپنی اطاعت فرمایا۔اہلِ فہم پر روشن ہے کہ اطاعت حکم کی ہواکرتی ہے اور اللہ ورسول اللہ عزوجل و صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے احکام عربی زبان میں ہیں لہذا ان احکام پر عمل پیرا ہونے اور اسلام کے مطابق زندگی گذارنے کے لئے ان احکام کو اولاً تو سمجھنا ضروری ہے اور بعدہ ان پر عمل بھی ضروری ہے۔ اس مختصر سی تمہید سے اتنی بات تو واضح ہو گئی کہ عربی زبان کو سیکھنا اور سمجھنا انتہائی ضروری امرہے عربی زبان بنیادی طور پرچار علوم پر مشتمل ہے ۔چنانچہ’’مقدمہ ابن خلدون‘‘میںہے کہ : ّّّ أَرکانُہ أَربَعَۃٌ:وہِیَ اللغۃُ و النَّحوُ والبیانُ والأدَبُ، ومَعرِفَتُہا ضَرُوْریَّۃٌ علی أَہلِ الشَّریعَۃِ إذ مأخَذُ الأَحکامِ الشرعِیَّۃ کلِّہا مِنَ الکتابِ و السنَّۃِ وہی بِلُغَۃِ العَرَبِ ونَقَلَتْہَا مِنَ الصحابۃِ والتابِعِینَ عَرَبٌ، وَشَرْحُ مُشکلاتِہٖ مِنْ لُغاتِہم، فلا بُدّ مِن مَعرِفۃِ العلومِ المُتعلِّقۃ بِہذا یعنی زبان عربی کے چار ارکان ہیں اور وہ لغت ،نحو ،بیان وادب ہیں۔ان کی معرفت مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کیونکہ تمام احکام شرعیہ کا ماخذ کتاب وسنت ہیں جو کہ عربی زبان میں ہیںاور ان احکام شرعیہ کو عرب صحابہ وتابعین نے نقل کیا۔لہذا جو علم شریعت کے حصول کا ارادہ رکھتا ہو اس کے لئے اس زبان عربی اللسانِ لِمَن أَرادَ عِلمَ الشرِیْعَۃِ۔ سے متعلقہ علوم کی معرفت ناگزیر ہے۔ ( مقدمہ ابن خلدون، ج ۲ ، ص ۲۴۸ المکیبۃ التجاریۃ مکۃ المکرمۃ) اور حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے کہ: ’’ أَحِبُّوا العَرَبَ لِثلاثٍ لأنِّی عَرَبیٌّ والقرآنَ عَرَبِیٌّ وکلامَ أہلِ الجَنّۃِ عَرَبِیٌّ ‘‘ عربوں سے تین وجہ سے محبت کرو : (۱)میں عربی ہوں(۲) قرآن عربی (زبان) میں ہے (۳) جنتیوں کا کلام عربی ہے۔ (شعب الإیمان، الحدیث: ۱۶۱۰ ،ج ۲ ، ص ۲۳۰ ) اور ایک قول کے مطابق علوم عربیہ بارہ۱۲ اقسام پر مشتمل ہیں اوران تمام کے مجموعے کو علمِ ادب کہتے ہیں۔ان بارہ۱۲ اقسام میں سے چند مشہور اقسام یہ ہیں:علم لغت ،علم صرف ،علم اشتقاق،علم نحو،علم معانی، علم بیان وغیرہ۔علم ادب سے صحیح طور پر واقفیت نہ ہونے کے سبب کیسی کیسی اغلاط کا صدور ہوجاتا ہے اسکی چندجھلکیاں ملاحظہ فرمائیں: (1)…امیر المؤمنین حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دور میں ایک مرتبہ کسی اعرابی نے کچھ لوگوں سے کہا:’’مجھے قرآن میں سے کچھ پڑھاؤ۔‘‘توایک شخص نے اسے سورۃ براء ت کی آیت نمبر3 اس طرح پڑھائی:{ أَنَّ اللّٰہَ بَرِیء ٌ مِّنَ الْمُشْرِکِینَ وَرَسُولِہ } (یعنی لفظ رسول کے کسرہ کے ساتھ۔) اس پر اعرابی نے کہا:’’ کیا اللہ بھی اپنے رسول سے بری ہے؟اگر اسی طرح ہے تو میں بھی رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بری ہوں۔‘‘جب یہ بات حضرت عمر فاروق اعظم محب رسولِ معظم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تک پہنچی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فوراً اس اعرابی کو بلا بھیجا اور فرمایا:’’اے اعرابی! کیا تو نے اس اس طرح کہا ہے۔‘‘ تو اس نے جواب دیا:’’اے امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ! میں اَنجانے میں مشرکین کے پاس چلا گیا تھااور میں نے ان سے پوچھا کہ مجھے کون قرآن پڑھائے گا تو ان میں سے ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا اورمجھے سورت براء ت یوں پڑھائی :{ أَنَّ اللّٰہَ بَرِیء ٌ مِّنَ الْمُشْرِکِینَ وَرَسُولِہٖ } (یعنی لفظ رسول کے کسرہ کے ساتھ۔) تو اس پر میں نے اس اس طرح جواب دیا۔‘‘یہ تمام واقعہ سننے کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اعرابی سے فرمایا:’’یہ آیت اس طرح نہیں ہے۔‘‘اعرابی نے عرض کی: ’’پھر کس طرح ہے ؟‘‘تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’یوں ہے:{ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ﳔ وَ رَسُوْلُهٗؕ- }(یعنی لفظ رسول پرضمہ کے ساتھ۔)‘‘یہ سن کر اس اعرابی نے کہا:’’بخدا!میں بھی اُس سے بری ہوں جس سے اللہ اور اس کا رسول عزوجل و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بری ہیں۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حکم صادر فرمادیا کہ قرآن پاک کو عالمِ لغت کے علاوہ کوئی اور نہ پڑھائے۔ (’’سبب وضع علم العربیۃ‘‘، الجزء الاول، ص۱۳۰) (2)…امیر المؤمنین حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دور ہی کاایک اور واقعہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک قوم کے پاس سے گذرے،وہ لوگ تیر اندازی کر رہے تھے اور نشانہ بازی میں بہت خطائیں کررہے تھے یہ دیکھ کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’ بِئْسَ مَا رَمَیْتُم یعنی تم لوگ بہت بری تیر اندازی کررہے ہو۔‘‘یہ سن کر انھوں نے کہا: ’’ إِنّا قومٌ مُتعَلِّمِینَ ہم ابھی سیکھ رہے ہیں(یعنی متعلِّمُوْنَ کی جگہ متعلِّمِیْنَ کہا۔)یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :’’ واللّٰہِ لَخَطَؤُکُمْ فِی لِسانِکُم أَشَدُّ عَلَیَّ مِن خَطَئِکُمْ فِی رَمْیِکُمْ یعنی خدا کی قسم! تمہارے کلام کی خطا مجھ پر تمہاری تیر اندازی کی خطا سے بھی شدید ترہے۔میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :’’ رَحِمَ اللّٰہُ امْرَأً أَصْلَحَ مِن لِّسَانِہٖ یعنی اللہ عزوجل اس شخص پر رحم فرمائے جس نے اپنی زبان کی اصلاح کی۔ ( ’’ التیسیر بشرح الجامع الصغیر ‘‘ للمُناوی، ۲ /۳۱ ، مکتبۃ الامام الشافعی، ریاض) (3)…آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورکاہی ایک اورواقعہ ہے کہ حضرت ابو موسی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ( جو کہ عامل مقرر تھے) کے کاتب نے امیر المؤمنین حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضرت ابو موسی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف سے مکتوب لکھاجس کی ابتداء میں لکھا:’’ مِن أبو موسیٰ ابوموسی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف سے۔‘‘ (یعنی’’ أبی ‘‘ کی جگہ ’’ أبو ‘‘ لکھا۔)اس پر امیر المؤمنین حضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جوابی مکتوب میں فرمایا:’’ سلامٌ علیک، أما بعدُ! فاضْرِبْ کاتِبَکَ سَوْطاً واحداً وأَخِّرْ عَطَاء ہٗ سَنَۃً یعنی اپنے کاتب کو ایک کوڑا رسید کرو اور ایک سال تک اسکو پیش کش کرنا مؤخر کردو۔‘‘ ( ’’ المزہر فی علوم اللغۃ ‘‘ للسیوطی، الجزء الثانی، ص ۳۴۱ ) الغرض اس قسم کی اور بہت سی اغلاط واقع ہو سکتی ہیں جس کا سبب عموما علمِ ادب سے ناواقفیت ہوا کرتی ہے ۔ حضرت امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ لَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ یُؤمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَومِ الآخِرِ أنْ یَتکلّمَ فِی کِتابِ اللّٰہِ إذا لَمْ یَکُنْ عالِماً بِلُغاتِ العَرَبِ ۔(الاتقان للسیوطی ج۲، ص ۵۵۵) یعنی جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے جائز نہیں کہ وہ کتاب اللہ کے بارے میں کلام کرے جب تک کہ عرب کی لغت پر عبور حاصل نہ کرلے۔ نیز علامہ شامی مخصوص عرب شعراء کے اشعار کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ َمَعْرِفَۃُ شِعْرِہِمْ رِوایۃً و دِرایۃً عندَ فُقَہاء الإسلامِ فرضُ کِفایۃٍ۔۔۔الخ ۔(رد المحتار، ج۱، ص۱۱۵) شعراء عرب کے اشعار کو روایۃً اور درایۃً جاننا فقہاء اسلام کے نزدیک فرض کفایہ ہے۔‘‘ لہذا یہ بات واضح ہو گئی کہ قرآن و حدیث کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے علومِ ادب عربی میں مہارت کاہونابہت ضروری ہے۔آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو طلبہ کیلئے مفید ومقبول عام بنائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

{… تعارف …}

علمِ ادب کی تعریف:
’’ ہُوَ عِلْمٌ یُحترَز بہٖ عن الخَلَل فی کلام العَرَب لفظاً أو کتابۃً یعنی علمِ ادب وہ علم ہے جس کے ذریعے عربی زبان میں لفظی و کتابت کی غلطی سے بچا جاتا ہے۔‘‘ موضوع: ’’ اللَّفْظُ والْخَطُّ مِن جِھَۃِ دلالتِہما عَلَی الْمَعَانِی یعنی علم ادب کا موضوع لفظ اور خط ہے اس حیثیت سے کہ یہ دونوںمعانی پر دلالت کریں۔ ‘‘ غرض و غایت: ’’ الإِجَادَۃُ فِی کَلامِ العَرَبِ یعنی اس علم کا مقصد عربی زبان میں عمدگی پیدا کرنا ہے۔‘‘ ****

الغُرَاب

عَطِشَ غُرَابٌ وَأَخَذَ یَبْحَثُ عَنِ الْمَائِ لِیُرْوِیَ عَطَشَہُ فَرَأٰی جَرَّۃً فِیْہَا مَائٌ قَلِیْلٌ، فَحَاوَلَ الْغُرَابُ أَنْ یَّشْرَبَ فَلَمْ یَسْتَطِعْ لِأَنَّ الْمَائَ کَانَ فِی قَاعِ الْجَرَّۃِ فَطَارَ الْغُرَابُ وَأَحْضَرَ حَصَاۃً وَرَمَاہَا فِی الْجَرَّۃِ فَارْتَفَعَ الْمَائُ قَلِیْلًا ثُمَّ أَحْضَرَ الْغُرَابُ حَصَاۃً ثَانِیَۃً وَّثَالِثَۃً وَّرَابِعَۃً وَّرَمَاہَا فِی الْجَرَّۃِ فَارَتَفَعَ الْمَاء حَتَّی أَصْبَحَ قَرِیْباً مِنْ فُوْہَۃِ الْجَرَّۃِ، فَشَرِبَ الْغُرَابُ بِذَکَائِہِ وَحُسْنِ حِیْلَتِہِ۔ المَغْزٰی ’’ مَنْ جَدَّ وَجَدَ ‘‘ ۔ **** { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} أَجِبْ عَنِ الأسْئِلَۃ الآتِیَۃ: ۱۔مَاذَا بَحَثَ الُغَرابُ وَلِمَاذَا ؟ ۲۔لِمَاذَا لَمْ َیسْتَطِعِ الغُرَابُ أَن یَّشْرَبَ ؟ ۳۔مَاذَا أَحْضَرَ الْغُرَابُ وَرَمیٰ فِی الْجَرَّۃِ ؟ ۴۔ہَلْ فَازَ الْغُرَابُ فِی شُرْبِ الْمَائِ ؟ ۵۔ہَلْ تَعْتَقِدُ أَنَّ الْغُرَابَ ذَکِیٌّ ؟ { …التَّدْرِیْبُ الثَّانِی…} اِخْتَرِ الْجَوَابَ الصَّحِیْحَ کَمَا جَاء فِی النَّصِّ: ۱۔عَطِشَ غُرَابٌ وَأَخَذَ یَبْحَثُ: عن البُذُوْر - عَنِ الْمَاء - عَنِ الطَّعَام - عَنِ الْعَسَل ۲۔أَحْضَرَ الْغُرَابُ حَصَاۃً: تَاسِعَۃً - سَابِعَۃً -رَابِعَۃً - عَاشِرَۃً ۳۔مَنْ جَدَّ فَازَ-اَفْلَحَِ -نَجَحَ -وَجَدَ { …التَّدْرِیْبُ الثَّالِث…} ضَعْ حَرْفَ جَرٍّ مُنَاسِباً فِی کُلِّ فَرَاغٍ: یَجْتَمِعُ الطُّلاَّبُ۔۔۔۔۔۔سَاحَۃِ الْمَدْرَسَۃِ کَانَ الْقَلَمُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قَاعِ الْجَرَّۃِ مِنْ حُسْنِ الاَخْلاقِ الابْتِعَادُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الْکَذِبِ یَہْتَمُّ الطَّالِبُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَاجِبِہ الْمَدْرَسِیِّ خَتَمَ اللّٰہُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قُلُوْبِہِمْ شَرِبَ الْغُرَابُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حُسْنِ حِیْلَتِہِ { …التَّدْرِیْبُ الرَّابِع…} تَرْجِمُوْا مَا یَأتِی إِلَی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔سلیم کو بھوک لگی تو اس نے کھانا تلاش کرنا شروع کیا۔ ۲۔زید نے کھانے سے پہلے پانی پیا۔ ۳۔خالدنے کھانا کھالیا ۔ ۴۔پانی تالاب کی تہہ میں ہے۔ ۵۔سمندر کا پانی بلند ہو گیا۔ ۶۔جو کوشش کرے گا کامیاب ہوگا۔ ****

اَلْکَلبْ

وَجَدَ کَلْبٌ قِطْعَۃَ عَظْمٍ کَبِیْرَۃً فَفَرِحَ بِہَا وَاسْتَبْشَرَ أَنْ تَکُوْنَ لَہُ غدَائً شَہِیًّا ثُمَّ حَمَلَہَا وَجَرَی عَلَی شَاطِیِٔ النَّہْرِ حَتَّی لَا تَرَاہُ الْکِلاَبُ وَلَمَّا نَظَرَ فِی الْمَائِ رَأَی خَیَالَہُ فَحَسِبَہُ کَلْبًا آخَرَ یَحْمِلُ عَظْمَۃً أَکْبَرَ مِنْ عَظْمَتِہِ فَرَمَی الَّتِی مَعَہُ وَہَجَمَ عَلَی الْکَلْبِ الَّذِیْ فِی الْمَائِ فَلَمْ یَجِدْ شَیْئًا ثُمَّ رَجَعَ إِلَی عَظْمَتِہِ فَلَمْ یَجِدْہَا وَبِذٰلِکَ خَسِرَ غدَائَ ہُ نَتِیْجَۃً لِطَمْعِہِ۔ المغزٰی ’’ بَیْضَۃُ الْیَوْمِ خَیْرٌ مِنْ دَجَاجَۃِ الْغَدِ ‘‘ ۔ (نو نقد نہ تیرہ ادھار) **** { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} أَجِبْ عَنِ الأسْئِلَۃِ التَّالِیَۃ: ۱۔مَا وَجَدَ کَلْبٌ ؟ ۲۔ إلی أَیْنَ حَمَلَ الْکَلْبُ قِطْعَۃَ عَظْمٍ ؟ ۳۔مَا حَسِبَ الْکَلبُ حِیْنَ نَظَرَ فِی الْمَاء ؟ ۴۔مَا فَعَلَ الْکَلْبُ حِیْنَمَا حَسِبَ فِی الْمَاء کَلْباً آخَر ؟ ۵۔مَا وَجَدَ الْکَلْبُ بَعْدَ ہَجَمِہ عَلَی الْکَلْبِ الآخَر ؟ ۶۔مَا کَانَتْ نَتِیجَۃُ طَمْعِہٖ ؟ { …التَّدْرِیْبُ الثَّانِی…} ضَعْ اِسْمَ التَّفْضِیْل مُنَاسِباً فِی کُلِّ فَرَاغ: ۱۔اَللّٰہُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ۲۔نَبِیُّنَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مِنْ کُلِّ الانْبِیَاء ۳۔الْمَاء الَّذِی خَرَجَ مِنْ أَصَابِع سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مِنْ کُلِّ الْمِیَاہ ۴۔ہذہ الْمُعَامَلَۃُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مِنَ الشَّمْس ۵۔وہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مِنّی ۶۔طُوْلُ عَابِدٍ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مِنْ عَمِّہٖ ۷۔الْفِتْنَۃُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مِنَ الْقَتْلِ { …التَّدْرِیْبُ الثَّالِث…} عَیِّنْ فِیْمَا یَلِی الْمُضَافَ وَالْمُضَافَ اِلَیْہِ: ۱۔ثُمَّ رَجَعَ إِلَی عَظْمَتِہ ۲۔تَعَلَّمَ الطَّالِبُ مَبَادِیئَ اللُّغَۃِ الْعَرَبِیَّۃِ ۳۔اَزْوَاجُ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اُمَّہَاتُ الْمُؤمِنِیْنَ ۴۔جُدْرَانُ غُرْفَۃِ زَیْدٍ خَضْرَائُ ۵۔لِکَلامِ خَطِیْبِ مَسْجِدِنَا اَثْرٌ بَلِیْغٌ ۶۔مَا سِرُّ نَجَاحِ ہذَا التِّلْمِیْذِ ؟ { …التَّدْرِیْبُ الرَّابِع…} تَرْجِمُوْا مَا یَأتِی إلی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔کتے کو ہڈی کا ٹکڑاملا تووہ خوش ہو گیا۔ ۲۔ جب میں نے زمین پر اپنا سایہ دیکھا تو اسے بڑا خیال کیا۔ ۳۔کتے نے اس بلی پر حملہ کردیا جو دیوار پر بیٹھی تھی۔ ۴۔زید اپنی طمع کے نتیجے میں نادم ہوا۔ ۵۔لالچ ہلاکت کا سبب ہے۔ ****

اَلقِرْدوَالنجَّار

رَأَی قِرْدٌ نَجَّارًا یَنْشُرُ خَشَبَۃً کَبِیْرَۃً بِالْمِنْشَارِ وَکُلَّمَا شَقَّ قَلِیْلًا مِنْہَا أَدْخَلَ فِیْہَا وَتَدًا ثُمَّ إِنَّ النَّجَّارَ خَرَجَ مِنَ الدُّکَّانِ لِیَشْتَرِیَ طَعَامًا، فَأَرَادَ الْقِرْدُ أَنْ یُّقَلِّدَ النَّجَّارَ فِي شَقِّ الْخَشَبَۃِ وَرَکِبَ الْقِرْدُ عَلَی الْخَشَبَۃِ وَجَعَلَ یَشُقُّّ فَتَدَلَّی ذَنَبُہٗ فِی الشَّقِّ وَعَبَثَ بِأَحَدِ الْأَوْتَادِ فَنَزَعَہُ مِنْ مَکَانِہِ فَانْطَبَقَتِ الْخَشَبَۃُ عَلَی ذَنَبِہِ فَصَاحَ مِنْ شِدَّۃِ الأَلَمِ وَأُغْشِیَ عَلَیْہِ ثُمَّ جَائَ النَّجَّارُ فَرَاٰہُ وَجَعَلَ یَضْرِبُہُ، فَکَانَ مَا لَقِيَ مِنَ النَّجَّارِ مِنَ الضَّرَبِ أَشَدَّ مِمَّا أَصَابَہُ مِنَ الْخَشَبَۃِ۔ اَلْمَغْزٰی ’’ ہَذِہِ عَاقِبَۃُ الْعَبَثِ والتَّقْلِیْدِ الأَعْمٰی، اَلتَّدَخُّلُ فِیْمَا لَایَعْنِی مُضِرٌّ ‘‘ ۔ **** { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} أَجِبْ عَنِ الأسْئِلَۃِ الآتِیَۃ: ۱۔مَا رَأَی الْقِرْدُ ؟ ۲۔مَا فَعَلَ النَّجَّارُ کُلَّمَا شَقَّ الْخَشَبَۃَ ؟ ۳۔مَا أَرَادَ الْقِرْدُ بَعْدَ ذَھَابِ النَّجَّارِ ؟ ۴۔عَلٰی أَیِّ شَیئٍ رَکِبَ الْقِرْدُ وَمَاذَا فَعَلَ بَعْدَ رُکُوْبِہ ؟ ۵۔لِمَ صَاحَ الْقِرْدُ ؟ ۶۔مَا فَعَلَ النَّجَّارُ حِیْنَمَا رَجَعَ ؟ { …التَّدْرِیْبُ الثَّانِی…} أَکْمِلْ: إِنَّ اَبِیْ خَرَجَ مِنَ الْبَیْتِ لِیَشْتَرِیَ الْخَضْرَاوَاتِ إِنَّ الْوَلَدَ یَجْتَہِدُ فِی الدُّرُوْسِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اِنَّ صَدِیْقِیْ یَشْرَبُ الشَّایَ بَعْدَ الْعَصْرِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذَہَبْتُ اِلَی الْفُنْدُقِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اَنَا اَرُوْحُ اِلَی الْمَدْرَسَۃِ کُلَّ یَوْمٍ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اِنَّ الرَّجُلَ الصَّالِحَ یَجْتَنِبُ عَنِ الذُّنُوْبِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ { …التَّدْرِیْبُ الثَّالِث…} عَیِّنِ الْمَفْعُوْلَ بِہ فِی کُلِّ جُمْلَۃٍ مِنَ الْجُمَلِ التَّالِیَۃ: ۱۔زَارَ اَحْمَدُ قَرْیَتَہ ۲۔کُلُّ وَاحِدٍ یُودِّی عَمَلاً ۳۔الابْنُ یَجْمَعُ الْعَسَلَ مِنَ الْخَلایَا ۴۔الْفَلَّاحُ یَتَحَدَّی الصِّعَابَ ۵۔الْفَلَّاحُ یَبِیْعُ إِنْتَاجَ اَرْضِہ ۶۔الِابْنُ یَجْنِی الثِّمَارَ { …التَّدْرِیْبُ الرَّابِع…} تَرْجِمُوْا مَا یَأتِی إلی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔کسی کے کام میں مداخلت نہ کرو۔ ۲۔شدید تکلیف کی وجہ سے وہ چیخنے لگا ۔ ۳۔بڑھئی نے کلہاڑے سے لکڑی کو چیرا۔ ۴۔کِیلوں سے مت کھیلو۔ ۵۔بندر نقل کرنے میں مشہور ہے۔ ۶۔بڑوں کی تقلید(پیروی) کرو۔ ****

الذَّئْبُ وَالثَّعْلَبُ

مَرِضَ الأَسَدُ فَعَادَہُ السِّبَاعُ مَا خَلَا الثَّعْلَبَ فَقَالَ الذِّئْبُ أَیُّہَا الْمَلِکُ مَرِضْتَ فَعَادَکَ السِّبَاعُ إِلَّا الثَّعْلَبَ، قَالَ فَإِذَا حَضَرَ فَأَعْلِمْنِیْ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ الثَّعْلَبَ فَجَائَ فَقَالَ لَہٗ الَأسَدُ یَا أَبَا الْحُصَیْنِ مَرِضْتُ فَعَادَنِی السِّبَاعُ کُلُّہم وَلَمْ تَعُدْنِیْ أَنْتَ قَالَ بَلَغَنِیْ مَرَضُ الْمَلِکِ فَکُنْتُ فِیْ طَلَبِ الدَّوَائِ لََہٗ قَالَ : فَأَیُّ شَیْئٍ أَصَبْتَ قَالَ قَالُوْا لِیْ خَرَزَۃٌ فِیْ سَاقِ الذِّئْبِ یَنْبَغِیْ أَنْ تُخْرِجَ فَضَرَبَ الأَسَدُ بِمَخَالِیْبِہِ سَاقَ الذِّئْبِ فَانْسَلَّ الثَّعْلَبُ وَخَرَجَ فَقَعَدَ عَلَی الطَّرِیْقِ فَمَرَّ بِہِ الذِّئْبُُ وَالدَّمُ یَسِیْلُ عَلَیْہِ فَقَالَ لَہُ الثَّعْلَبُ یَا صَاحِبَ الْخُفِّ الأَحْمَر إِذَا قَعَدْتَ بَعْدَ ہَذَا عِنْدَ سُلْطَانٍ فَانْظُرْ مَا یَخْرُجُ مِنْ رَأْسِکَ۔ اَلْمَغْزٰی ( ۱)… مَنْ حَفَرَ بِئْراً لأخِیْہِ فَقَدْ وَقَعَ فِیْہِ۔ ( ۲)… کَمَا تَزْرَعُ تَحْصُدُ۔ **** { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} أَجِبْ عَنِ الأَسْئِلَۃِ الآتِیَۃ: ۱۔ مَنْ مَرِضَ مِنَ السِّبَاعِ ؟ ۲۔ مَاذَا قَالَ الذِّئْبُ لِلْمَلِکِ عَنِ الثَّعْلَبِ ؟ ۳۔ ما قال الثَّعْلَبُ لِلذِّئْبِ عِندَما خَرَجَ ؟ { …التَّدْرِیْبُ الثَّانِی…} اسْتَعْمِلُوْا الْکَلِمَاتِ الاٰتِیَۃَ فِی جُمَلٍ مُفِیْدَۃٍ: الطَّرِیْقُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سُلْطَانٌ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الدَّوَائُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الاَسَدُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یَزْرَعُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حَرِیْصٌ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ { …التَّدْرِیْبُ الثَّالث…} عَیِّنِ الظَّرْفَ فِی کُلِّ جُمْلَۃٍ مُبَیِّناً نَوْعَہُ: ۱۔انْعَقَدَ الْاِجْتِمَاعُ لَیْلاً ۲۔یَشْتَدُّ الْحَرُّ صَیْفاً ۳۔یَعْتَدِلُ الْجَوُّ رَبِیْعاً ۴۔جَلَسَ التَّلامِیْذُ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ ۵۔وَقَفَ الْعُصْفُوْرُ فَوْقَ الْغُصْنِ ۶۔الازْدِحَامُ کَثِیْرٌ عِنْدَ مَوْقِفِ السَّیَّارَاتِ { …التَّدْرِیْبُ الرَّابِع…} تَرْجِمُوْا مَا یَأتِی إِلَی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔شیر تمام جانوروں کا بادشاہ ہے۔ ۲۔لومڑی بہت چالاک جانور ہے۔ ۳۔بادشاہ کے پاس سوچ سمجھ کر گفتگو کرو۔ ۴۔اسکے جسم سے خون نکل رہا تھا۔ ۵۔راستے کے درمیان مت بیٹھو۔ ****

اَلاَسَدُوَالفأرُ

کَانَِ أَسَدٌ نَائِمًا فَأَتٰی فَأْرٌ وَمَشٰی عَلٰی رَأْسَہِ فَہَبَّ مِنَ النَّوْمِ غَضْبَاناً۔ وَقَبَضَ عَلَی الْفَأْرِ لِیَقْتُلَہُ۔فَبَکَی الْفَأْرُ وَتَضَرَّعَ۔ حَتّٰی رَقَّ لَہٗ قَلْبُ الأَسَدِ وَخَلّٰی عَنْہٗ۔ وَثَانِیَ یَوْمٍ وَقَعَ الأَسَدُ فِیْ شَرَکٍ نَصَبَہٗ لَہٗ الصَّیَّادُوْنَ۔ فَصَرَخَ وَزَأَرَ حَتّٰی سَمِعَہٗ ذٰلِکَ الْفَأْرُ۔ فَأَسْرَعَ لِمُسَاعَدَتِہِ وَقَالَ لَہُ لَا تَخَفْ فَأَنَا أُخَلِّصُکَ وَشَرَعَ یَقْرِضُ الْحَبْلَ بِأَسْنَانِہِ الْحَادَّۃِ حَتّٰی قَطَعَہٗ وَخَرَجَ الأَسَدُ سَالِمًا۔ وَشَکَرَہُ شُکْرًا کَثِیْرًا۔ ثُمَّ قَالَ لَہٗ: ’’ مَا کُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ حَیَوَانًا ضَعِیْفًا مِثْلَکَ یَقْدِرُ عَلٰی مَا لَا أَقْدِرُ عَلَیْہِ أَنَا ‘‘ ۔ فَأَجَابَہُ الفَأْرُ: ’’ لا تَحْتَقِرْ مَنْ دُوْنَکَ فَلِکُلِّ شَیْئٍ مَزِیَّۃٌ ‘‘ ۔ **** { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} أَجِبْ عَنِ الأسْئِلَۃِ الآتِیَۃِ: ۱۔لِمَاذَا غَضِبَ الاَسَدُ ؟ ۲۔لِمَاذَا قَبَضَ عَلَی الْفَاْرِ ؟ ۳۔مَا اَجَابَ الْفَارُ ؟ ۴۔أَیْنَ وَقَعَ الاَسَدُ ؟ ۵۔مَاذَا فَعَلَ الاَسَدُ حِیْنَمَا وَقَعَ فِی شَرَکٍ ؟ { …التَّدْرِیْبُ الثَّانِی…} رَتِّبِ الالفاظَ وصَحِّحِ الْجُمَلَ التَّالِیَۃ: ۱۔ لِیَقْتُلَہُ قَبَضَ الْفَاْر عَلَی الاسَد ۲۔ الصّیف فی الماضی زُرْتُہا ۳۔ الوالد وَلَدَیْہ ان ینصح اَرَادَ ۴۔کثیر من النّاس یعرفون المَوْز ۵۔انا المدنیۃ الاخبار قراء ۃ أحبّ { …التَّدْرِیْبُ الثَّالِث…} ایْتِ بِمَجْمُوْعِ الْمُفْرَدَاتِ التَّالِیَۃ: المفرد الجمع اَسَدٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فَأرٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شَرَکٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حَبْلٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شَیْئٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضَعِیْفٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حِمَارٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کَبِیْرٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حَقْلٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثُعْبَانٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نَمِرٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تَمْرَۃٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ { …التَّدْرِیْبُ الرَّابِع…} تَرْجِمُوْا مَا یَأتِی إلَی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔چوہا شیر کی مدد کے لئے دوڑا۔ ۲۔چوہا رسی کو تیز دانتوں سے کاٹنے لگا۔ ۳۔شکاریوں نے شیر پکڑنے کے لئے جال بچھایا۔ ۴۔ڈرو مت میں چھڑالوں گا۔ ۵۔کم تر اور ضعیفوں کو حقیر نہ جانو۔ ۶۔اللہ کا خوب شکر ادا کرو۔ ****

الرَّاعِی وَالذئْبُ

کَانَ وَلَدٌ یَرْعٰی غَنَمًا۔فَیَخْرُجُ بِہَا کُلَّ یَوْمٍ إِلَی مَرْعًی قَرِیْبٍ مِنْ بَلَدِہِ لِتَأْکُلَ مِنَ الْعُشْبِ الأَخْضَرِ۔وَفِیْ اَحَدِ الایَّامِ أَرَادَ أَنْ یَسْخَرَ مِنْ أَہْلِ الْقَرْیَۃِ وَاَخَذَ یَصِیْحُ بِأَعْلَی صَوْتِہِ قائلاً :أَغِیْثُوْنِی!أَدْرِکُوْنِیْ! ’’اَلذِّئْبَ، اَلذِّئْبَ ‘‘۔فَخَرَجَ الرِّجَالُ بِعِصِیِّہِمْ لإنْقَاذِہ وَإِغَاثَتِہ۔ وَلَکِنَّہُمْ لَمْ یَجِدُوْا شَیْئًا فَعَادُوْا مِنْ حَیْثُ أَتَوْا وَالْوَلَدُ یَضْحَکُ مِنْہُمْ، وَیَسْخَرُفَغَضِبَ أَہْلُ الْقَرْیَۃِ مِنْ فِعْلِہ،وَعَرَفُوْا أَنَّہ کَاذِبٌ۔ وَفِی الْیَوْمِ الثَّانِیْ أَتَی ذِئْبٌ حَقِیْقَۃً۔فَخَافَ الْوَلَدُ وَزَعَقَ مَرَّۃً أُخْرٰی۔ ’’اَلذِّئْبَ اَلذِّئْبَ ‘‘ فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّ الْوَلَدَ عَادَ یَسْخَرُ مِنْہُمْ کَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّۃٍ۔ وَلِذَلِکَ لَمْ یَہْتَمُّوْا لِصِیَاحِہِ۔ فَفَتَکَ الذِّئْبُ بِعَدَدٍ عَظِیْمٍ مِنَ الْغَنَمِ وَلَوْلا کَذِبُہُ فِی الْمَرَّۃِ الْأُوْلٰی، لَصَدَّقَہُ النَّاسُ عِنْدَ صِیَاحِہِ فِی الْمَرَّۃِ الثَّانِیَۃِ، وَجَائُ وْا لِنَجْدَتِہِ۔ **** { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} أَجِبْ عَنِ الأسْئِلَۃِ الآتِیَۃ: ۱۔مَاکَانَتْ تَاکُلُ الْغَنَمُ ؟ ۲۔لِمَ صَاحَ الْوَلَدُ بِاَعْلٰی صَوْتِہ ؟ ۳۔مَاذَا فَعَلَ الرِّجَالُ حِیْنَ صَاحَ الْوَلَدُ ؟ ۴۔مَاذَا وَقَعَ فِی یَوْمِ الثَّانِی ؟ ۵۔لِم لَمْ یُصَدِّقُ النَّاسُ الْوَلَدَ عِنْدَ صِیَاحِہ ؟ ۶۔ہَلْ تَجُوْزُ المُمَازَحَۃُ بِالْکَذِبِ ؟ وَلِمَاذَا ؟ { …التّدْرِیْبُ الثَّانِی…} حَوِّلِ الْجُمْلَۃَ الْفِعْلِیَّۃَ اِلَی اسْمِیَّۃٍ، وَالاسْمِیَّۃَ اِلی فِعْلِیَّۃٍ: ۱۔خَرَجَ الرِّجَالُ بِعِصِیِّہِمْ لانْقَاذِہ ۲۔ظَنَّ النَّاسُ أَنَّ الْوَلَدَ عَادَ یَسْخَرُ مِنْہُم ۳۔الابْنَۃُ تُطْعِمُ الْحَیَوَانَ ۴۔القَوَافِلُ الْمَدَنِیَّۃُ ذَہَبُوْا الی بِلادٍ مُخْتَلِفَۃٍ لِتَبْلِیْغِ الاسْلام ۵۔مَدَحَ الرِّجَالُ القَنَاۃَ الْمَدَنِیَّۃَ ۶۔التِّلْمِیْذُ یُتِمُّ مَا کَتَبَہ الْمُدَرِّسُ { …التّدْرِیْبُ الثَّالِث…} تَرْجِمُوْا مَا یَأتِیْ إلَی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔ایک لڑکا کپڑے بیچا کرتا تھا اور روزانہ انھیں لیکرایک قریبی بستی کی طرف نکلا کرتا تھا۔ ۲۔ایک دن اس نے ارادہ کیا کہ اپنے دوستوں سے مذاق کرے۔ ۳۔جھوٹ میں کوئی خیر نہیں۔ ۴۔ڈاکٹر سمجھا کہ مریض صحیح ہو گیا۔ ۵۔مسخرہ پن ہلاکت کا سبب ہے۔ ۶۔لوگ مدد کو پہنچے۔ ****

اَعْمَالٌ مَشْرُوْعَۃٌ وَاَعْمَالٌ غَیرُ مَشْرُوْعَۃٌ

یَشْتَغِلُ کَثِیْرٌ مِنَ الناس؛لاجْلِ جَمْعِ الْمَالِ بِطُرُقٍ مُخْتَلِفَۃٍ، بَعْضُہُمْ یَجْمَعُہ بِالاعْمَالِ الْمَشْرُوْعَۃِ کَالتِّجَارَۃِ والصَّنَاعَۃِ وَالزَّرَاعَۃِ، وَیُنْفِقُ بَعْضَ مَالِہ فی وُجُوْہِ الْخَیْرِ،فَیَکْتَسِبُ مَوَدَّۃَ النَّاسِ وَرِضَا الْخَالِقِ۔ وَبَعْضُہُمْ یَجْمَعُہ بِاَعْمَالٍ غَیْرِ الْمَشْرُوْعَۃِ؛ کَالسَّرِقَۃِ، وَالْغَشِّ، وَالرِّبَا، وَیَعِیْشُ ہٰولائِ فِیْ غَفْلَۃٍ عَنِ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ،حَتّی اِذَا أَدْرَکَہُمُ الْمَوْتُ،تَرَکُوْا أَمْوَالَہُمْ لِغَیْرِ ہِمْ یَتَصَرَّفُوْنَ فِیْہَا کَمَا یَشَاؤُوْنَ، وَأَصْبَحُوْا بَیْنَ یَدَیْ خَالِقِہِم الَّذِیْ لا یَعْذِرُہُمْ مِنْ غَفْلَتِہِمْ ،وَمِنْ ظُلْمِہِمْ لِغَیْرِہِمْ َولأنْفُسِہِمْ ۔وَعَلَی الْعَاقِلِ أَنْ یَعْمَلَ عَمَلَ الْفَرِیْقِ الاوَّلِ، وَأَنْ یَّتَجَنَّبَ طَرِیْقَ الْفَرِیْقِ الثَّانِیْ،لِیَکُوْنَ إِنْسَاناً صَالِحًا لِنَفْسِہ وَلِمُجْتَمَعِہ۔ **** { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} أَجِبْ عَنِ الأسْئِلَۃِ الآتِیَۃ: ۱۔ مَثِّلْ للاعْمَالِ الْمَشْرُوْعَۃ، وَالاَعْمَالِ غَیْرِ الْمَشْرُوْعَۃِ ؟ ۲۔مَاالأعْمَالُ الَّتِیْ تَنْوِی القِیَامَ بِہَا ؟ ۳۔مَاذَا یَجِبُ عَلَی الإنْسَانِ الْعَاقِلِ ؟ ۴۔ہَلْ یَحْسَبُ السَّارِقُ وَالْغَاشُّ وَالْمُرَابِی حِسَابَ الْمَوْتِ ؟ { …التّدْرِیْبُ الثَّانِی…} مَیِّزِ الْکَسْبَ الْمَشْرُوْعَ مِنْ غَیْرِ الْمَشْرُوْعِ فِیْمَا یَاْتِیْ: ۱۔رَاتِبُ الْوَظِیْفَۃ ۔ ۲۔اَلرِّشْوَۃ ۔ ۳۔التَّسَوُّل ۔ ۴۔أُجْرَۃُ الْحُمَّال ۔ ۵۔بَیْعُ الْمُخَدَّرَات ۔ ۶۔التَّھْرِیْب ۷۔دَخْلُ الْمُحَامِی { …التّدْرِیْبُ الثَّالث…} تَرْجِمُوْا مَا یَأتِی إِلَی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔بہت سے لوگ جائز ذرائع سے مال کماتے ہیں ۲۔ بہت سے لوگ ناجائز ذرائع سے مال کماتے ہیں ۳۔حلال کمانے والا اللہ کا دوست ہے ۴۔سود سے بچو۔ ۵۔انسان کو چاہیے کہ اپنے لئے اور معاشرے کیلئے نیک بنے۔ ****

اَلشَّرُّبِاالشَّرِّ

کَانَ وَلَدٌ فَقِیْرٌ جَالِسًا فِی الطَّرِیْقِ یَأْکُلُ خُبْزًا۔فَرَأَی کَلْبًا نَائِمًا عَلَی بُعْدٍ۔فَنَادَاہُ وَمَدَّ لَہُ یَدَہُ بِقِطْعَۃٍ مِنَ الْخُبْزِ حَتَّی ظَنَّ الْکَلْبُ أَنَّہُ سَیُعْطِیْہِ مِنْہُ لُقْمَۃً فَقَرُبَ مِنْہُ لِیَتَنَاوَلَ الْخُبْزَ۔فَضَرَبَہُ الصَّبِیُّ بِالْعَصَا عَلَی رَأْسِہِ فَفَرَّ الْکَلْبُ وَہُوَ یَعْوِیْ مِنْ شِدَّۃِ الأَلَمِ۔ وَفِی ذَلِکَ الْوَقْتِ کَانَ رَجُلٌ یَطِلُّ مِنْ شُبَّاکِہِ وَرَأَی مَا فَعَلَ الصَّبِیُّ۔ فَنَزَلَ إِلَی الْبَابِ وَمَعَہُ عَصًا خَبَأَہَا وَرَائَ ہُ۔ وَنَادَی الصَّبِیَّ وَأَبْرَزَ لَہُ قِرْشاً۔ فَأَسْرَعَ الصَّبِیُّ وَمَدَّ یَدَہُ لِیَأْخُذَ الْقِرْشَ۔فَضَرَبَہُ الرَّجُلُ بِالْعَصَا عَلَی أَصَابِعِہِ ضَرْبَۃً جَعَلَتْہُ یَصْرُخُ أَکْثَرَ مِنَ الْکَلْبِ ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ ’’ لِمَ تَضْرِبُنِی وَأَنَا لَمْ أَطْلُبْ مِنْکَ شَیْئًا ‘‘ ۔ فَأَجَابَہُ الرَّجُلُ: ’’ وَلِمَ تَضْرِبُ الْکَلْبَ وَہُوَ لَمْ یَطْلُب مِنْکَ شَیْئًا ‘‘ ۔ اَلْمَغْزٰیجَزَاءسَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا۔ **** { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} أَجِبْ عَنِ الأسْئِلَۃِ الآتِیَۃ: ۱۔أَیْنَ کَانَ الْوَلَدُ جَالِساً ؟ ۲۔مَاذَا رَأی الْوَلَدُ ؟ ۳۔ہَلْ أَعْطَی الْوَلَدُ الْکَلْبَ خُبْزاً ؟ ۴۔مَاذَا فَعَلَ الرَّجُلُ بِالصَّبِیِّ ؟ ۵۔مَاذَا أَجَابَ الرَّجُلُ لِلصَّبِیِّ ؟ { …التّدْرِیْبُ الثَّانِی…} أَکْمِلْ: کَانَ وَلَدٌ فَقِیْرٌ جَالِسًا فِی الطَّرِیْق کان وَلَدٌ غَنِیٌّ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کَانَ اَبِی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کَانَ جَارِی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کَانَ صَدِیْقُہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کَانَ اَخِی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ { …التّدْرِیْبُ الثَّالِث…} تَرْجِمُوْا مَا یَأتِی إِلَی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔ ایک آدمی کرسی پر بیٹھے ہوئے کتاب پڑھ رہا تھا۔ ۲۔میں نے سمجھا کہ وہ کامیاب ہو جائے گا۔ ۳۔رات کے وقت کتا بھونک رہا تھا۔ ۴۔طالب علم نے اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ انعام لے۔ ۵۔ لوگوں نے دور پانی کا ایک کنواں دیکھا۔ ****

اَلذئْبُ وَالخَرُوْفُ

رَأَی ذِئْبٌ خَرُوْفًا صَغِیْرًا یَشْرَبُ مِن مَاء النَّہْرِ فَأَرَادَ أَنْ یَأْکُلَہُ فَاقْتَرَبَ مِنہ وَقالَ لَہ:أَیُّہَا الخَرُوْف لَقَدْ عَکَّرْتَ المَائَ عَلَیَّ۔ قَالَ الخَروفُ: لَا سَیِّدی فَإِنَّ المَائَ یَجْرِی مِن عِنْدِکَ وَیَأْتِی إِلَی جِھَتِی۔فَقالَ الذِّئبُ: وَلَکِنَّکَ شَتَمْتَنِی قَبْلَ سَنَۃٍ۔ قَالَ الخَروفُ: إِنَّ عُمرِی سِتَّۃُ أَشْہُرٍ، فَکَیْفَ شَتَمْتُکَ قَبْلَ سَنَۃٍ ؟ فَقَال الذئبّ: اَلْخروفُ الَّذِیْ شَتَمَنِی یُشْبِھُکَ وَلَابُدَّ أَنَّہُ أَخُوْکَ۔ فَقَالَ الخَروفُ: لَیْسَ لِی إِخْوَۃٌ أَبَدًا۔ قالَ الذّئبُ: إِذَنْ ہُوَ أَحَدُ أَقَارِبِکَ، وَلَابُدَّ أَنْ أَنْتَقِمَ مِنْکَ فَھَجَمَ عَلَیہِ وَقَتَلَہُ فَأَکَلَہُ۔ **** { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} أَجِبْ عَنِ الأسْئِلَۃِ الآتِیَۃ: ۱۔مَاذَا رَأی الذِّئْبُ ؟ ۲۔مَاذَا أَرَادَ الذِّئْبُ حِیْنَمَا رَأی الْخُرُوْفَ ؟ ۳۔مَاذَا قَالَ الذِّئْبُ لِلْخُرُوْفِ حِیْنَمَا رَأٰہ شَارِباً ؟ ۴۔مَاذَا أَجَابَ الْخُرُوْف ؟ ۵۔کَمْ کَانَ عُمَرُالْخُرُوْف ؟ ۶۔ہَلْ کَانَ لِلْخُرُوْف أَخٌ ؟ ۷۔مَاذَا فَعَلَ الذِّئْبُ بِالْخُرُوْف ؟ { …التّدْرِیْبُ الثَّانِی…} أَکْمِلْ: إِنَّ عُمرِی سِتَّۃُ أَشْہُرٍ۔ إِنَّ عُمرِی اَرْبَع وعشرون۔۔۔۔۔ إِنَّ عُمرِی سَبْع وعشرون۔۔۔۔ إِنَّ عُمْرَہ تسع وعشرون۔۔۔ إِنَّ عُمرہا احد عشر۔۔۔۔ إِنَّ عُمرک اثنا عشر۔۔۔۔۔ { …التّدْرِیْبُ الثَّالِث…} تَرْجِمُوْا مَا یَأتِی إلَی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔میں نے چھوٹے بچے کو چائے پیتے دیکھا۔ ۲۔ریت نے پانی کو گدلا کر دیا۔ ۳۔پانی نہرسے بہتا ہے اور دریا کی طرف آتا ہے۔ ۴۔اس کی عمر سات ماہ ہے۔ ۵۔یقینا وہ تمہارا دوست ہے۔ ****

الثَّعلبُ الذَّکِیُّ

عَطِشَ ثَعْلَبٌ وَذَہَبَ إِلَی بِئْرٍ لِیَشْرَبَ فَسَقَطَ فِیْہَا۔ وَلَمَّا شَرِبَ أَرَادَ الخُرُوجَ فَلَمْ یَقْدِرْ لارْتِفَاعِ جِدَارِ الْبِئْرِ۔ وَبَعْدَ قَلِیْلٍ أَتَتْ عَنْزٌ لِتَشْرَبَ مِنْہَا فَرَأَتِ الثعلبَ فِیْہَا۔ فَسَأَلَتْہُ ’’ ہَل مَائُ ہَذِہِ البِئْرِ عَذْبٌ ‘‘ ۔ فقالَ الثعلبُ: ’’ نَعَمْ بَلْ ہُوَ أَعْذَبُ مَا ذُقْتُ طُوْلَ عُمْرِی۔ وَلِذَلِکَ تَرَیْنَنِی بَاقِیًا ہُنَا لَا أُرِیْدُ الخُروجَ۔ تَفَضَّلِی اِنْزِلِی لِتُشَارِکِیْنِی فِیہِ ‘‘ ۔ فَاغْتَرَّتِ الْعَنْزُ بِہَذَا الْکَلامِ وَوَثَبَتْ إِلَی دَاخِلِ البئرِ۔ وَاَخَذَتْ تَشْرَبُ حَتَّی رَوِیَتْ۔ وَأَمَّا الثَّعْلَبُ فَوَثَبَ عَلَی ظَہْرِہَا وَخَرَجَ إلَی وَجْہِ الأَرْضِ۔ وَبَقِیَتِ الْعَنْزُ حَائِرَۃً لَا تَدْرِی کَیْفَ تَخْرُجُ۔ فَطَلَبَتْ إِلَیہِ أَن تَعُوْدَ لِیُسَاعِدَہَا۔ فَقالَ لَہَا: ’’ أَنَا نَجَوْتُ بِنَفْسِی۔ وَلَیْسَ لِی فَائِدَۃٌ فِی مُسَاعَدَتِکَ أَیَّتُہَا الجَاہِلَۃُ ‘‘ ۔ فَأَدْرَکَتِ الْعَنْزُ أَنَّہُ خَدَعَہَا وَنَدِمَتْ عَلَی ذَلِکَ۔ **** { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} أَجِبْ عَنِ الأسْئِلَۃِ الآتِیَۃ: ۱۔ کَیْفَ سَقَطَ الثَّعْلَبُ فِی البِئْر ؟ ۲۔عَمَّا سَئَلَتِ الْعَنْزُ الثَّعْلَبَ ؟ ۳۔ کَیْفَ خَدَعَہَا الثَّعْلَبُ ؟ ۴۔مَا قَالَ الثَّعْلَبُ لَہَا عَنِ الْمُسَاعَدَۃ ؟ { …التّدْرِیْبُ الثَّانِی…} أَکْمِلْ: ہَل مَائُ ہَذِہِ البِئْرِ عَذْبٌ۔ ہل وَلَدُ ہذَا الصَّفِّ۔۔۔۔۔۔ ہل طَعَامُ ہذَا الْفُنْدُق۔۔۔۔۔ ہل عَصِیْرُ ذلک الدُّکَّان۔۔۔۔۔ ہل بِنْتُ ہذا الرَّجُل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہل عِیَادَۃُ ہذا الدُّکْتُوْرِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ { …التّدْرِیْبُ الثَّالِث…} تَرْجِمُوْا مَا یَأتِی إِلَی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔لومڑی ایک چالاک جانور ہے۔ ۲۔دیوار کی بلندی کی وجہ سے بکری کنویں سے باہر نہ آسکی۔ ۳۔اس کنویں کا پانی انتہائی شیریں ہے ۴۔میں اس کمرے سے باہر جانا چاہتا ہوں۔ ۵۔اے ایمان والو! جب تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لیکر آئے تو اسکی خوب چھان بین کرلو۔ ۶۔آئیے تشریف لائیے۔ ****

السَّعیدُ مَن وُعِظَ بغَیرہ

خَرَجَ أَسَدٌ وَذِئْبٌ وَثَعْلَبٌ فَاصْطَادُوْا حِمَارًا وَأَرْنَبًا وَظَبْیًا فَقَالَ الأَسَدُ لِلذِّئْبِ: اِقْسِمْ بَیْنَنَا فَقَالَ: الأَمْرُ وَاضِحٌ، اَلْحِمَارُ لِلأَسَدِ وَالأَرْنَبُ لِلثَّعْلَبِ وَالظَّبْيُ لِيْ فَغَضِبَ الأَسَدُ وَضَرَبَہُ وَأَطَارَ رَأْسَہُ، ثُمَّ قَالَ لِلثَّعْلَبِ: اِقْسِمْ أَنْتَ فَقَالَ الثعلبُ لِلأَسَدِ: اَلْحِمَارُ لِغَدَائِکَ وَالظَّبْيُ لِعَشَائِکَ وَالأَرْنَبُ لَکَ بَیْنَ الْوَجْبَتَیْنِ، فَمَدَحَہُ الأَسَدُ وَقالَ مَنْ عَلَّمَکَ ہَذِہِ الْقِسْمَۃَ الْعَادِلَۃَ ؟ ، قَالَ تَعَلَّمْتُہَا مِنْ رَأْسِ الذِّئْبِ الَّذِی طَارَ عَنْ جُثَّتِہِ۔ اَلْمَغْزٰی إنّ العاقلَ مَنِ اتَّعَظَ بِغَیْرِہٖ۔ **** { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} أَجِبْ عَنِ الأسْئِلَۃِ الآتِیَۃ: ۱۔ لِمَ غَضِبَ الاسَدُعَلَی الذِّئْب ؟ ۲۔ مَنْ قَالَ ہذِہ الْجُمْلَۃ:مَنْ عَلَّمَکَ ہَذِہِ الْقِسْمَۃَ الْعَادِلَۃَ ؟ ۳۔ مَنْ اَطَارَ رَاسَ الذِّئْب ؟ ۴۔ لِمَ مَدَحَ الاسَدُ الثَّعْلَبَ ؟ ۵۔ مَنِ العَاقِلُ ؟ { …التّدْرِیْبُ الثَّانِی…} اَکْمِل: اَلْحِمَارُ لِلأَسَدِ وَالأَرْنَبُ لِلثَّعْلَبِ وَالظَّبْيُ لِيْ۔ الْکِتَابُ لـ۔۔۔ والقَلَم لـ۔۔۔۔۔وقَلَمُ الرَّصَاصِ لـ۔۔۔۔ التُّفَّاحُ لـ۔۔۔۔والْبِطِّیْخُ لـ۔۔۔۔۔والْخَوْخُ لـ۔۔۔ ہذا الشَّایُ لـ۔۔۔وذلک الخُبْزُلـ۔۔۔۔وتلک السُّلْطَۃُ لـ۔۔۔ { …التّدْرِیْبُ الثَّالِث…} تَرْجِمُوْا مَا یَأتِی إِلَی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔ہرن کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے۔ ۲۔چاپلوسی ایک خصلتِ بد ہے۔ ۳۔شام کے کھانے میں میں نے وہ مچھلی کھائی جسے میرے ابو نے شکار کیا تھا۔ ۴۔حق بات کہو اگر چہ کڑوی ہو۔ ۵۔رات کا کھانا مت چھوڑو۔ ۶۔عقلمند کیلئے اشارہ کافی ہے۔ ****

التَّقْلِیْدُ الاَعْمَی

کَانَ حِمَارَانِ یَحْمِلانِ بِضَاعَۃً مِنْ قَرْیَۃ اِلَی اُخْرٰی۔اَحَدُہُمَا یَحْمِلُ مِلْحاً ،وَالاٰخَرُ یَحْمِلُ اِسْفَنْجاً۔وَفِی الطَّرِیْقِ اشْتَدَّ الْحَرُّ،فَاَخَذَ حِمَارُ الْمِلْحِ یَئِنُّ وَیَتَأَلَّمُ مِنْ حِمْلِہِ الثَّقِیْلِ۔اَمَّا حِمَارُ الاسْفَنْجِ فَلَمْ یَشْعُرْ بِثِقْلِ حِمْلِہٖ۔ وَکَانَ یَسِیْرُ مُرْتَاحاً ہَادِئاً؛لانَّ الاسْفَنْجَ الَّذِیْ یَحْمِلُہ خَفِیْفٌ۔وَکُلَّمَا تَالَّمَ حِمَارُ الْمِلْحِ،سَخِرَ مِنْہ حِمَارُ الاسْفَنْجِ۔وَفِی اَثْنَائِ مُرُوْرِ الْحِمَارَیْنِ بِبِرْکَۃِ مَائٍ، نَزَلَ حِمَارُ الْمِلْحِ لِیَشْرَبَ،وَاَعْجَبَہ الْمَائُ،فَقَرَّرَ اَنْ یَّدْخُلَہ لِیَتَبَرَّدَ وَیَسْتَعِیْدَ قُوَّتَہ وَنَشَاطَہ ،وَعِنْدَمَا دَخَلَ الْمَائَ ذَابَ الْمِلْحُ الَّذِیْ یَحْمِلُہ بِسُرْعَۃ وَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْبِرْکَۃِ وَجَدَ حِمْلَہ خَفِیْفاً، فَفَرِحَ وَوَاصَلَ سَیْرَہ مُرْتَاحاً۔رَای حِمَارُ الاسْفَنْجِ حِمَارَ الْمِلْحِ فَرِحاً نَشِیْطاً،فَتَمَنَّی اَن یَّکُوْنَ مِثْلَہ فِیْ فَرِحِہ وَنَشَاطِہ، وَسَالَ نَفْسَہ:لِمَاذَا لا اَفْعَلُ مِثْلَمَا فَعَلَ حِمَارُ الْمِلْحِ ؟ وقَرَّرَ اَنْ یَّدْخُلَ الْمَائَ عِنْدَ اَوَّلِ مَاء یُصَادِفُہ فِیْ الطَّرِیْقِ۔ وَبَعْدَ مُسَافَۃٍ مَرَّ بِبِرْکَۃِ مَائٍ اُخْرٰی، وَدُوْنَ تَفْکِیْرٍ نَزَلَ مَائَ الْبِرْکَۃِ لِیَتَبَرَّدَ، وَبَعْدَ اَنْ خَرَجَ مِنْہَا وَجَدَ حِمْلَہ ثَقِیْلاً ،لانَّ الاِسْفَنْجَ الَّذِیْ کَانَ یَحْمِلُہ امْتَصَّ کَمِیَّۃً کَبِیْرَۃً مِنَ الْمَائِ ،فَاَصْبَحَ لا یَقْوَی عَلی السَّیْرِ کَمَا کَانَ ،وَاَخَذَ یَئِنُّ وَیَتَالَّمُ ،وَحِمَارُ الْمِلْحِ یَسْخَرُ مِنْہ وَیَسْتَہْزِیئُ بِہ کَمَا سَخِرَمِنْہ وَاسْتَہْزَاَبِہ مِنْ قَبْلُ۔فَنَدِمَ حِمَارُ الاسْفَنْجِ عَلی مَا فَعَلَ، وَعَرَفَ اَنَّ التَّقْلِیْدَ الاعْمٰی یَضُرُّ صَاحِبَہ۔ { …التّدْرِیْبُ الاوّل…} اَجِبْ عَمَّا یَأتِی: ۱ مَاذَا کَانَ یَحْمِلُ کُلٌ مِنَ الْحِمَارَیْن ؟ ۲ اَیُّ الْحِمَارَیْنِ کَانَ مُتَالِّماً ؟ وَلِمَاذَا ؟ ۳ لِمَاذَا صَارَ حِمْلُ حِمَارِ الْمِلْحِ خَفِیْفاً ؟ ۴ لِمَاذَا صَارَ حِمْلُ حِمَارِ الاسْفَنْجِ ثَقِیْلاً ؟ ۵ اَیُّ الْحِمَارَیْنِ اَخْطَاَ فِیْ حَقِّ نَفْسِہ ؟ وَلِمَاذَا ؟ ۶ مَاذَا نَتَعَلَّمُ مِنْ ہٰذِہِ الْحِکَایَۃِ ؟ { …التّدْرِیْبُ الثَّانِی…} اِقْرَا ثُمَّ أَکْمِلْ: قَرَّرَالْحِمَارُ اَنْ یَدْخُلَ الْمَاءلِـ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قَرَّرَ الطَّالِبُ اَنْ یَذْہَبَ اِلَی الْمَکْتَبَۃِ لـ۔۔۔۔۔۔۔۔ قَرَّرَ الفَلَّاحُ اَنْ یَحْرُث الارْضَ لـ۔۔۔۔۔۔۔ قَرَّرَ الرَّجُلُ اَنْ یَنَامَ لـ۔۔۔۔۔۔۔ قَرَّرَ الطَّالِبُ اَنْ یَجْتَہِدَ لـ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قَرَّرَ الابُ اَنْ یُسَافِرَ لـ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ { …التّدْرِیْبُ الثَّالِث…} أَکْمِلْ: اَلْمِلْحُ ثَقِیْلٌ وَالاسْفَنْجُ خَفِیْفٌ۔ الشِّتَاء۔۔۔۔والصَّیْفُ۔۔۔۔۔ النَّہَارُ۔۔۔۔وَاللَّیْلُ۔۔۔۔۔ العِلْمُ۔۔۔۔۔۔وَالْجَہْلُ۔۔۔۔۔۔۔۔ الحِمَارُ۔۔۔۔۔۔والعُصْفُوْرُ۔۔۔۔۔۔۔ الشَّمْسُ۔۔۔۔۔والقَمَرُ۔۔۔۔۔ { …التّدْرِیْبُ الرَّابِع…} تَرْجِمُوْا مَایَاتِیْ اِلَی الْعَرَبِیَّۃ: ۱۔ راستے میں بہت گرمی تھی۔ ۲۔ وہ اطمینان سے چل رہا تھا۔ ۳۔ اندھی تقلید(پیروی)نقصان دہ ہے۔ ۴۔کسی کا مذاق مت اڑاؤ۔ ۵۔ میں وہ کام کیوں نہ کروں جو تم نے کیا ۔ ۶۔گلاس میں چینی پگھل چکی ہے۔ ****

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن