30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…انہی سے مروی ہے کہ: ’’ مَثَلَ الَّذِيْ یَطْلُبُ أََمْرَ دِیْنِہٖ بِلَا اِسْنَادٍ کَمَثَلِ الَّذِيْ یَرْتَقِيْ السَّطْحَ بِلَا سُلَّمیعنی اس شخص کی مثا ل جو اپنے کسی امر دینی کو بلا اسناد طلب کرتا ہے اس کی طرح ہے جو سیڑھی کے بغیر چھت پر چڑھنے میں لگا ہو۔ ‘‘
٭…انہی سے منقول ہے کہ:بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ: یَعْنِي الِاسْنَادَ
یعنی ہمارے او ر دیگر لوگوں کے درمیان قابل اعتماد چیز اسناد ہے ۔ (فتح المغیث و مقدمۃ مسلم)
٭…اور امام شافعی رَحِمَہُ اللہِ الْکَافی سے منقول ہے کہ: ’’ مَثَلَ الَّذِيْ یَطْلُبُ الْحَدِیْثَ بِلا اِسْنَادٍ کَمَثَلِ حَاطِبِ لَیْلٍیعنی اس شخص کی مثال جو بلا سند حدیث کو طلب کرتا ہے اس کی مانند ہے جو اندھیری رات میں لکڑیاں تلاش کرتا ہے (مطلب یہ ہے کہ جو شخص اندھیری رات میں لکڑیاں تلاش کرتا ہے تو پھر ان لکڑیوں کے علاوہ دیگر چیزیں بھی اٹھالیتا ہے یعنی اندھیرے کی وجہ سے وہ امتیاز نہیں کرپاتاکہ میں لکڑیاں اٹھا رہا ہوں یا کوئی اور چیز۔یہی مثال اس شخص کی ہے جو حدیث میں کلام کو خلط ملط کرکے پیش کرتا ہے ) ۔ (فتح المغیث)
٭…اور حضرت سفیان ثوریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے منقول ہے کہ: ’’ الِاسْنَادُ سِلاَحُ الْمُؤْمِنِ فَاِذَا لَمْ یَکُنْ مَعَہٗ سِلاَحٌ فَبِأَيِّ شَیٍٔ یُقَاتِلُیعنی اسناد مؤمن کا ہتھیار ہے اگر اس کے پاس ہتھیار ہی نہیں ہو گا تو وہ کس چیز کی مدد سے لڑے گا۔ ‘‘ (فتح المغیث)
٭…بقیہ نے کہا کہ میں نے حضرت حماد بن زید کو چند احادیث سنائیں تو انھوں نے فرمایا کہ : ’’ مَا أَجْوَدَہَا لَوْ کَانَ لَہَا أَجْنِحَۃٌ یَعْنِيْ الأَسَانِیْدَ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان احادیث کے پرو بازو بھی ہوتے یعنی اسانید کے ساتھ ذکر کی جاتیں ۔ (فتح المغیث)
٭…اور مطر نےاللہ تعالٰی کے اس فرمان { اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ } (الاحقاف: ۴) کے بارے میں کہا کہ اس سے مراد اسناد ِحدیث ہے۔ (فتح المغیث)
٭…جب امام زہری کو کسی اسحاق بن ابو فروہ نامی شخص نے بغیر اسناد کے چند احادیث سنائیں تو آپ نے اس سے فرمایا: ’’ قَاتَلَکَ اللہ یَا ابْنَ أَبِيْ فَرْوَۃَ! مَا أَجْرَأَکَ عَلَی اللہ أَنْ لَا تُسْنِدَ حَدِیْثَکَ، تُحَدِّثُنَا بِأحَادِیْثَ لَیْسَ لَھَا خُطُمٌ وَلَا أَزِمَّۃٌ یعنی اے ابن ابو فروہ! تجھےاللہ تباہ کرے تجھے کس چیز نےاللہ پر جری کردیا ہے ؟کہ تیری حدیث کی کوئی سند نہیں ،تو ہم سے ایسی حدیثیں بیان کرتا ہے جن کی نکیل ہے نہ لگام۔ (معرفۃ علوم الحدیث)
نوٹ:
خطیب کا قول ہے : ’’ وَأَمَّا أَخْبَارُ الصَّالِحِیْنَ وَحِکَایَاتُ الزُّہَّادِ وَالْمُتَعَبِّدِیْنَ وَمَوَاعِظُ الْبُلَغَائِ وَحِکَمُ الأُدَبَائِ فَالْأَسَانِیْدُ زِیْنَۃٌ لَہَا وَلَیْسَتْ شَرْطاً فِيْ تَأْدِیَتِہَا ‘‘ مفہوم یہ ہے کہ: صالحین و زاہدین و بزرگان دین کے فضائل کے قصوں کے لئے سند شرط و ضروری نہیں ہاں ایک طرح کی زینت و اضافی خوبی ہے۔
٭…٭…٭…٭
(۱) …راوی:
وہ شخص جو سند کے ساتھ حدیث کو نقل کرے۔
(۲) …طالبُ الحدیث:
وہ مبتدی جو روایت ، درایت ،شرح اور فقہ کے اعتبار سے حدیث پڑھنے میں مشغول ہو۔
(۳) …مُحَدِّث:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع