30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے، پھر درجۂ ششم میں ضعفِ قوی ووہنِ شدید ہے جیسے راوی کے فسق وغیرہ قوادحِ قویہ کے سبب متروک ہونا، بشرطیکہ ہنوز سرحدِ کذب سے جُدائی ہو،یہ حدیث احکام میں احتجاج درکنار اعتبار کے بھی لائق نہیں ، ہاں فضائل میں مذہب راجح پر مطلقاً اور بعض کے طور پر بعد ِانجبار بتعدد ِمخارج وتنوعِ طرق ،منصب ِقبول وعمل پاتی ہے،کماسَنُبَیِّنُہٗ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی (اِنْ شَاءَاللہ تَعَالٰی عنقریب ان کی تفصیلات آرہی ہیں ۔ ت) پھر درجہ ہفتم میں مرتبہ مطروح ہے جس کا مدار وضاع ،کذّاب یا متہم بالکذب پر ہو، یہ بدترین اقسام ہے بلکہ بعض محاورات کے رُو سے مطلقاً اور ایک اصطلاح پر اس کی نوعِ اشد یعنی جس کا مدار کذب پر ہو عینِ موضوع، یا نظرِ تدقیق میں یوں کہے کہ ان اطلاقات پر داخل موضوع حکمی ہے۔ان سب کے بعد درجہ موضوع کاہے،یہ بالاجماع نہ قابلِ انجبار،نہ فضائل وغیرہا کسی باب میں لائقِ اعتبار، بلکہ اُسے حدیث کہنا ہی توّسع وتجوّز ہے،حقیقۃً حدیث نہیں محض مجعول وافترا ہے، والعِیَاذُ بِاللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔ وَسَیُرَّدُّ عَلَیْکَ تَفَاصِیْلُ جَلِّ ذٰلِکَ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ الْعَلِيُّ الْاَعْلٰی (اس کی روشن تفاصیل اِنْ شَاءَاللہ تَعَالٰی آپ کے لئے بیان کی جائیں گی۔ ت) طالبِ تحقیق ان چند حرفوں کو یاد رکھے کہ باوصفِ وجازت ،محصل وملخصِ علمِ کثیر ہیں اور شاید اس تحریرِ نفیس کے ساتھ ان سطور کے غیر میں کم ملیں ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ۔ (فتاوی رضویہ، ج۵، ص۴۴۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع