دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya | نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ

book_icon
نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ

۔چنانچہ رب عزّوجلّ فرماتاہے: وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-ترجمۂ کنز الایمان:   ’’ اور جو کچھ تمہیں  رسول عطا فرمائیں  وہ لو اور جس سے منع فرمائیں  باز رہو ‘‘ ۔

          یہاں  سے معلوم ہوتاہے کہ رحمتِ عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جو کچھ عطافرمادیں  وہ لے لیا جائے چاہے وہ قول کی صورت میں  ہویاکسی اور صورت میں  ۔ ’’ خُذُوْہُ ‘‘  اس بات پر دلالت کرتاہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فرمان پر عمل ضروری ہے۔ایک جگہ فرمایا:

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ (۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ (۴)   (النجم: ۳-۴)

ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں  کرتے وہ تو نہیں  مگر وحی جو انہیں  کی جاتی ہے‘‘۔

          لہذا معلوم ہواکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا احکامِ شریعت کے بارے میں  فرمان وحیِ الہی ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے رب کا کوئی حکم جاری فرمانا۔ ایک جگہ یوں  فرمایا:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-

ترجمۂ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نےاللہ کا حکم مانا۔

          سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کو رب نے اپنی اطاعت فرمایا اور ہر عاقل جانتا ہے کہ اطاعت حکم  (قول) کی ہواکرتی ہے تومعلوم ہواکہ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان  (حدیث)  حجتِ شرعی ہے کہ جس کی اطاعت کو رب نے اپنی اطاعت فرمایا۔حاصل یہ کہ حدیث حجت شرعی ہے اور اس کا حجت ہونا قرآن سے ثابت ہے۔

 (۳) …تَدْوِینِ حدیث:

          تدوین حدیث (حدیث کو جمع کرنے) کا سلسلہ عہدِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے لے کر تبع تابعین تک مسلسل جاری رہا۔اگرچہ ابتدائی دور میں  سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو احادیث لکھنے سے منع فرمادیاتھا کیونکہ ابتدائی دور آیاتِ قرآنیہ کے نزول کا دور تھا لہذا اس دور میں  صرف قرآن کریم کوہی ضبطِ تحریر میں  لانا اہم ترین کام تھا، اور سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ احادیث لکھنے سے منع فرماتے تھے تاکہ قرآن اور احادیث میں  التباس نہ ہوجائے چنانچہ ابتداء آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:

’’  لاَ تَکْتُبُوْا عَنِّيْ وَمَنْ کَتَبَ عَنِّيْ غَیْرَ الْقُرْآنِ فَلْیَمْحُہُ  ‘‘

میرا کلام نہ لکھو اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے سن کر لکھا وہ اسے مٹادے۔

 (صحیح مسلم شریف ، کتاب الزہد، جلد۲، ص۴۱۴)

          لیکن جوں  ہی نزول قرآن کا سلسلہ ختم ہوااور التباس کے خطرات باقی نہ رہے توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کتابتِ حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی۔چنانچہ امام ترمذی حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کرتے ہیں :

  ’’ کَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ یَجْلِسُ اِلٰی رَسُوْلِاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَسْمَعُ مِنْہُ الْحَدِیْثَ فَیُعْجِبُہٗ وَلَا یَحْفَظُہُ فَشَکَا

 ترجمہ : ’’ انصار میں  سے ایک آدمی حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضرہوتاپھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشادات سنتااور خوش ہوتااور ذٰلِکَ اِلٰی رَسُوْلِاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ  ’’ اِسْتَعِنْ بِیَمِیْنِکَ وَأَوْمَأَ بِیَدِہٖ اِلَی الْخَطِّ ‘‘

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن