30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…حدیثِ ضعیف سے استحباب ثابت ہوتاہے سنیت نہیں ۔ (ج۱،ص۱۹۶)
٭… راوی کی تعریف وستائش روایت کی تعریف وستائش نہیں ۔اور راوی کا فی نفسہٖ صادق ہونا، حدیث میں اس کے ضعیف ہونے کے منافی نہیں ۔ (ج۳،ص۳۵۳)
٭…اسباب ِطعن دس ہیں : ۱۔کذب ۲۔تہمت ۳۔کثرت ِغلط ۴۔غفلت ۵۔فسق ۶۔وہم ۷۔مخالفت ِثقات ۸۔جہالت ۹۔بدعت ۱۰۔سوئِ حفظ ۔ (ج۵،ص۴۵۴)
٭…مجہول کی تین قسمیں ہیں :۱۔مستور:جس کی عدالت ِظاہری معلوم اور باطنی کی تحقیق نہیں ۔۲۔مجہول العین: جس سے صرف ایک ہی شخص نے روایت کی ہو۔۳۔مجہول الحال: جس کی عدالت ِظاہری وباطنی کچھ ثابت نہیں ۔قسمِ اول یعنی مستور تو جمہور محققین کے نزدیک مقبول ہے یہی مذہب امام الأئمہ سیدنا امام اعظم رضیاللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔اور دو قسم باقی کو بعض اکابر حجت جانتے جمہور مورث ضعف مانتے ہیں ۔ (ج۵،ص۴۴۳،۴۴۴)
٭… (موضوعیتِ حدیث کیونکر ثابت ہوتی ہے) غرض ایسے وجوہ سے حکم وضع کی طرف راہ چاہنا محض ہوس ہے، ہاں موضوعیت یوں ثابت ہوتی ہے کہ اس روایت کا مضمون (۱) قرآنِ عظیم (۲) سنتِ متواترہ (۳) یا اجماعی قطعی قطعیات الدلالۃ (۴) یا عقلِ صریح (۵) یا حسنِ صحیح (۶) یا تاریخِ یقینی کے ایسامخالف ہوکہ احتمالِ تاویل وتطبیق نہ رہے۔ (۷) یا معنی ،شنیع وقبیح ہوں جن کا صدور حضور پُرنور صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْہ سے منقول نہ ہو، جیسے معاذاللہ کسی فساد یا ظلم یا عبث یا سفہ یا مدحِ باطل یا ذمِ حق پر مشتمل ہونا۔ (۸) یا ایک جماعت جس کا عدد حدِ تواتر کو پہنچے اور ان میں احتمال کذب یا ایک دوسرے کی تقلید کا نہ رہے اُس کے کذب وبطلان پر گواہی مستنداً الی الحس دے۔عہ: زِدْتُہٗ لِاَنَّ التَّوَاتُرَ لاَیُعْْتَبَرُ اِلَّافِی الْحِسِّیَّاتِ کَمَا نَصُّوْا عَلَیْہِ فِِی الْاَصْلَیْن۔ منہ (م) میں نے اس کا اضافہ کیا کیونکہ تواتر کا اعتبار حسیات کے علاوہ میں نہیں ہوتا جیسے کہ انہوں نے اصول میں اس کی تصریح کی ہے ۔ منہ (ت) (۹) یا خبر کسی ایسے امر کی ہوکہ اگر واقع ہوتا تو اُس کی نقل وخبر مشہور ومستفیض ہوجاتی، مگر اس روایت کے سوا اس کا کہیں پتا نہیں ۔ (۱۰) یا کسی حقیر فعل کی مدحت اور اس پر وعدہ وبشارت یا صغیر امر کی مذمّت اور اس پر وعید وتہدید میں ایسے لمبے چوڑے مبالغے ہوں جنہیں کلام معجز نظام نبوت سے مشابہت نہ رہے۔ یہ دس۱۰ صورتیں تو صریح ظہور ووضوحِ وضع کی ہیں ۔ (۱۱) یا یوں حکمِ وضع کیا جاتا ہے کہ لفظ رکیک وسخیف ہوں جنہیں سمع دفع اور طبع منع کرے اور ناقل مدعی ہوکہ یہ بعینہا الفاظ کریمہ حضور افصح العرب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہیں یا وہ محل ہی نقل بالمعنی کا نہ ہو۔ (۱۲) یا ناقل رافضی حضرات اہلبیت کرام علیٰ سیدہم وعَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو اُس کے غیر سے ثابت نہ ہوں ، جیسے حدیث:لَحْمُک لَحْمِیْ وَدَمُک دَمِی ْ (تیرا گوشت میرا گوشت، تیرا خُون میرا خُون۔ ت)
أقول: انصافاً یوں ہی وہ مناقبِ امیر معاویہ وعمروبن العاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکہ صرف نواصب کی روایت سے آئیں کہ جس طرح روافض نے فضائلِ امیرالمومنین واہلِ بیت طاہرین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُممیں قریب تین لاکھ حدیثوں کے وضع کیں ’’ کَمَانَصَّ عَلَیْہِ الْحَافِظُ أَبُوْیَعْلٰی وَالْحَافِظُ الْخَلِیْلِيُّ فِي الْاِرْشَادِ‘‘ (جیسا کہ اس پر حافظ ابویعلی اور حافظ خلیلی نے ارشاد میں تصریح کی ہے۔ت) یونہی نواصب نے مناقبِ امیرِ معٰویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں حدیثیں گھڑیں کَمَاأَرْشَدَ اِلَیْہِ الْاِمَامُ الذَّابُّ عَنِ السُّنَّۃِ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی (جیسا کہ اس کی طرف امام احمد بن حنبل رحمہاللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی جو سنّت کا دفاع کرنے والے ہیں ۔ ت) (۱۳) یا قرائن ِحالیہ گواہی دے رہے ہوں کہ یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع