30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہاجاتاہے۔(ج۵،ص۶۲۱)
٭…لَاأَصْلَ لَہَا مقتضی ِ کراہت نہیں ۔(ج۵،ص۶۴۱)
٭…کسی حدیث کی سند میں راوی کا مجہول ہونا اگراثرکرتا ہے تو صرف اس قدر کہ اسے ضعیف کہاجائے نہ کہ باطل وموضوع ۔ (ج۵،ص۴۴۳)
٭…نافع اورعبداللہ بن واقد دونوں شاگرد ِعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاہیں ۔ (ج۵،ص۱۶۷)
٭…محاوراتِ سلف واصطلاحِ محدثین میں تشیع اور رفض کے درمیان فرق ہے متأخرین ’’ شیعہ ‘‘ روافض کو کہتے ہیں ۔ (ج۵،ص۱۷۵)
٭…بخاری ومسلم کے تیس سے زیادہ وہ راوی ہیں جن کو اصطلاح قدماء پر بلفظِ تشیع ذکرکیاجاتاہے۔ (ج۵،ص۱۷۶)
٭…چند اوہام یا کچھ خطائیں محدث سے صادرہونا نہ اسے ضعیف کردیتا ہے نہ اس کی حدیث کومردود۔ (ج۵،ص۱۸۴)
٭…حدیث ِمعلول کیلئے ضعف ِراوی ضروری نہیں ۔ (ج۵،ص۲۰۶)
٭…جمہور محدثین کے مذہبِ مختارپرمدلس کاعنعنہ مردود ہے۔ (ج۵،ص۲۴۵)
٭…مرسل حدیث ہمارے اورجمہورکے نزدیک حجت ہے۔ (ج۵،ص۲۹۲)
٭…ضعیف ومتروک میں زمین وآسمان کا فرق ہے کہ ضعیف کی حدیث معتبر ومکتوب اور متابعت وشواہد میں مقبول ہے بخلاف متروک ۔ (ج۵،ص۳۰۳)
٭…عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمرو انس سے افقہ ہیں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اجمعین۔ (ج۵،ص۳۱۱)
٭…حدیث صحیح نہ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ غلط ہے۔ (ج۵،ص۴۳۶)
٭…حدیث ِحسن احکامِ حلال وحرام میں حجت ہوتی ہے۔ (ج۵،ص۴۳۷)
٭…کتب ِصحاحِ ستہ میں مذکورہ تما م احادیث صحیح نہیں تسمیہ بصحاح تغلیباً ہے۔ (ج۵،ص۴۳۹)
٭…حدیثِ موضوع بالاجماع ناقابلِ انجبار،نہ فضائل وغیرہ کسی باب میں لائقِ اعتبار۔ (ج۵،ص۴۴۰)
٭…حدیث ِضعیف احکام میں بھی مقبول ہے جبکہ محلِ احتیاط ہو۔ (ج۵،ص۴۹۴)
٭…حدیثِ ضعیف پر عمل کیلئے خاص اس فعل میں حدیث ِصحیح کا آنا ضروری نہیں ۔ (ج۵،ص۵۰۱)
٭…مسلم وبخاری میں بھی ضعفاء کی روایات موجود ہیں ۔ (ج۵،ص۵۱۱،۵۱۲)
٭…دارقطنی احادثِ شاذہ معلّلہ سے پرُہے۔ (ج۵،ص۵۱۸)
٭…کتب ِموضوعات میں کسی حدیث کا ذکر مطلقاً ضعف ہی کو مسلتزم نہیں ۔ (ج۵،ص۵۴۸)
٭…ابنِ جوزی نے صحاحِ ستہ اور مسندِ امام احمد کی چوراسی احادیث کوموضوع کہا۔ (ج۵،ص۵۴۸)
٭…بالفرض اگر کتبِ حدیث میں اصلا ًپتانہ ہوتا،تاہم ایسی حدیث کا بعض کلمات ِعلماء میں بلا سند مذکور ہونا کافی ہے۔ (ج۵،ص۵۵۵)
٭…حدیث اگرموضوع بھی ہوتاہم فعل کی ممانعت نہیں ۔ (ج۵،ص۵۶۱)
٭…عمل بموضوع اورعمل بما فی الموضوع میں فرقِ عظیم ہے۔ (ج۵،ص۵۷۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع