30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔
حدیث کی چھ مستند ترین کتابیں :
(۱) …بخاری شریف (۲) …مسلم شریف (۳) …ترمذی شریف
(۴) …ابوداؤد شریف (۵) …نسائی شریف (۶) …ابن ماجہ شریف۔
٭…٭…٭…٭
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
٭…حدیث کے صحیح نہ ہونے اور موضوع ہونے میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔اور حدیث کے صحیح نہ ہونے سے اس کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔(ج۵،ص۴۴۰،۴۴۱)
٭…ابن جوزی نے جس جس حدیث کو غیر صحیح کہا اس کا موضوع ہونا لازم نہیں آ تا۔ (ج۵،ص۴۴۱)
٭…لفظ ’’ لا یثبت ‘‘ سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ حدیث موضوع ہے۔ (ج۵،ص۴۴۲)
٭…سند کا منقطع ہونا مستلزم وضع نہیں ۔ (ج۵،۴۴۸)
٭…ہمارے ائمہ کرام اور جمہور علماء کے نزدیک انقظاع سے صحت وحجیت میں کچھ خلل نہیں آتا۔ (ج۵، ص۴۴۸)
٭…حدیث مضطرب بلکہ منکر بلکہ مدرج بھی موضوع نہیں یہاں تک کہ فضائل میں مقبول ہیں ۔ (ج۵،ص۴۵۰)
٭…ضعف ِراویان کے باعث حدیث کو موضوع کہہ دینا ظلم وجزاف ہے۔ (ج۵،ص۴۵۳)
٭…منکر ومتروک کی حدیث بھی موضوع نہیں ۔ (ج۵،ص۴۵۵،۴۵۶)
٭…بارہا موضوع یا ضعیف کہنا صرف ایک سند کے اعتبار سے ہوتاہے نہ کہ اصلِ حدیث کے اعتبار سے۔ (ج۵،ص۴۶۸)
٭…تعدد ِطرق سے ضعیف حدیث قوت پاتی ہے بلکہ حسن ہوجاتی ہے۔ (ج۵،ص۴۷۲)
٭…حصولِ قوت کو صرف دو سندوں سے آنا کافی ہے۔ (ج۵،ص۴۷۵)
٭…اہلِ علم کے عمل کرلینے سے حدیثِ ضعیف قوی ہوجاتی ہے۔ (ج۵،ص۴۷۵)
٭…حدیث ’’ أَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ فَبِاَیِّہِمُ اقْتَدَیْتُمْ اِہْتَدَیْتُمْ میں اگرچہ محدثین کو کلام ہے مگر وہ اہل کشف کے نزدیک صحیح ہے۔ (ج۵،ص۴۹۱)
٭…اَخذ میں قلت ِمبالات زمانہ ٔتابعین سے پیداہوئی۔ (ج۵،ص۶۱۲)
٭…محدثین کی اصطلاح میں جس حدیث کو مُرْسَل، مُنْقَطِع، مُعَلَّق، مُعْضَل کہتے ہیں فقہاء اور اصولیین کی اصطلاح میں ان سب کومُرْسَل
[1] مذکورہ فوائدِ حدیثیہ میں سے اکثر فوائد فتاوی رضویہ مخرجہ جلد ۵ میں موجود رسائل منیر العین اور حاجز البحرین سے لئے گئے ہیں ان فوائد کو فقط ایک نظر دیکھنے سے امامِ اہلسنت کی دیگر علوم و فنون میں مہارت و جودتِ طبع کی طرح علم اصول حدیث میں بھی مہارت و دقت ِنظری آفتاب ِنیم روز کی طرح واضح دکھائی دیتی ہے۔ ہم نے یہاں ان فوائد کو اجمالاً ذکر کیا ہے لہذا اگر کسی کو تفصیل یا تشریح مطلوب ہو تو ان رسائل اور دیگر کتب ِاصولِ حدیث کی طرف مراجعت کرے۔۱۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع