30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ‘‘
حکم:
حدیث مرفوع کبھی متصل ،منقطع و مرسل وغیرہ ہوتی ہے لہذا یہ جس قسم کے تحت آئے گی اسی کا حکم اختیار کرے گی۔
(۳) …حدیث موقوف:
وہ قول فعل یا تقریر جس کی نسبت صحابی کی طرف کی جائے۔
مثال:
’’ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِيْ طَالِبٍ لَا خَیْرَ فِيْ عِبَادَۃٍ لَا عِلْمَ فِیْہَا ‘‘ یعنی اس عبادت میں کوئی خیر نہیں جس میں علم نہ ہو۔ ‘‘ (تاریخ الخلفاء، عربی ص۱۴۷)
(۴) …حدیث مقطوع:
وہ قول یا فعل جو کسی تابعی کی طرف منسوب ہو۔
مثال:
’’ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: اَلصَّبْرُ کَنْزٌ مِّنْ کُنُوْزِ الْجَنَّۃِ ‘‘
ترجمہ:حضرت حسن بصری (تابعی) رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (تفسیر الحسن البصری عربی،۱/ ۲۱۱)
مقطوع اور منقطِع میں فرق:
حدیث مقطوع کا تعلق متن سے ہے یعنی وہ متن جو تابعی کی طرف منسوب ہو وہ حدیث مقطوع ہے جبکہ حدیث منقطع کا تعلق سند سے ہے یعنی وہ حدیث جس کی سند میں سے کوئی راوی ساقط ہو جائے متن سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
٭…٭…٭…٭
سوال نمبر (1) :حدیث قدسی کی تعریف ومثال بیان کریں ۔
سوال نمبر (2) :حدیث مرفوع کی تعریف ومثال بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (3) :حدیث موقوف کی تعریف ومثال بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (4) :حدیث مقطوع کی تعریف ومثال بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (5) :مقطوع و منقطع کا فرق بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (6) :حدیث کی مندرجہ بالا تقسیم کس اعتبار سے کی گئی ہے؟
٭…٭…٭…٭
وہ خوش نصیب جس نے ایمان کی حالت میں سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ملاقات کا شرف حاصل کیاہواور ایمان ہی پر اس کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع