30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رَسُوْلِ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جب اتنا کہہ کر خاموش ہوئے تاکہ لکھنے والے لکھ لیں اتنے میں ثابت تشریف لے آئے انہیں دیکھ کر شریک نے کہا مَنْ کَثُرَتْ صَلَاتُہٗ بِاللَّیْلِ حَسُنَ وَجْہُہٗ بِالنَّہَارِ یہ سن کر ثابت نے گمان کیا کہ یہ اس سند کا متن ہے چنانچہ وہ اسے آگے بیان کرتے تھے۔
(۲) …مُدْرَجُ المَتَن:
جس حدیث کے متن میں ایسا کلام بلا فصل داخل کردیا جائے جو حدیث کا حصہ نہ ہو مدرج المتن کہلاتی ہے۔یہ اضافہ کبھی متن کی ابتداء میں ہوتاہے کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں لیکن اکثر آخر میں ہی ہوتاہے۔
مثال:
’’ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُاللہ صَلَّیاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ وَیْلٌ لِلْاَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‘‘
ترجمہ: شعبہ سے روایت ہے وہ محمد بن زیاد سے اور وہ ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: وضوء کامل کرو خشک ایڑھیوں کیلئے آگ کا عذاب ہے۔ ‘‘
اس حدیث میں ’’ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ‘‘ کے الفاظ حضر ت ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہیں گویا کہ انہوں نے فرمایا کہ وضوء کامل کرواور اس پر دلیل کے طور پر سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا یہ فرمان لائے کہ وَیْلٌ لِلْاَعْقَابِ مِنَ النَّارِلیکن اس سے حدیث کے الفاظ میں اشتباہ ہوگیا کیونکہ أَسْبِغُوا الْوُضُوء کے الفاظ ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف سے ہونے پر ظاہرا کوئی قرینہ نہیں ۔
ادراج کا حکم:
ادراج بالاجماع حرام ہے لیکن اگر مشکل لفظ کی تفسیر کیلئے ادراج کیا گیاہوتوغیر ممنوع ہے۔
(۳) …مقلوب:
جس حدیث کے متن یا سند میں تبدیلی کردی جائے چاہے الفاظ کے بدلنے سے ہو یا ان کو مقدم ومؤخر کرنے سے ۔
مثال:
’’ عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللہ تَعَالٰی عَنْہٗ :اَلسَّبْعَۃُ الَّذِیْنَ یُظِلّہُمُاللہ فِيْ ظِلِّہٖ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلُّہٗ فَفِیْہِ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَأَخْفَاھَا حَتّٰی لاَ تَعْلَمَ یَمِیْنُہٗ مَا تُنْفِقُ شِمَالُہٗ ‘‘ ترجمہ: حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سات آدمی جنہیں اللہ تعالٰی اپنے سایہ رحمت میں اس دن جگہ دے گا کہ جس دناللہ کے سایہ رحمت کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ان میں سے ایک وہ شخص ہے کہ جس نے صدقہ کیا پھر اسے چھپایا یہاں تک کہ اس کے سیدھے ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ الٹے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ ‘‘
اس حدیث کے الفاظ میں قلب ہے کیونکہ اصل الفاظ یہ تھے ’’ حَتّٰی لاَ تَعْلَمَ شِمَالُہ مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہٗ ‘‘ یہاں تک کہ اس کے الٹے ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ سیدھے ہاتھ نے کیا خرچ کیاہے۔
حکم:
قلب جائز نہیں لیکن اگر بغرض امتحان کیا جائے تو جائز ہے تاکہ محدث کے حفظ کو جانچاجاسکے اور جھوٹے محدثین سے بچا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع