30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بن دینار کو سند میں ذکر کیا ہے حالانکہ سفیان ثوری عمرو بن دینار سے نہیں بلکہ عبداللہ بن دینار سے روایت کرتے ہیں کیونکہ سفیان کے تمام اصحاب (شاگرد) اس حدیث کو عبداللہ بن دینار سے روایت کرتے ہیں ۔
ان کا حکم:
یہ خبر مردود کی اقسام میں سے ہیں اور خبرِمردود کا حکم گذرچکا ہے۔
٭…٭…٭…٭
سوال نمبر (1) :موضوع حدیث کی تعریف ومثال بیان کریں ۔
سوال نمبر (2) :متروک کی تعریف ومثال بیان کریں ۔
سوال نمبر (3) :منکر کی تعریف و مثال بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (4) :معلل کی تعریف ومثال بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (5) :ان سب کا حکم بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (6) :خبرمردودکی مندرجہ بالا تقسیم کس اعتبار سے کی گئی ہے؟
٭…٭…٭…٭
{…راوی کی طرف سے حدیث میں اضافہ یا تغیر وتبدل کرنے کے اعتبار سے حدیث کی اقسام…}
بعض اوقات راوی کی طرف سے حدیث میں اضافہ یا تغیر وتبدل وقوع پذیر ہوتاہے اس اعتبار سے حدیث کی درج ذیل چھ اقسام ہیں :
(۱) …مدرج السند (۲) …مدرج المتن (۳) …مقلوب
(۴) … مزید فی متصل الاسانید (۵) …مضطرب (۶) …مصحف ومحرف
(۱) …مُدْرَجُ السَنَد:
جس حدیث کی سند میں تغیر کردیاجائے۔
مثال:
’’ رَوَی ابْنُ مَاجَۃَ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ الطْلَحِيْ عَنْ ثَابِتِ بْنِ مُوْسَی الْعَابِدِ الزَّاہِدِ عَنْ شَرِیْکٍ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ أَبِيْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوْعاً: مَنْ کَثُرَتْ صَلَاتُہٗ بِاللَّیْلِ حَسُنَ وَجْہُہٗ بِالنَّہَارِ ‘‘
ترجمہ:ابن ماجہ اسماعیل اطلحی سے وہ ثابت بن موسی سے (جوکہ عابدوزہد تھے) وہ شریک سے وہ اعمش سے وہ ابو سفیان سے وہ جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ جو شب میں نوافل کی کثرت کرے دن کےوقت اس کا چہرہ حسین (نورانی) ہوگا۔
اس روایت کے بارے میں امام حاکم نے فرمایا کہ شریک یہ حدیث لکھوا رہے تھے کہ حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ عَنْ أَبِيْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع