30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال نمبر (1) : معلق کی تعریف،مثال اور حکم بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (2) : مرسل کی تعریف ، مثال اور حکم بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (3) : معضل کی تعریف، مثال اور حکم بیان کریں ۔
سوال نمبر (4) : منقطع کی تعریف، مثال اور حکم بیان کریں ۔
سوال نمبر (5) : مدلس کی تعریف واقسام بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (6) : تدلیس کا سبب وحکم بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (7) : حدیث کی مندرجہ بالا تقسیم کس اعتبار سے کی گئی ہے؟
٭…٭…٭…٭
{…راوی میں طعن کے اعتبار سے خبرِ مردود کی اقسام…}
طعن سے مراد راوی میں ایسی نامناسب صفات کا ہونا ہے جس کی وجہ سے حدیث مردود ہوجائے اس اعتبار سے خبرِ مردود کی چار قسمیں ہیں :
(۱) …موضوع (۲) …متروک (۳) …منکر (۴) …معلل
(۱) …موضوع:
جو جھوٹی بات گھڑ کر سرکا رصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف بطورِ حدیث منسوب کردی گئی ہو اسے موضوع حدیث کہتے ہیں ۔ ([1])
نوٹ:
کسی حدیث پرموضوع ہونے کا حکم ظنِ غالب سے لگایا جاتاہے قطعیت کے ساتھ کسی حدیث کو موضوع نہیں کہاجاسکتا، موضوع حدیث کو بیان کرنا جائز نہیں مگر یہ کہ اس کا موضوع ہونابیان کردیا جائے۔
مثال:
’’ اَلْبَاذِنْجَانُ شِفَاءٌ مِّنْ کُلِّ دَاءٍ ‘‘ بینگن ہر بیماری کیلئے شفا ہے۔
(۲) …متروک:
وہ حدیث جس کی سند میں کوئی ایسا راوی آجائے جس پر کذب کی تہمت ہو۔تہمت کذب کے دو اسباب ہیں : (۱) وہ حدیث صرف اسی راوی سے مروی ہواور قواعد معلومہ کے خلاف ہو۔ (۲) اس شخص کا عادۃ جھوٹ بولنا مشہورومعروف ہو لیکن حدیث نبویصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں اس کا جھوٹ بولنا ثابت نہ ہو۔
[1] ٭ضعف ِراویان کے باعث حدیث کو موضوع کہہ دینا ظلم و جزاف ہے۔ (فتاوی رضویہ ۵ / ۴۵۳)
٭بارہا موضوع یا ضعیف کہہ دینا ایک سند کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ اصل حدیث کے اعتبار سے۔ (فتاوی رضویہ ۵ / ۴۶۸)
٭ابن جوزی نے جس جس حدیث کو غیر صحیح کہا اس کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔ (فتاوی رضویہ ۵ / ۴۴۱)
٭حدیث موضوع بالاجماع ناقابلِ انجبار، نہ فضائل وغیرہ کسی باب میں لائقِ اعتبار۔ (فتاوی رضویہ ۵ / ۴۴۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع