30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال نمبر (4) :حدیث کو مندرجہ بالااقسام میں کس اعتبار سے تقسیم کیا گیاہے؟
٭…٭…٭…٭
{…سند میں سقوطِ راوی کے اعتبار سے خبرِ مردود کی اقسام…}
اس اعتبار سے خبر مردود کی پانچ اقسام ہیں :
(۱) …معلق (۲) …مرسل (۳) …معضل (۴) …منقطع (۵) …مدلس
(۱) …مُعَلَّق:
وہ حدیث جس میں سند کی ابتداء سے کوئی راوی مصنف کے تصرف سے ساقط ہو۔ اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ چند راوی یا پوری سند کو حذف کردیا جائے مثلا یوں حدیث بیان کی جائے۔قال النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کذا (سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یوں فرمایا)
(۲) …مُرْسَل:
وہ حدیث جس کی سند کے آخر سے تابعی کے بعد صحابی کا نام حذف کرکے اسے براہِ راست سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت کیا جائے۔
مثال:
’’ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ الْمُزَابَنَۃِ ‘‘ سعید بن مسیب (تابعی ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا۔اس حدیث کو سعید بن مسیب جو کہ تابعی ہے نے براہ راست سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت کیا ہے اور درمیان میں موجود صحابی کا نام ذکر نہیں کیا۔
(۳) …مُعْضَل:
وہ حدیث جس کی سند سے دویا دو سے زائد راوی پے درپے ساقط ہوں ۔مثال تبع تابعی حدیث بیان کرتے ہوئے نہ تابعی کا نام لے اور نہ صحابی کا بلکہ براہِ راست سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت کرے۔
مثال:
اس کی مثال موطا امام مالک رَحِمَہُ اللہ تَعَالٰی کی یہ روایت ہے: ’’ بَلَغَنِيْ عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَاللہ تَعَالٰی عَنْہٗ أَنَّ رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِلْمَمْلُوْکِ طَعَامُہٗ وَکِسْوَتُہٗ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَا یُکلَّفُ مِنَ الْاَعْمَالِ اِلَّا مَا یُطِیْقُ ‘‘ امام مالک فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ غلام کو دستور کے مطابق کھانا اور کپڑے دئیے جائیں اور اسے اس کی طاقت بھر کاموں کا ہی ذمہ دار بنایا جائے۔ ‘‘
اس حدیث کی سند میں حضرت امام مالک رَحِمَہُ اللہ اور حضرت ابوہریرہ رضیاللہ تعالٰی عنہ کے درمیان دو راوی محذوف ہیں اس لیے یہ حدیث معضل ہے کیونکہ حقیقت میں امام مالک رحمہاللہ نے محمد بن عجلان اور انہوں نے اپنے والد عجلان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع