30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہونکی وجہ سے لوگوں نے یہ گمان کیا کہ امام شافعی کی یہ حدیث غریب ہے لیکن ہمیں ایک اور حدیث مل گئی جسے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے انہی الفاظ کے ساتھ امام مالک سے روایت کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنِ مَسْلِمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِاللہ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَاللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلشَّہْرُ تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ ۔۔۔۔ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدّۃَ ثَلاثِیْنَ ۔
یہ دونوں حدیثیں ایک ہی صحابی حضرت عبدا للہ ابن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کی سند سے ہیں ۔ لہذا امام شافعی سے مروی حدیث کو متابَع اور عبداللہ بن مسلمہ کی حدیث کو متابِع کہیں گے۔
اسی حدیث کو دوسرے صحابی کی سند سے امام نسائی نے روایت کیا ہے حدیث یہ ہے۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَیْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ۔۔۔ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدّۃَ ثَلاثِیْنَ ۔لہذا امام نسائی سے مروی یہ حدیث شاہد ہے۔
حکم:
متابِع ،متابَع اور شاھد فردِ نسبی کی اقسام ہیں اور فرد نسبی خبر غریب کی ایک قسم ہے لہذا ان کا حکم وہی ہے جو خبر غریب کا یعنی ان سے ظن کا فائدہ حاصل ہو گا لیکن قرائن و شواہد سے قوت پا کر یہ واجب العمل حکم کا فائدہ دیں گی۔
٭…٭…٭…٭
سوال نمبر (1) :متابِع،متابَع اور شاہد کی تعریفات بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (2) :متابع ومتابَع کی مثال بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (3) :شاہد کی مثال بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (4) :مندرجہ بالا اقسامِ حدیث کا حکم بیان فرمائیں ۔
٭…٭…٭…٭
{… معارضہ سے سلامت ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے خبرِ مقبول کی اقسام…}
بعض اوقات خبرِ مقبول کے معارض دوسری خبر مقبول آجاتی ہے جوکہ مفہوم میں پہلی کے مخالف ہوتی ہے لہذا اس معارضہ کے اعتبار سے خبر مقبول کی چار اقسام ہیں :
(۱) …محکم (۲) …مختلف الحدیث
(۳) …ناسخ (۴) …منسوخ
(۱) …مُحْکَم:
وہ حدیثِ مقبول جو ایسی دوسری حدیث کے معارضہ سے محفوظ ہوجو اسی کی مثل مقبول ہو۔صحاح کی کتابوں میں اس کی مثالیں بکثرت موجود ہیں ۔
مثال:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع