30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زکاۃ ادا کی اور بیتاللہ کا حج کیا اور روزہ رکھا اور مہما ن کی مہمان نوازی کی وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ابو حاتم نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے کیونکہ حبیب (جوکہ ضعیف ہے) نے اسے دیگر ثقہ راویوں کی مخالفت کرتے ہوئے مرفوعا بیان کیا ہے حالانکہ دیگر ثقہ راویوں نے اسے ابو اسحاق سے موقوفا بیان کیا ہے لہذا ثقہ راویوں کی روایت معروف ہے ۔
حکم:
حدیثِ معروف مقبول ہے جبکہ منکر مردود۔
٭…٭…٭…٭
سوال نمبر (1) :شاذومحفوظ کی تعریف،مثال اور حکم بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (2) :معروف ومنکرکی تعریف مثال اورحکم بیان فرمائیں ۔
سوال نمبر (3) :حدیث کی مندرجہ بالا تقسیم کس اعتبار سے کی گئی ہے؟
٭…٭…٭…٭
{…دو راویوں کے درمیان الفاظ ِحدیث میں موافقت کے اعتبار سے فردِ نسبی کی اقسام…}
اس اعتبار سے حدیث کی تین اقسام کی جاسکتی ہیں :
(۱) … متابِع (۲) … متابَع (۳) … شاہد
متابِع ،متابَع ، اور شاہِد:
وہ حدیث جو فرد حدیث (فرد نسبی) کے ساتھ لفظا و معنی یا فقط معنی موافقت کرے متابع کہلاتی ہے جبکہ جسکی موافقت کی جائے وہ متابَع کہلاتی ہے ۔متابعت کے لیے شرط ہے کہ دونوں حدیثیں ایک ہی صحابی کی مسند ہوں اور اگر صحابی مختلف ہو تو موافقت کرنے والی حدیث کو شاہد کہیں گے۔
متابع ومتابَع کی مثال:
رَوَی الشَّافِعِيُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِاللہ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رَضِيَ اللہ عَنْہُمَا) أَنَّ رَسُوْلَاللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ’’ اَلشَّہْرُ تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ فَلاَ تَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوُا الہِلالَ وَلاَ تُفْطِرُوْا حَتّٰی تَرَوْہٗ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدّۃَ ثَلاثِیْنَ ‘‘ ۔
ترجمہ:امام شافعی نے امام مالک سے انھوں نے عبداللہ بن دینارسےانھوں نے ابن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے روایت کیا کہ بے شک رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:مہینہ (کبھی) انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے لہذا روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند نہ دیکھ لو اور روزہ ترک نہ کرو یہاں تک کہ چاند نہ دیکھ لو اور اگر چاند دکھائی نہ دے تو تیس دن پورے کرو۔
امام شافعی (رحمۃاللہ علیہ ) اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں امام مالک سے متفرد ہیں کیونکہ امام مالک کے دوسرے اصحاب (شاگردوں ) نے اسی سند سے ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے۔ ’’ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدِرُوْا لَہٗ ‘‘ امام شافعی کے متفرد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع