30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شُذُوذ فی السَنَد کی مثال:
رَوَی التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ مِنْ طَرِیْقِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ عَوْسَجَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ’’ أَنَّ رَجُلاً تُوُفِّیَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِاللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَمْ یَدَعْ وَارِثاً اِلاَّ مَوْلیً ہُوَ أَعْتَقَہٗ ‘‘ ۔
ترجمہ :امام ترمذی و نسائی و ابن ماجہ اپنی سند کے ساتھ ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ ایک شخص رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے میں فوت ہو گیا اور اس نے اپنے آزاد کئے گئے غلام کے سوا کوئی وارث نہ چھوڑا ‘‘ ۔
اس حدیث کو ابن جریج نے ابن عیینہ کی متابعت کرتے ہوئے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا تک متصل سندکے ساتھ بیان کیا ہے لیکن حماد بن زید نے سند میں انکی مخالفت کی ہے اور اسے عمرو بن دینار کے واسطے سے عوسجہ سے مرسلا نقل کیا اور سند میں حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا ذکر نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ ابو حاتم نے ابن عیینہ کی حدیث کو محفوظ قرار دیا ہے اور حماد بن زید جو کہ ثقہ راوی ہیں کی روایت کو شاذ قرار دیا ہے کیونکہ ابن عیینہ حماد بن زید سے اوثق ہیں ۔
شُذُوذ فی المَتَن کی مثال:
رَوٰی أَبُوْدَاوٗدَ وَالتِرْمِذِيُّ مِنْ حَدِیْثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ابْنِ زِیَادٍ عَنْ الْاَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوْعاً ’’ اِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ الْفَجْرَ فَلْیَضْطَجِعْ عَنْ یَّمِیْنِہٖ ‘‘
ترجمہ : امام ابو داود و ترمذی اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو ھریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے مرفوعا ًروایت کرتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی نماز فجر ادا کر چکے تو اسےچاہیے کہ اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جائے۔ (تھوڑی دیر آرام کے لئے)
عبد الواحد کی یہ روایت شاذ ہے کہ کیونکہ امام بیہقی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو بیان کرنے میں عبد الواحد نے کثیر تعداد کی مخالفت کی ہے کیونکہ ایک کثیر تعداد نے اسے حضور صلیاللہ تعالٰی علیہ والہ وسلمکے فعل کے طور پر بیان کیا ہے نہ کہ بطورِ قول۔ لہذا عبد الواحد کی یہ روایت شاذ جبکہ کثیر تعداد کی مروی روایت محفوظ ہے۔
حکم:
شاذ حدیث مردود ہے اور محفوظ مقبول (مقبول ومردود کا حکم گذر چکا) ۔
جب ضعیف راوی الفاظ حدیث میں اپنے سے ارجح کی مخالفت کرے تو ضعیف کی روایت کو منکر جبکہ ارجح کی روایت کو معروف کہیں گے ۔
معروف ومُنکَر کی مثال:
رَوَی ابْنُ حَاتَمٍ مِنْ طَرِیْقِ حُبَیِّبِ بْنِ حَبِیْبٍ وَہُوَ أَخُوْ حَمْزَۃَ بْنِ حبیب الزِّیَّاتِ الْمُقْرِيْ عَنْ أَبِيْ اِسْحَاقَ عَنْ العَیْزَارِ بْنِ حُرَیْثٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَقَامَ الصَّلَاۃَ وَآتٰی الزَّکوٰۃَ وَحَجَّ الْبَیْتَ وَصَامَ وَقَرَی الضَّیْفَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔
ترجمہ: ابن حاتم نے حبیب بن حبیب جو کہ حمزہ بن حبیب الزیات المقری کے بھائی ہیں سے انھوں نے ابو اسحاق سے انھوں نے عیزار بن حریث سے اور انھوں نے ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا جس نے نماز قا ئم کی اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع