30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جلالت کی وجہ سے ان کی توثیق کی ہے لہذا اس اعتبارسے ان کی حدیث حسن ہے۔لیکن اس حدیث کے ایک اور سند سے مروی ہونے کی وجہ سے وہ خدشہ دورہوگیا جو کہ راوی میں سوئِ حفظ کے سبب پیداہواتھا اور اس حدیث میں جو نقصان پہلے تھا اس کی تلافی دوسری حدیث سے ہوگئی تویہ حدیث صحیح لغیرہ کے مرتبہ پرپہنچ گئی۔
(۳) …حَسَن لِذاتِہٖ:
وہ حدیث جس کے راویوں میں صحیح لذاتہ کی تمام شرائط پائی جائیں لیکن ضبطِ روایت میں کچھ کمی ہواور یہ کمی کسی اور ذریعے سے پوری نہ ہو۔
مثال:
حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ الضَّبْعِي عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِي عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوْسَی الْاَشْعَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی بِحَضْرَۃِ الْعَدُوِّ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلِاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ’’ اِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّۃِ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّیُوْفِ ‘‘
ترجمہ: ’’ حضرت قتیبہ سندِ مذکور کے ساتھ حضرت ابو موسی اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے دشمن کی موجودگی میں اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ بے شک جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں ۔ ‘‘ یہ حدیث حسن لذاتہ ہے کیونکہ اس کی اسناد کے چاروں رجال ثقہ ہیں سوائے جعفر بن سلیمان الضبعی کے کیونکہ ان کے ضبط میں کچھ کمی ہے اور یہ کمی کسی اور ذریعے سے پوری نہ ہوسکی۔
(۴) …حسن لغیرہ:
وہ حدیث ضعیف جس کا ضعف تعددِ طرق سے ختم ہوجائے ([1]) ۔
مثال:
’’ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِاللہ عَنْ عَبْدِاللہ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ امْرأَۃً مِنْ بَنِيْ فَزَارَۃَ تَزَوَّجَتْ عَلٰی نَعْلَیْنِ فَقَالَ رَسُوْلُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَضِیْتِ مِنْ نَفْسِکِ وَمَالِکِ بِنَعْلَیْنِ؟ قَالَتْ نَعَمْ۔ فَأَجَازَ۔ ‘‘
ترجمہ: عاصم بن عبیداللہ مذکورہ سند سے روایت کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتوں کے عوض نکاح کرلیا تورسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس عورت سے دریافت فرمایا کہ تم اپنے نفس اور مال کے بدلے میں دوجوتوں کے معاوضہ پر راضی ہو؟اس نے عرض کی ہاں توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نکاح کی اجازت دے دی۔ اس حدیث کا ایک راوی عاصم بن عبیداللہ سوء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن چونکہ یہ حدیث متعدد صحابۂ کرام سے مروی ہے اس لیے حسن لغیرہ ہے۔
یاد رہے یہ چاروں اقسام قابل استدلال ہیں یعنی ان سے حجت پکڑی جاسکتی ہے ([2]) کیونکہ یہ مقبول کی اقسام ہیں لیکن صحیح لذاتہ واجب العمل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع