30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱) …صحیح لذاتہ:
وہ حدیث جس کی سند متصل ہو، تمام راوی عادل ضابط ہوں اور اس حدیث میں علت ِقادحہ وشذوذ ([1]) نہ ہو۔
اس تعریف سے صحیح لذاتہ کی درج ذیل شرائط معلوم ہوئیں ۔ (۱) سند متصل ہو (۲) راوی عادل ہوں (۳) راوی ضابط ہوں (۴) حدیث شاذ نہ ہو (۵) حدیث غیر معلل ہو۔اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہوتوحدیث صحیح لذاتہ نہیں کہلائے گی ([2]) ۔
مثال:
حَدَّثَنَا عَبْدُاللہ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِہِابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّوْرِ۔ (رواہ البخاری فی کتاب الاذان) ترجمہ: ’’ ہمیں عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا: فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی مالک نے وہ روایت کرتے ہیں ابن شہاب سے اور ابن شہاب روایت کرتے ہیں محمد بن جبیر بن مطعم سے اور وہ اپنے والد سے کہ ان کے والد نے کہا میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سنا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مغرب میں سورۂ طور کی تلاوت فرمائی ‘‘ ۔
(۲) …صحیح لغیرہ:
وہ حدیث جس کے راویوں میں صحیح لذاتہ کی تمام شرائط پائی جائیں لیکن ضبط روایت میں کچھ کمی ہو۔لیکن تعددِطرق سے یہ کمی پوری ہوجائے۔
مثال:
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَبِيْ سَلْمَۃَ عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِيْ لَاَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ۔
ترجمہ:
محمد بن عمرو سے روایت ہے وہ ابو سلمہ سے اور ابو سلمہ ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اگرمجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتاتومیں انہیں ہرنماز کیلئے مسواک کرنے کا حکم دیتا۔
حافظ ابن صلاح علوم الحدیث میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی محمد بن عمرو بن علقمہ صدق وعفت میں تومشہور ہیں لیکن یہ اہل ضبط واتقان میں سے نہیں ہیں یہاں تک کہ بعض محدثین نے ان کو ان کے سوئِ حفظ کی وجہ سے ضعیف قرار دیاہے اور بعض نے ان کے صدق اور
[1] علت قادحہ:یعنی اس حدیث میں علت خفیہ قادحہ نہ ہو مثلا ثور بن یزید کے تمام شاگردوں نے کاتب مغیرہ بن شعبہ سے اس حدیث کو مرسلا بیان کیا کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے موزوں کے اوپراور نیچے دونوں حصوں پرمسح کیا اور ولید بن مسلم نے اسی کو ثوربن یزید سے متصلا بیان کیا حالانکہ یہ حدیث مرسل ہے نہ کہ متصل۔لہذا ولید بن مسلم کی اس حدیث میں علت خفیہ قادحہ موجود ہے۔
شذوذ: شذوذ یہ ہے کہ ثقہ راوی اپنے سے اوثق کی مخالفت کرے۔
[2] حدیث کے صحیح نہ ہونے اور موضوع ہونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اور حدیث کے صحیح نہ ہونے سے اس کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔(فتاوی رضویہ ۵ / ۴۴۰۔۴۴۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع