30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ حدیث جس کی سند کے کسی بھی طبقہ میں ایک راوی رہ جائے ،اب یہ عام ہے چاہے یہ تفرد ایک طبقے میں پایا جائے یا ایک سے زائد یا جمیع طبقات سند میں۔
مثال:
’’ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ‘‘ (اعمال کادارومدار نیتوں پر ہے) سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس حدیث کو روایت کرنے میں حضرت عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ متفرد ( تنہاہیں ) ۔کبھی یہ تفرد سند کے تمام طبقات میں ہوتاہے۔
حکم:
خبر غریب ظن کا فائدہ دیتی ہے تاہم اس کی تائید میں قرائن وشواہد کے ملنے سے اس پربھی عمل ضروری ہوجاتاہے۔
خبر متواتر کے علاوہ حدیث کی آخری تین اقسام (مشہور، عزیزاور غریب) میں سے ہر ایک کو خبرِ واحد بھی کہتے ہیں ۔لہذا شروع میں حدیث کی یوں تقسیم کی جاسکتی ہے۔
حدیث کی دو اقسام ہیں :
(۱) …متواتر (۲) …اخبار آحاد۔
پھر اخبار آحاد کی تین قسمیں ہیں :
(۱) …مشہور (۲) …عزیز (۳) …غریب
٭…٭…٭…٭
سوال نمبر (1) :کس اعتبار سے حدیث،خبر متواترومشہور وعزیزوغریب میں تقسیم ہوتی ہے؟
سوال نمبر (2) :خبر متواترکی تعریف، مثال اور حکم بیان کریں ۔
سوال نمبر (3) :خبر متواترکی شرائط واقسام بیان کریں ۔
سوال نمبر (4) :خبرمشہور کی تعریف مثال اور حکم بیان کریں ۔
سوال نمبر (5) :خبرعزیزکی تعریف مثال اور حکم بیان کریں ۔
سوال نمبر (6) :خبرغریب کی تعریف مثال اور حکم بیان کریں ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
غرابتِ سند کے اعتبار سے خبرِ غریب کی اقسام
سند میں غرابت کے اعتبار سے خبرِ غریب کی دو قسمیں ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع