دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nekiyan Chupao | نیکیاں چھپاؤ

book_icon
نیکیاں چھپاؤ

’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ کا مطلب

عرض : ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘اِس کا کیا مطلب ہے؟نیز نیکی کر کے جَتْلانا اور شکریہ  کا طالِب ہونا کیسا ہے؟

اِرشاد : ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘یہ ایک مُحاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے ساتھ  نیکی یا اِحسان   کر کے بھول جانا اور اس سے اچھا بدلہ ملنے  کی  اُمید نہ رکھنا۔ ہونا بھی ایسا ہی چاہیے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ نیکی کرے تو نیکی کر کے بھول جائے۔ اِحسان  جَتلانے ، شکریہ ادا کرنے  کا طالِب  ہونے  اور اس سے اچھا بدلہ ملنے کی قطعاً اُمید نہ رکھے ۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اَجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے چنانچہ پارہ 3 سورۃُالبقرہ کی آیت نمبر262 میں اِرشادِ  ربُّ  العباد ہے : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲)

 ترجمۂ کنز الایمان : وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں  پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں  ان کا نیگ (اجر وثواب) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔

اگر کوئی کسی کے ساتھ نیکی  کرے پھر اِحسان جَتائے ، دوسروں کے سامنے اس کا اِظہار کرے  کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کیے اور اس کو  عار دِلائے کہ ’’تو مُحتاج و نادارتھا ، مُفلِس و لاچار تھا ، ہم نے تیرے ساتھ کیا کیا بھلائی کی ، آج تو ہمیں یہ صِلّہ دیتا ہے ، ہمیں پوچھتا ہی نہیں ، ہمیں سلام کرنا گوارا نہیں کرتا ، ہمارے اِحسانات کو بھول گیا ہے ، نمک حرام ، اِحسان فراموش‘‘وغیرہ وغیرہ یا اور کسی طرح دباؤ ڈالے تو ایسا کرنے سے نیکی کا اَجرضائِع ہو جاتا ہے اور قرآنِ کریم میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِس کی  مُمانعت فرمائی ہے چُنانچہ پارہ 3 سورۃُالبقرہ  کی آیت نمبر 264 میں اِرشادِ ربُّ  العباد ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-

ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو! اپنے صدقے باطل نہ کر دو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر  اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دِکھاوے کے لیے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے ۔

اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت حضرت علّامہ عبدُ اللہ بن احمد بن محمود نسفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : یعنی جس طرح منافق کو اپنے مال خرچ کرنے  سے رِضائے رب العزت اور ثوابِ آخرت مقصود نہیں ہوتا وہ اپنا مال لوگوں کو دِکھانے کے لیے خرچ کر کے ضائِع کر دیتا ہےایسے ہی تم اِحسان جتا کر اور اِیذا دے کر اپنے صدقات کا ثواب  ضائِع نہ کرو۔ ([1])

نیکیاں چھپانے کا مقصد

عرض : اپنی نیکیاں پوشیدہ رکھنے کا کیا  مقصد ہے؟

اِرشاد : نیکیاں چھپانے کا مقصد ان کو ضائِع ہونے سے بچانا ہے کیونکہ نفس و شیطان انسان کے کُھلے  دُشمن ہیں جو انسان کو نیکیاں کرنے نہیں دیتے اور اگر  ہمت کر کے کوئی  نیکی کر بھی لی تو یہ اسے پوشیدہ نہیں  رہنے دیتے۔ شیطان  کے بہکاوے  میں آکر  



[1]   تفسیرِ نسفی ،پ۳ ، البقرة ، تحت الآیة  : ۲۶۴ ، ص ۱۳۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن