30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیکیاں چھپانے کے حوالے سے اَسلاف کے واقعات
عرض : اپنی نیکیوں کو چھپانے کے سلسلے میں صحابۂ کرام وبُزرگانِ دینرِضْوَانُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے کچھ واقعات بھی بیان فرما دیجیے۔
اِرشاد : ہمارے صحابۂ کرام و بُزرگانِ دینرِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن علم وعمل اور اِخلاص کے پیکر ہوتے ، جو بھی کا م کرتے فقط رِضائے الٰہی کے حصول کے لیے کرتے اور اس بات کی قطعاً پرواہ یا طمع نہ کرتے کہ لوگ ان کے عمل پر مطلع ہو کر ان کی تعریف کریں۔ اس ضِمن میں امیرُالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا صدیقِ اکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پوشیدہ عمل کا جذبہ ملاحظہ کیجیے چنانچہ
صدیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاپوشیدہ عمل
اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سيِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رات كے وقت مدینۂ منوره زَادَہَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً كے كسی محلے ميں رہنے والی ايک نابينا بوڑھی عورت کے گھریلو کام کاج کر دیا کرتے تھے ، آپ اس کےلیے پانی بھر کر لاتے اور اس کے تمام کام سر انجام دیتے۔ حسبِ معمول ایک مرتبہ بڑھیا کے گھر آئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سارے کام ان سے پہلے ہی کوئی کر گیا تھا۔ بہرحال دوسرے دن تھوڑا جلدی آئے تو بھی وہی صورتِ حال تھی کہ سب کام پہلے ہی ہو چکے تھے۔ جب دو تین دن ایسا ہوا تو آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بہت تشویش ہوئی کہ ایسا کون ہے جو مجھ سے نیکیوں میں سبقت لے جاتا ہے؟ایک دن آپ دن ہی میں آ کر کہیں چھپ گئے جب رات ہوئی تو دیکھا کہ خلیفۂ وقت اَمیرُالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُتشریف لائے اور اس نابینا بڑھیا کے سارے کام کر دیئے۔ آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بڑے حیران ہوئے کہ خلیفۂ وقت ہونے کے باوجود ایسی اِنکساری!اِرشاد فرمایا : حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی تو ہیں جو مجھ سے نیکیوں میں سَبقت لے جاتے ہیں۔ ([1])
میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے اَمیرُالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا صدیقِ اکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ باوجود خلیفۂ وقت ہونے کے اُس نابینا بڑھیا کے گھر کے کام کاج خود اپنے مُبارَک ہاتھوں سے سر انجام دیتےاور یہ بھی معلوم ہوا کہ اَمیرُالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا صدیق ِاکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قطعاً اس بات کو پسند نہ فرماتے کہ کوئی دوسرا ان کے عمل سے باخبر ہو کر ان کی تعریف کرے ، جبھی تو رات کے اندھیرے میں پوشیدہ طور پر اُس بڑھیا کے گھر کا کام کاج کر دیا کرتے تھے۔ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرح ہمارے بُزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْنبھی اپنے اَعمال کو پوشیدہ رکھتے۔ اگر کسی کے ساتھ اِحسان وبھلائی کرتے تو لوگوں کے سامنے ظاہر نہ فرماتے یہاں تک کہ جس کے ساتھ اِحسان وبھلائی کرتے خود اسے بھی معلوم نہ ہوتا کہ یہ کام کس نے کیا ہے چنانچہ
جب تک زندہ رہے نیک عمل پوشیدہ رہا
حضرتِ سيِّدُنا عبدُ اللّٰہبن مُبارَک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْخَالِق (روميوں کے مقابلےميں جہاد کے لیے) طَرَسُوس جاتے ہوئے شہر رَقَّہ کے ايک مسافِر خانے ميں قيام فرماتے تو ايک نوجوان آتا ، آپ کی ضروريات پوری کرتا اور کچھ احاديث کی سَماعت کر ليتا تھا۔ ايک
[1] کنزُالعمّال،کتاب الفضائل،باب فضائل الصحابة،فضل الصدیق...الخ ،الجزء : ۱۲ ، ۶ / ۲۲۱ ، حدیث : ۳۵۶۰۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع