30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنا یہ مالی عبادت ہے اس کے بارے میں پارہ 3 سورۃُ البقرہ کی آیت نمبر271میں خُدائے رحمٰنعَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَۚ- وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْؕ-وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۲۷۱)
ترجمۂ کنز الایمان : اگر خیرات عَلانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لیے سب سے بہتر ہے اور ا س میں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
اِس آیتِ کریمہ میں صدقہ وخیرات کرنے کی ترغیب ہے ، چاہے وہ صدقہ وخیرات عَلانیہ ہو یا پوشیدہ دونوں طرح کر سکتے ہیں لیکن پوشیدہ صدقہ وخیرات کے متعلق اِرشاد فرمایا : “ اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لیے سب سے بہتر ہے۔ “ اِسی طرح پارہ 3 سورۃُ البقرہ کی آیت نمبر274 میں اِرشاد ہوتا ہے :
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے اور ظاہر ان کے لیے ان کا نیگ (اجر) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔
اِسآیتِ مُبارَکہ کے تحت حضرتِ علّامہ علاؤ الدین علی بن محمد بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ ِالْہَادِیتفسیرِخازن میں فرماتے ہیں : اِس آیتِ کریمہ میں اس طرف اِشارہ ہے کہ چھپا کر صدقہ دینا عَلانیہ دینے سے افضل ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے نفقۂ لیل(رات میں خرچ کرنے)کو نفقۂ نہار(دن میں خرچ کرنے)پراورنفقۂ سِرّ(پوشیدہ خرچ کرنے)کونفقۂ عَلانیہ(ظاہر کر کے خرچ کرنے) پر مُقدّم فرمایا ہے۔([1])
اِسی طرح دُعا کرنا عبادت بلکہ عبادت کا بھی مَغْز ہےچنانچہ حدیثِ پاک میں ہے : اَلدُّعَآءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ یعنی دُعا عبادت کامَغْزہے۔ ([2]) اس کے بارے میں بھی ایک حکم یہ ہے کہ یہ مخفی(چھپ کر) ہو چُنانچہ پارہ 8 سورۃُ الاعراف کی آیت نمبر55 میں اِرشاد ہوتا ہے :
اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ(۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اپنے رب سے دُعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ بے شک حد سے بڑھنے والے اُسے پسند نہیں۔
اِس آیتِ مبارکہ کے تحت صدرُ الافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں : دُعا اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنے کو کہتے ہیں اور یہ داخلِ عبادت ہے کیونکہ دُعا کرنے والا اپنے آپ کو عاجِز و مُحتاج اور اپنے پروردگار کو حقیقی قادر و حاجت رَوا اِعتقاد کرتاہے۔ اسی لئے حدیث شریف میں وارِد ہوا “ اَلدُّعَآءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ “ (یعنی دُعا عبادت کامَغْزہے۔ ) تَضَرُّع سے اِظہارِ عِجز و خُشوع مُراد ہے اور ادبِ دُعا میں یہ ہے کہ آہستہ ہو۔ حسنرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا قول ہے کہ آہستہ دُعا کرنا علانیہ دُعا کرنے سے ستّر درجہ زیادہ افضل ہے۔ مسئلہ : اس میں عُلَماء کا اختلاف ہے کہ عبادات میں اِظہار افضل ہے یا اِخفاء ، بعض کہتے ہیں کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع