دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nekiyan Chupao | نیکیاں چھپاؤ

book_icon
نیکیاں چھپاؤ

بدگمانی کی ہاتھوں ہاتھ دُنیامیں بھی سزا مل جاتی ہے ، چُنانچہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دِمِشْقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں : جب کسی کو روتا دیکھو تو تم بھی اُس کے ساتھ رونے لگ جاؤ ، بدگمانی مت کرو کہ یہ ریا کاری کر رہا ہے۔ ایک مرتبہ میں نے  ایک رونے والے مسلمان کے بارے میں بدگمانی کر لی تھی تو اِس کی سزا میں سال بھر رونے سے محروم رہا۔([1])

اعمالِ بد کو بھی چھپائیے

عرض : کیا نیکیوں کی طرح  گناہوں کو بھی چھپانے کا حکم ہے ؟

اِرشاد : جی ہاں! نیکیوں کو چھپانے کی تو عمومی ترغیب ہے لیکن  گناہوں کو  چھپانے کا بطورِ خاص حکم ہے۔ نیکیوں کو تو اس لیے  چھپایا جاتا ہے تا کہ وہ تکبر و ریاکاری  وغیرہ کے سبب ضائع نہ ہو جائیں جبکہ  گناہوں کو اس لیے چھپایا جاتا ہے کہ وہ پہلے ہی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا مُوجب(سبب)ہوتے ہیں اور انہیں ظاہر کرنا جرأت اور دِیدہ دلیری ہے لہٰذا ان کا اِظہار ہرگز  نہ کیا جائے۔ فتاویٰ شامی میں ہے : اِظْهَارُ الْمَعْصِيَةِ مَعْصِيَةٌ   یعنی گناہ کا اِظہاربھی گناہ ہے۔([2])

حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ اِرشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : میرے ہر اُمَّتی کو معاف کر دیا جائے گا سِوائے ان لوگوں کے جو گناہوں  کو ظاہر کرتے ہیں اورگناہ  ظاہر  کرنے کی یہ صورت ہے کہ  کوئی مرد رات کو کوئی(گناہ کا) کام کرے ، پھر جب  صبح ہوتو اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے اس کا پردہ رکھ لیا ہو ، پھر وہ کہے (کسی کو بتائے) کہ اے فُلاں! میں نے گزشتہ  رات اِس اِس طرح کیا ہے حالانکہ اس نے اس حال میں رات گزاری تھی کہ اس کے رب عَزَّ وَجَلَّ نے اس کا پردہ رکھا ہوا تھا اورصبح کو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رکھے ہوئے پردے کو کھول  دے ۔ ([3])اِس حدیثِ پاک کے تحت شارحِ بخاری ، حضرت علّامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : گناہ کا اِرتکاب بہرحال گناہ ہے ، مگر اس کا اِعلان کرنا بھی گناہ ہے بلکہ اِرتکابِ گناہ سے  بڑا گناہ ہےیہ گناہ کی اِشاعت بھی ہے اور نڈر ہونا بھی ہے۔ ([4])

اگرکسی شخص کی نماز قضا ہو جائے تو وہ لوگوں کے سامنے اس کا اِظہار نہ کرے کیونکہ نمازقضا کر دینا ایک گناہ ہے اور لوگوں کے سامنے اس کا اِظہار کرنا دوسرا گناہ ہے اسی لیے حکم ہے کہ وہ  قضا نماز  گھر میں چھپ کر ادا کرے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : اگر کسی امرِ عام کی وجہ سے جماعت بھر کی نماز  قضا ہو گئی تو جماعت سے  پڑھیں ، یہی افضل ومَسْنُون ہے اور مسجد میں بھی پڑھ سکتے ہیں اور جہر ی نمازوں میں امام  پر جہر  واجب  ہے اگرچہ قضا ہو اور اگر بوجہِ خاص بعض اَشخاص کی نمازجاتی رہی تو گھر میں تنہا پڑھیں کہ معصیت کا اِظہار بھی معصیت ہے ، قضا حتَّی الْاِمکان جلد ہو ، تعیینِ وقت کچھ نہیں ، ایک وقت



[1]   تَنبِیهُ الْمُغتَرِّیْن ،ص۱۲۲

[2]   رَدُّ الْمُحْتار ،کتاب الصلاة ،مطلب اذا اَسلم المرتد ، ۲ / ۶۵۰

[3]   بخاری،کتاب الادب ، باب ستر المؤمن علی نفسهٖ ، ۴ / ۱۱۸ ، حدیث : ۶۰۶۹

[4]   نزھۃالقاری ، ۵ / ۵۷۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن