30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو صریح حرامِ قطعی ہے۔ قَالَ اﷲُ تعالٰی(اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : )
لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ
ترجمۂ کنز الایمان:ہر گز نہ سمجھنا انہیں
اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۸۸)
(پ۴ ، اٰل عمرٰن : ۱۸۸)
جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے اُن کی تعریف ہو ایسوں کو ہرگز عذاب سے دُور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ہاں! اگر تعریف واقعی ہو تو اگر چہ تاویل معروف ومشہور کے ساتھ جیسے شَمْسُ الْاَئِمَّہ وفَخْرُالْعُلَمَاء وتَاجُ الْعَارِفِیْن وَاَمْثَالُ ذٰلِکَ(اماموں کے آفتاب ، اہلِ علم کے لیے فخراور عارفوں کے تاج اور اسی قسم اور نوع کے دوسرے توصیفی کلمات) کہ مقصود اپنے عصر یا مصر کے لوگ ہوتے ہیں اور اس پر اس لیے خوش نہ ہو کہ میری تعریف ہو رہی ہے بلکہ اس لیے کہ اِن لوگوں کی (تعریف)ان(عوام الناس) کو نفع دینی پہنچائے گی ، سَمْعِ قبول سے سنیں گے جو ان کو نصیحت کی جائے گی تویہ حقیقۃً حُبِّ مدح(یعنی اپنی تعریف کو پسند کرنا) نہیں بلکہ حُبِّ نُصْحِ مسلمین (مسلمانوں کی خیر خواہی سے محبت)ہے اور وہ محض (خالص)ایمان ہے۔ ([1])
اپنی تعریف اور مَذمَّت سننے کے مُعاملے میں انسان کو شِیرخوار بچے کی طرح بے پرواہ ہو جانا چاہیے کہ یہ مخلص ہونے کی علامت ہے چُنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا يَحْییٰ بن مُعاذ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے سُوال ہوا کہ انسان کب مُخلص ہوتا ہے؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشادفرمایا : جب شِیر خوار بچے کی طرح اُس کی عادت ہو کہ اس کی کوئی تعریف کرے تو اُسے اچھی نہیں لگتی اور مَذمَّت کرے تو اُسے بُری معلوم نہیں ہوتی۔ ([2]) یعنی جس طرح شِیر خوار بچہ اپنی تعریف و مَذمَّت سے بے پرواہ ہوتا ہے اِسی طرح جب انسان اپنی تعریف و مَذمَّت کی پرواہ نہ کرے تو اسے مُخلص کہا جا سکتا ہے۔
دوسروں کی نیکیاں دیکھ کرکیاکرناچاہیے؟
عرض : جس کے سامنے کسی کی نیکی ظاہر ہو اسے کیا کرنا چاہیے؟
اِرشاد : اگر کسی کو نیکی کرتا دیکھیں یا کسی کی نیک نامی ظاہر ہو تو اس کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعاکرنی چاہیےکہ اےاللہ عَزَّوَجَلَّ!اسے اس نیک عمل پر اِستقامت عطافرمااور مجھے بھی اس عملِ خیر کی سعادت نصیب فرما۔ بہرحال کسی مسلمان کا نیک عمل ظاہرہو یا نہ ہو بہرصورت اس کے بارے میں حسنِ ظن سے کام لیجیےاور بدگمانی کوقریب بھی نہ آنے دیجیے مثلاً یوں نہ کہیے کہ “ یہ تو انتہائی گناہ گار ہے ، نیکی کے قریب سے بھی نہیں گزرا ، یہ محض دِکھاوےکے لیے عمل کر رہا ہے وغیرہ “ کہ بسا اوقات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع