30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو نیک اَعمال کرتے تھے اور کہتے تھے : ہماری نمازیں ، ہمارے روزے ، ہمارے حج ۔ یہ(نیکیوں کے اِظہار کی ممانعت ) اس وقت ہے جبکہ بطورِ فخر و رِیا ہو۔ اگر نعمتِ الٰہی کے اِعتراف کے لیے ہوتو یہ جائز ہے کیونکہ طاعت پر مسرّت عبادت اور اس کا ذِکرکرنا شکر ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ خوب جانتاہے جوپرہیزگار ہےلہٰذا لوگوں کے جاننےاورتعریف کرنے کے بجائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا جاننااور جزا دینا ہی کافی جانو۔([1])
مجھ کو خزانہ دے تقویٰ کا
یااللّٰہ میری جھولی بھر دے (وسائلِ بخشش)
اپنی تعریف سُن کر کیاکرناچاہیے؟
عرض : اگر کوئی شخص ہماری یا ہمارے کسی عمل کی تعریف کرے تو اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اِرشاد : لوگوں کے مُنْہ سے اپنی تعریف اور فضائل سن کر اپنے نفس کو قابو میں رکھنا انتہائی مشکِل ہوتا ہے اس لیے اپنی تعریف سننے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر کوئی شخص کسی کے مُنْہ پر اس کی یا اس کے کسی عمل کی تعریف کرے تو اسے چاہیے کہ خوشی سےپھولنےکے بجائے اِسْتِغْفار کرے اورخود کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خُفیہ تدبیر سے ڈرانے کی کوشش کرے کہ آج لوگ میری اور میرے جن اعمال کی تعریف کر رہے ہیں ، نہ جانے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول بھی ہیں یا نہیں؟ جن اَعمال کی وجہ سے آج میری بزرگی وپرہیز گاری کے ڈَنکے بج رہے ہیں ، کل بروزِ قیامت یہ اعمال کہیں میری رُسوائی کا سبب نہ بن جائیں۔
آج بنتا ہوں معزّز جو کھلے حشر میں عیب
آہ! رُسوائی کی آفت میں پھنسوں گا یارب! (وسائلِ بخشش)
جھوٹی تعریف سُننے والوں کے لیے وَعیدِشدید
اگر تعریف کرنے والا ایسے وصف کے ساتھ آپ کی تعریف کرے جو آپ میں موجود نہیں تو فوراً اسے منع کر دیجیے کہ میں ایسا نہیں ہوں۔ اگر آپ اپنی جھوٹی تعریف سن کر خاموش رہے ، مُسکراتے رہے یا سچی تعریف پربھی اندر ہی اندر سے لطف اندوز ہوتے ، پھولتے اور اپنا کمال تصوّر کرتے رہے تو خود سِتائی کی عادت سے دُنیا وآخرت داؤ پر لگ سکتی ہے۔ میرےآقا اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : حُبِّ ثناء(اپنی تعریف کی خواہش)غالباً(یعنی اکثر صورتوں میں)خصلتِ مذمومہ (قابلِ مذمت عادت)ہے اور کم از کم کوئی خصلتِ محمودہ(قابلِ تعریف عادت) نہیں اور اس کے عَواقب(نتائج) خطر ناک ہیں۔ حدیث میں ہے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں : حُبُّ الثَّنَاءِ مِنَ النَّاسِ يُعْمِيْ وَ يُصِمُّ(یعنی) ستائش پسندی آدمی کو اندھا اوربہرا کردیتی ہے۔ ([2]) اوراگر اپنی جھوٹی تعریف کو دوست رکھےکہ لوگ ان فضائل سے اس کی ثناء کریں جو اس میں نہیں جب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع