30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعداد کی وہ یا تو اُن کے خُدّام کی بیان کردہ ہو گی یا تحدیثِ نعمت کے لیے بزبانِ خود اِرشاد فرمایا ہو گا کیونکہ سراپا اِخلاص بندوں کا مقصد ہرگز نیک نامی یا بزرگی کا سِکّہ جمانانہیں ہوتا۔ بَہرحال اگر کوئی اپنے حج وعمرہ کی تعداد بیان کرے یا اپنے کسی نیک عمل کا اِظہارکرے توہمیں اسے رِیاکار کہنے سے بچتے ہوئے حسنِ ظن سے کام لینا چاہیےکہ دلوں کا حال ربِّ ذُوالجلال خوب جانتا ہے۔
اِسی طرح اگرکوئی طالبِ علم حفظِ قرآن یا عالم کورس کی سعادت حاصل کر لیتاہے تو اپنے نام کے ساتھ حافِظ وقاری اور علّامہ لکھنا اور بولنا شروع کر دیتا ہےاور حد تو یہ ہے کہ بعض دَرجۂ حفظ یا قِراءت یا عالم کورس میں داخلہ لیتے ہی اپنے آپ کو حافِظ ، قاری اور علّامہ کہنا اور لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی نام پوچھے گا تو جھٹ مُنْہ سے “ حافِظ فُلاں “ ، “ قاری فُلاں “ نِکل جاتا ہے۔
یونہی دُنیوی عہدے اور منصب والے افراد مثلاًپروفیسر ، ڈاکٹر ، کیپٹن ، ایم پی اے اور ایم این اے وغیرہ بھی اپنے عہدے اور منصب کو اپنے نام کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ اگر اس عہدے یا ذِمَّہ داری سے سبکدوش بھی ہو جائیں مگر یہ اَلْقابات ، خطابات ، عہدے ناموں کے ساتھ چپکے رہتے ہیں بلکہ مرنے کے بعد قبر کی تختی پر بھی نمایاں حروف سے لکھ دئیے جاتے ہیں۔ شاید انہی چیزوں کو عزت و وقار کا مِعیار سمجھا جاتا ہےحالانکہ یہ چیزیں خود نُمائی اور تکبر کی طرف لے جاتی ہیں۔ کاش !ہر مسلمان کی نَمُود و ستائش کی خواہش سے جان چھوٹ جائے ، اخلاص کی دولت نصیب ہو اور اپنے اَعمال وافعال پر داد وتحسین کے طالب ہونے کے بجائے ایسے بے نشان ہو جائیں کہ بے نشانی و گمنامی ہی ان کا نام ہو جائے ۔
بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا (حدائقِ بخشش)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انسان کوچاہیے کہ اس کے اندر جو بھی خوبی ہو یا اسے کوئی بھی نیک عمل بجا لانے کی سعادت ملے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرے کہ اس نے یہ خوبی اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے ۔ پھر عمل کر لینے کے بعد خوف کی کیفیت طاری ہو کہ نہ جانے اس کا یہ عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول بھی ہے یا نہیں؟ جب عمل کی قبولیت کا علم ہی نہیں تو اس عمل کے بارے میں لوگوں کو بتانے اور دِکھانے کا کیا فائدہ؟ ہاں!اگر وہ نیک عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہے تو اس کی جزا دینے والا پَروردگار عَزَّ وَجَلَّ اسے جانتا ہے لہٰذا اپنے مُنْہ سے اپنی خوبیوں اور نیکیوں کا اظہار کر کے اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتایا جائے کہ قرآنِ کریم میں اس کی مُمانعت بیان فرمائی گئی ہے چُنانچہ پارہ 27 سورۃُالنجم کی آیت نمبر32میں اِرشاد ہوتا ہے : هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْۚ-فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ تمہیں خوب جانتا ہے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل تھے تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں ۔
اِس آیتِ مُبارَکہ کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا علّامہ عبدُ اللہ بن احمد بن محمود نسفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع