30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔([1])
تحدیثِ نعمت کے طور پر علم وعمل کا اِظہار
اِسی طرح تحدیثِ نعمت(نعمت کا چرچا کرنے) کے طور پر بھی اپنے علم و عمل کو ظاہر کرنے کی اجازت ہے جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے : عالم کے لیے کوئی حرج نہیں کہ وہ تحدیثِ نعمتِ الٰہی کے طور پر اپنا عالم ہونا ظاہر کرے تاکہ لوگ اس سے اِسْتِفادہ کریں ۔ ([2])
دوسروں کو سکھانے کی نیت سے نیک عمل کا اِظہار
ایسے ہی دوسروں کی تعلیم کے لیےبھی اپنے نیک عمل کا اِظہار کرنا جائز ہے جیسا کہ مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیم الامَّت حضرتِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : اپنی عبادات لوگوں کو دِکھانا تعلیم کے لیے یہ رِیا نہیں بلکہ عملی تبلیغ وتعلیم ہے ، اس پر ثواب ہے۔ مَشائِخ فرماتے ہیں : صِدِّیقین کی رِیا مُریدین کے اِخلاص سے بہتر ہے ، اس کا یہی مطلب ہے۔ ([3])
لوگوں کو بدگمانی سے بچانے کے لیے عمل کااِظہار
اپنی ذات سے تہمت دور کرنے اور لوگوں کو بدگمانی سے بچانے کے لیے بھی اپنے عمل کو ظاہر کرنے کی اجازت ہےجیسا کہ تفسیر روح البیان میں ہے کہ اگر نیک عمل فرائض میں سے ہوتو فرائض کے حق میں سے یہ ہے کہ اس کا اِعلان اورتشہیرکی جائے۔ رسولِ کریمعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰو ۃِ وَالتَّسْلِیْم کا فرمانِ عظیم ہے : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرائض کو چھپانا نہیں چاہیے۔ ([4]) کیونکہ یہ فرائض اِعلامِ اسلام(اسلام کا اظہار)اور شَعائرِ دین(دین کی نشانیوں)میں سے ہیں ، اس لیے ان کا ترک کرنے والا مَذمّت و مَلامَت کا مستحق ہوتا ہے لہٰذاان کے اِظہار کے ذریعےتہمت کا اِزالہ ضروری ہے۔ اگر نفلی طاعت ہے تو اس کا حق یہ ہے کہ اسے مخفی رکھا جائے کیونکہ اس کے ترک پرتہمت اور مَلامَت نہیں ہوتی۔ اگر اس کے اِظہار سے بھی مقصود یہ ہو کہ لوگ اس کی اِقتدا کریں تو اس کا ظاہر کرنا بھی اچھا ہے۔ ([5])
بزرگوں کے سامنے نیکیوں کا اِظہار
عرض : کن لوگوں کے سامنے اپنی نیکیوں کے اِظہار کی اجازت ہے اور کن کے سامنے نہیں ؟
اِرشاد : عام حالات میں عوام الناس کے سامنے اپنے پوشیدہ نیک اعمال کے اِظہار کی حاجت نہیں کہ اس سے رِیاکاری ، خودپسندی اور حُبِّ جاہ وغیرہ آفات میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے ۔ رہی خواص کی بات تو ان کے سامنے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اپنی نیکیوں کا اِظہار کیا جا سکتا ہے ، مثلاً غیرِ عالم کا عالمِ دین ، مُرید کا اپنے پیر اور شاگرد کا اپنے استاد کے سامنےاس نیت سے اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع