30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں واجِب ہے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قحطِ شدید میں مخلوق کو راحت وآسائش پہنچانے کی غرض سے منصب طلب فرمایا۔ حضرتِ سَیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مُبارَک قَول کی حِکایت کرتے ہوئے پارہ 13سورۂ یوسف کی آیت نمبر 55میں اِرشاد ہوتا ہے :
قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآىٕنِ الْاَرْضِۚ-اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ(۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کر دے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں۔
اِس آیتِ کریمہ کے تحت صدرُ الافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں : “ احادیث میں طلبِ اِمارت(سرداری / حکومت)کی مُمانعت آئی ہے ، اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ جب مُلک میں اَہل موجود ہوں اور اقامتِ اَحکامِ الٰہی کسی ایک شخص کے ساتھ خاص نہ ہو اس وقت اِمارت طلب کرنا مکروہ ہے لیکن جب ایک ہی شخص اَہل ہو تو اس کو اَحکامِ الٰہیہ کی اِقامت کے لیے اِمارت طلب کرنا جائز بلکہ واجب ہے اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی حال میں تھے آپ رسول تھے ، اُمّت کے مَصالح(بھلائی والے کاموں) کے عالِم تھے ، یہ جانتے تھے کہ قحطِ شدید ہونے والا ہے جس میں خَلْق کو راحت و آسائِش پہنچانے کی یہی سبیل(راہ)ہے کہ عنانِ حکومت (حکومت کی باگ و ڈور)کو آپ اپنے ہاتھ میں لیں اس لیے آپ نے اِمارت طلب فرمائی۔ “
بھائیو! ہر دم بچو تم حُبِّ جاہ ومال سے
ہرگھڑی چوکس رہو شیطان کی اِس چال سے (وسائلِ بخشش)
رہی بات تنظیمی ذمہ داری طلب کرنے کی تو اس کا طلب کرنا بھی مناسب نہیں کیونکہ نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے کے لیے ذمہ دار کے منصب پر فائز ہونا ضروری نہیں ، ماتحت رہ کر بھی یہ کام ہو سکتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اخلاص کے ساتھ نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے والا بنا دے ، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم۔
عرض : پوشیدہ عمل کے لوگوں پر ظاہر ہوجانے کے بعد دل میں خوشی محسوس کرنا کیساہے؟
اِرشاد : اگرکسی نے اپنے عمل کو پوشیدہ رکھنے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجودکسی نے اس کو عمل کرتے دیکھ لیا جس پر اسے دل میں خوشی محسوس ہوئی تو اس میں حرج نہیں بلکہ ایسے شخص کے لیے پوشیدہ عبادت اور عَلانیہ دونوں کا ثواب ہےچُنانچہ حدیثِ پاک میں ہےحضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں عَرض کی : یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں اپنے مکان کے اندر نماز کی جگہ میں تھا ، ایک شخص آ گیا اور یہ بات مجھے پسند آئی کہ اس نے مجھے اس حال میں دیکھا۔ اِرشاد فرمایا : اے ابوہریرہ(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)!اللهتعالیٰ تم پر رحم فرمائے ، تمہارے لیے دو ثواب ہیں ، پوشیدہ عبادت کرنے کا اور عَلانیہ کا ۔([1])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع