30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں نے کچھ لوگوں کی صحبت اختیارکی اور ان کے دلوں میں حکمت کی ایسی باتیں گزرتی تھیں کہ اگر وہ انہیں زبان پر لاتے تو ان کو اور ان کے ساتھیوں کو نفع دیتیں مگر انہوں نے شُہرت کے خوف سے ان باتوں کو ظاہر نہیں کیا اوران میں سے کوئی ایک راستے میں اَذِیّت دینے والی چیز دیکھتا تو اس کو صِرف اس لیے نہ ہٹاتا کہ کہیں شُہرت نہ ہو جائے۔ ([1])
خواہ دولت نہ دے کوئی ثَروَت نہ دے
چاہے عزّت نہ دے کوئی شُہرت نہ دے
تختِ شاہی نہ دے اور حکومت نہ دے
تُجھ سے عطارؔ تیرا طلب گار ہے (وسائلِ بخشش)
عرض : ہمارے بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن جب سراپا اخلاص تھے ، شہرت سے بچتے تھے تو پھر ان کے نیک اَعمال اور ان کی وِلایت کی شہرت کیسے ہوئی ؟
اِرشاد : بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے عمل کرتے ، اپنے اَعمال کو لوگوں سے پوشیدہ رکھتے اور شہرت سے بچتے تھے۔ رہی بات ان کی شہرت کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ مخلصین کے اَعمال کو لوگوں پر خود ظاہر فرما دیتا ہے اور ان کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دی جاتی ہے اور ان کی مقبولیت کو پھیلادیاجاتاہے۔ حدیثِ پاک میں ہے : اگر تم میں سے کوئی شخص ایسی سخت چٹان میں کوئی عمل کرے جس کا نہ تو کوئی دروازہ ہو اور نہ ہی روشندان ، تب بھی اس کا عمل ظاہر ہو جائے گا اور جو ہوناہے وہ ہو کر رہے گا۔([2])
اِس حدیثِ پاک کے تحت مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : اس فرمانِ عالی کا مقصد یہ ہے کہ تم رِیا کرکے اپنے ثواب کیوں برباد کرتے ہو؟ تم اِخلاص سے نیکیاں کرو خُفیہ کرو اللہ تعالیٰ تمہاری نیکیاں خود بخود لوگوں کو بتادے گا ، لوگوں کے دل تمہیں نیک ماننے لگیں گے ، یہ نہایت ہی مُجَرَّب ہے۔ بعض لوگ خُفیہ تہجد پڑھتے ہیں لوگ خواہ مخواہ انہیں تہجد خواں کہنے لگتے ہیں ، تہجد بلکہ ہر نیکی کا نور چہرے پر نَمُودار ہوجاتا ہے جس کا دن رات مُشاہَدہ ہورہا ہے۔ لوگ حضور غوثِ پاک ، خواجہ اجمیری(رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمَا)کو ولی کہتے ہیں کیونکہ رب تعالیٰ کہلوا رہا ہے یہ ہے اِس فرمانِ عالی کا ظہور۔ ([3])
عرض : اپنی نیک نامی کا اِظہار کر کے کوئی عہدہ یا منصب طلب کرنا کیسا ہے ؟ نیز تنظیمی ذمہ داری طلب کرنا کیسا ہے ؟
اِرشاد : کو ئی شخص کسی منصب کا اَہل ہو اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا اَہل نہ ہو تو اُس کا اِس نیت سےاپنی نیک نامی کا اِظہار کر کے عہدہ ومنصب طلب کرنا کہ وہ اَحکامِ الٰہیہ قائم کر سکے تو ایسے شخص کے لیے منصب طلب کرنا نہ صرف جائز بلکہ کئی صورتوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع