دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nekiyan Chupao | نیکیاں چھپاؤ

book_icon
نیکیاں چھپاؤ

ترجمۂ کنز الایمان : تو جسے اپنے رب سے ملنے کی اُمید ہو ، اُسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی بھی عمل کی مقبولیت اور اس پر ثوابِ   آخرت ملنے کے لیے  اس کا رضائے  الٰہی کےلیے ہونا اِنتہائی ضروری ہے۔ اگر نیت اچھی ہوئی اور کسی وجہ سے عمل صحیح نہ بھی ہوسکا  تب بھی اس پر ثواب ملنے کی اُمّید ہے اور اگر عمل اچھا ہوا لیکن نیت صحیح نہ ہوئی تو اس صورت میں ثواب سے محرومی ہے جیسا کہ صدرُ الشَّریعہ ، بدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں : عبادت کوئی بھی ہو اس میں اِخلاص نہایت ضروری چیز ہے یعنی محض رضائے الٰہی کے لیے عمل کرنا ضروری ہے۔ دِکھاوے کے طور پر عمل کرنا بِالاجماع حرام ہے بلکہ حدیث میں رِیا کو شرکِ اصغرفرمایا۔ ([1]) اِخلاص ہی وہ چیز ہے کہ اس پر ثواب مُرتَّب ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ عمل صحیح نہ ہو مگر جب اِخلاص کے ساتھ کیا گیا ہو تو اس پر ثواب مُرتَّب ہو مثلاً لاعلمی میں کسی نے نَجَس پانی سے وُضو کیا اور نماز پڑھ لی اگرچہ یہ نماز صحیح نہ ہوئی کہ صحت کی شرط طہارت تھی وہ نہیں پائی گئی مگر اس نے صدقِ نیت اور اِخلاص کے ساتھ پڑھی ہے تو ثواب کا تَرتُّب ہے یعنی اس نماز پر ثواب پائے گا مگر جبکہ بعد میں معلوم ہو گیا کہ ناپاک پانی سے وُضو کیا تھا تو وہ مُطالَبہ(شریعت کا حکم) جو اس کے ذِمّہ ہے ساقِط نہ ہو گا ، وہ بدستور قائم رہے گا اس کو ادا کرنا ہو گا اور کبھی شرائطِ صحت پائے جائیں گے مگر ثواب نہ ملے گا مثلاً نماز پڑھی ، تمام اَرکان ادا کیے اور شرائط بھی پائے گئے مگر رِیا کے ساتھ پڑھی تو اگرچہ اس نماز کی صحت کا حکم دیا جائے مگر چونکہ اِخلاص نہیں ہے ثواب نہیں۔ ([2])

یاد رکھیے!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے  کی نیت نیک و جائز اور مُباح کاموں میں ہی ہو سکتی ہے گناہ  والا  کام اچھی نیت اور خُلوص  سے نیکی  نہیں بن جاتا بلکہ اس کی ہلاکت خیزیوں میں مزید اِضافہ ہو جاتا ہے اور یہ بھی  یاد رکھیے کہ جس طرح نیک عمل سے پہلے دل میں اِخلاص ہونا اور اس کا رضائےالٰہی کےلیے ہونا ضَروری ہے اِسی طرح ہر نیکی وعبادت کے دَوران اسے قائم رکھنا (یعنی ریاکاری نہ آنے دینا)بھی ضَروری ہے کیونکہ شیطان مسلسل دل میں وسوسے  ڈالنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ حضرتِ  سیِّدُنا فُضَیل بن عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالرَّ زَّاق فرماتے ہیں : جوشخص اپنے اَعمال میں ساحِر(یعنی جادوگر) سے زیادہ ہوشیار نہ ہو گا وہ (شیطان کے جھانسے میں آ کر) رِیاکاری میں پھنس جائے گا۔([3])

مِرا ہر عمل بس ترے واسِطے ہو

                  کر اِخلاص ایسا عطا یاالٰہی       (وسائلِ بخشش)

نیکیاں چھپانے کے بارے میں آیاتِ کریمہ

عرض : کیا قرآنِ کریم میں عبادات کو پوشیدہ طور پر بجا لانے کے بارے میں بھی ترغیب موجود ہے؟

اِرشاد : جی ہاں۔ قرآنِ مجید میں دونوں  طرح  کی اجازت موجود ہے یعنی علانیہ عبادت کی بھی اور پوشیدہ کی بھی  جیسے  صدقہ وخیرات



[1]   حدیثِ پاک میں ہے : جس چیز کا تم پر زیادہ خوف ، وہ شرکِ اصغر ہے۔ لوگوں نے عرض کی : شرکِ اصغر کیا چیز ہے؟ ارشاد فرمایا : ریا۔ (مسندِ امام احمد، حدیث محمود بن نبیل ، ۹ / ۱۶۰ ، حدیث : ۲۳۶۹۲)

[2]   بہارِ شریعت ، ۳ / ۶۳۶-۶۳۷ ، حصّہ : ۱۶

[3]   تَنبیهُ الْمُغتَرِّیْن ،ص۲۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن