30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنی چاہیے اور اگر ریاکاری یا حُبِّ جاہ کا اندیشہ محسوس ہو تو اس کے لیے قربانی کے جانور کو چوراہے میں باندھنے کے بجائے مویشیوں کے باڑے میں یا گھر کےکسی کونے میں باندھیے تاکہ وہ حتَّی الْاِمکان لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہے۔ ذبح کرتے وقت بھی اپنے اِخلاص کو قائم رکھتے ہوئے خواہ مخواہ چرچا کرنے سے بچیے اور بارگاہِ الٰہی میں اِخلاص وتقویٰ کی بھیک مانگتے رہیےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ متقی اور پرہیزگار لوگوں کی ہی قربانی قبول فرماتا ہے چنانچہ پارہ 6 سورۃُ المائدہ کی آیت نمبر 27میں اِرشادِ ربُّ العباد ہے :
اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ(۲۷)
ترجمۂ کنزالایمان : اللہ اسی سے قبول کرتا ہے جسے ڈر ہے۔
ہو اَخلاق اچھا ہو کِردار ستھرا
مجھے متقی تو بنا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
حُبِّ جاہ ومنصب کی خاطر نيكيوں کا اِظہار
عرض : حُبِّ جاہ ومنصب کی خاطِر اپنی نیکیوں کا اِظہار کرنا کیساہے ؟
اِرشاد : حُبِّ جاہ ومنصب کی خاطِر اپنی نیکیوں کا اِظہارکرنا اِنتہائی خطرناک معاملہ ہے کہ اس سے نیکیاں ضائِع ہوجاتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس پر قابو پانے کے لیے احادیثِ مُبارَکہ میں وارِد اِس کے نقصانات پر غور کریں چُنانچہ خَلْق کے رہبر ، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے : اُمَراء کے لیے ہلاکت ہے ، منصب چاہنے والوں کے لیے ہلاکت ہے ، ذِمَّہ داروں کے لیے ہلاکت ہے ، قيامت کے دن کچھ قوميں ضَرور یہ تمنا کريں گی کہ ان کی پيشانياں ثُرَيَّا ستارے سے مُعَلَّق ہوتيں اور وہ زمين و آسمان کے درميان لٹک رہے ہوتے اور انہيں کسی کام کا والی نہ بنايا جاتا۔ ([1])
اِسی طرح ’’حُبِّ جاہ‘‘کی خاطر نیکیوں کا اِظہار کرنے والوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ سرورِ کائنات ، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کو بندوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف کی محبت کے ساتھ ملانے سے بچتے رہو۔ (خبردار! کہیں) تمہارے اَعمال برباد نہ ہو جائیں۔ ([2])
نیک اَعمال کو اَ کارَت کرنے کے لیے شیطان مختلف حَربوں سے کام لیتا ہے۔ کبھی نیک کاموں کے ذریعے انسان کو حُبِّ جاہ اور شُہرت کا وسوسہ دِلاتا ہے تو کبھی نَمُود و نُمائش اورعہدہ ومنصب کے حصول کا خواب دکھاتا ہے تو یوں نادان انسان شیطان کے وَساوِس وفریب میں آکر اپنی عبادات کو ضائِع کر بیٹھتا ہے۔ یاد رکھیے!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں وہی اَعمال مقبول ہوتے ہیں جو فقط اس کی رضا کے لیے کیے جائیں۔ محض لوگوں کو دِکھانے اور اپنی واہ وا کروانے کی نیّت سے پہاڑوں کے برابر بھی کیے جانے والے اَعمال بارگاہِ الٰہی میں قبول نہیں ہوتے جیسا کہ منقول ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک عابِد(یعنی عبادت کرنے والے)نے ایک غار میں چالیس برس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع