30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُردار سے بھی زیادہ بدبودار خوشبو
اگر کسی بُری نیت مثلاً لوگوں کے سامنے اِترانے یا غیر عورتوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے خوشبو لگائی تو ایساشخص گنہگار ہوگا اور وہ خوشبو بھی بروزِ قِیامَت مُردار سے زِیادہ بدبودار ہو گی چُنانچِہ مکّی مَدَنی سلطان ، سرورِ ذیشانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکے لیے خوشبو لگائی تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کی مہک کستوری سے بھی زیادہ خوشبو دار ہو گی اور جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سِوا کسی اور کے لیے خوشبو لگائی تو بروزِ قیامت وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کی بُو مُردا رسے بھی زیادہ بد بو دار ہو گی۔ ([1])
اسلامی بہنوں کے لیے خوشبو لگانے کا مسئلہ
اسلامی بہنیں بھی اپنے گھر کی چار دیواری میں جہاں فقط شوہر یا محارِم ہوں وہاں ہر طرح کی خوشبو استِعمال کر سکتی ہیں۔ ہاں! یہ احتیاط لازمی ہے کہ دیوَر ، جَیٹھ اور دیگر غیرمَحارِم تک خوشبو نہ پہنچے۔ اگر گھر سے باہر جائیں تو مہک والی خوشبو ہرگز نہ لگائیں جو غیر مَردوں کی توجُّہ کا باعِث بنے کہ عورت کے لیے ایسی خوشبو لگانے پر وعیدِ شدید ہے چُنانچہ حضرتِ سَيِّدُنا ابومُوسیٰ اَشْعَریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روايت ہے : جب کوئی عورت خُوشبو لگا کر لوگوں میں نکلتی ہے تاکہ اس کی خُوشبو پائی جائے تو یہ عورت زانِیہ ہے ۔ ([2])
قربانی کرنےمیں ریاکاری سے کیسے بچیں؟
عرض : قربانی کرنے میں کیا نیت ہونی چاہیے ؟ نیزقربانی کرتے وقت ریاکاری سے کیسے بچا جائے؟
اِرشاد : مَخصُوص جانور کو مَخصُوص دن میں بہ نیتِ تقرّب(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے ) ذبح کرنا قربانی ہے۔([3]) قربانی کی اس تعریف سے ہی واضح ہے کہ قربانی محضاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے کی جائے ۔ اگرکسی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے علاوہ لوگوں کو دِکھانے اور اپنی تعریف کروانے کی غَرَض سے قربانی کی تو ایسی قربانی بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں۔ قربانی کرنے والے صرف نیت کے اِخلاص اور دلوں کی پرہیزگاری کی رعایت سے ہیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کو راضی کر سکتے ہیں کیونکہ بارگاہِ الٰہی میں قربانی کے جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون بلکہ تقویٰ و پرہیزگاری ہی ایسی چیزہے جوبارگاہِ الٰہی تک باریاب ہوتی ہے جیسا کہ پارہ17سورۃُ الحج کی آیت نمبر 37 میں اِرشاد ہوتا ہے :
لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ-
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے ۔
لہٰذا ریاکاری سے بچتے ہوئے خلوصِ نیت کے ساتھ قربانی کا اِہتمام کرنا چاہیے۔ بلا حاجت دوسروں کو اپنے جانور کی قیمت بتانے ، خوبیاں سنانے ، نمائش کے طور پرگلیوں میں گھمانے اورلوگوں سے اس کی تعریف سُن کر خوشی سے پھولے نہ سمانے سے بچنے کی ہر دم کوشش
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع