30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے : بے شک اللہ تعالیٰ یہ بات پسند فرماتا ہے کہ بندے پر اس کی نعمت کا اَثر دکھائی دے۔ ([1])
ہاں!اگر کوئی عُمدہ لباس یا انتہائی سادہ لباس اس نیت سے پہنے کہ لوگ اس کو مالدار یا سادگی کا شاہکار جانیں ، اس کی تعریف کریں اور اس کی عزت و تکریم بجا لائیں تو اس صورت میں ایسا لباس پہننے کی مُمانعت ہے چُنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللّٰہ اِبنِ عُمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہےکہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : جس نے(دُنیا میں) شُہرت کا لِباس پہنا ، قِیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کو ذِلَّت کا لِباس پہنائے گا۔ ([2])
اِس حدیثِ پاک کے تحت صدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : لباسِ شہرت سے مُراد یہ ہے کہ تکبر کے طور پر اچھے کپڑے پہنے یا جو شخص دَرْویش نہ ہو وہ ایسے کپڑے پہنے جس سے لوگ اسے دَرْویش سمجھیں یا عالم نہ ہو اور عُلَما کے سے کپڑے پہن کر لوگوں کے سامنے اپنا عالم ہونا جَتاتا ہے یعنی کپڑے سے مقصود کسی خوبی کا اِظہار ہو۔ ([3]) معلوم ہواکہ اچھی نیت سے نیا اور عُمدہ لباس پہننا اور دل میں فَرحت محسوس کرنا شرعاً مذموم نہیں کہ یہ ایک فِطری عمل ہے۔ ہاں ! نَمُودو نمائش کی نیت سے نیا اور عمدہ لباس پہننا اور پھردوسروں پر اس کا اِظہار کرنا خودنُمائی وغیرہ آفات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے منع ہے۔
عرض : کیا اِستری کیے ہوئے اور کَلَف دار لباس پہننے سے بھی بڑائی کا اِظہار ہوتا ہے؟نیز کلف دار کپڑے پہننے والا کیا نیت کر ے ؟
اِرشاد : جی ہاں! اِستری کیے ہوئے اور کَلَف دار لباس پہننے سے بھی بڑائی کا اِظہار ہو سکتا ہے وہ یوں کہ اگر کوئی ایسا لباس پہن کر لوگوں کے سامنے فخریہ انداز میں چلے ، اپنے لباس کی تعریف کرے یادوسروں سے اپنے لباس کی تعریف سننے اور اچھی جگہ پر بیٹھنے کی خواہش کرے تو یہ تکبر یا فخر کی علامات ہو سکتی ہیں جن سے بچنا چاہیے ، ہاں! اگر یہ کیفیات نہ ہوں تو پھر ایسا لباس پہننے میں حرج نہیں چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197 صَفحات پرمشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد سِوُم صَفْحَہ409پر ہے : اتنا لباس جس سے سترِ عورت ہوجائے اور گرمی سردی کی تکلیف سے بچے فرض ہے اور اس سے زائد جس سےزینت مقصود ہو اور یہ کہ جبکہ اللہ (عَزَّوَجَلَّ)نے دیا ہے تو اُس کی نعمت کا اِظہار کیا جائے یہ مستحب ہے ، خاص موقع پر مثلاً جمعہ یا عید کے دن عمدہ کپڑے پہننامباح ہے۔ اس قسم کے کپڑے روز نہ پہنے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اِترانے لگے اور غریبوں کو جن کے پاس ایسے کپڑے نہیں ہیں نظرِ حقارت سے دیکھے لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع