دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nekiyan Chupao | نیکیاں چھپاؤ

book_icon
نیکیاں چھپاؤ

بَہُت خوب ورنہ یہ بیچارے خود اپنے کارنامے بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں مثلاً اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو کہے گا کہ فُلاں مریض اتنے ڈاکٹروں کے پاس  گیا ، کہیں اِفاقہ  نہ  ہوا  بِالآخر میرے پاس آیا تو دو دن میں ٹھیک ہو گیا۔ فُلاں مریض لاعِلاج ([1]) تھا مگر میری دوا سے چند دنوں میں اس کی بیماری رفع دفع ہو گئی۔ یہی معاملہ سرجن کا ہے یہ اپنی تعریف میں یوں گویا ہوتا ہے کہ ایک مریض کا کیس فُلاں سرجن نے خراب کر دیا تھا ، مریض بے چارہ شدّتِ درد سے تڑپ رہا تھا ، لوگ اسے  میرے پاس لے آئے ، میں نے اس کا آپریشن  کیا تو   کامیاب ہو گیا ، اب وہ مریض چلتا پھرتا ہے۔([2]) اگر ڈسپنسر ہے اور شرعاًعلاج کرنے کا اہل نہیں  تو یہ بھی اس معاملے میں کسی سے کم نہیں ، اس کو بھی  موقع ملے تو اپنے آپ کو ڈاکٹر لکھنےاور  کہنے سے نہیں  چونکتا۔ ([3])

انجینئر اور پروفیسر حضرات بھی بدقسمتی سے اسی زُمرے میں  آتے ہیں ۔ افسوس! فی زمانہ حُبِ جاہ کی نُحُوست عام ہوتی جا رہی ہے ، اپنی تعریف کی خواہش تو ہر ایک کو ہوتی ہے مگر ان لوگوں میں یہ چیز زیادہ پائی جاتی ہے۔ اپنا نام بھی ڈاکٹر ، سرجن ، انجینئر  اور پروفیسر کہے بغیرنہیں لیتے۔ ان سب کو چاہیے کہ جہاں عہدہ  ظاہر کرنے  کی ضَرورت وحاجت  نہ ہو تو وہاں  بِلاوجہ اس  کا اِظہار نہ کریں ، اپنی واہ وا کرانے کے لیے اپنی تعریفیں اور دوسروں کی خامیاں بیان کر کے ان کی تذلیل نہ کریں۔ یہ چند باتیں عُمومی اِعتبار سے عرض کی گئی  ہیں ، ہر ایک  ایسا ہو یہ ضروری نہیں کہ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے نیک اورمخلص بندے بھی اس دھرتی پر موجود ہیں۔

سادہ لباس پہننے کی فضیلت

عرض : بعض لوگ دولت مند ہونے کے   باوجود عام سا لباس پہنتے ہیں ان کے لیے کیا حکم ہے؟

اِرشاد : اگر کوئی شخص بطورِ عاجزی و اِنکساری سادہ لباس پہنتاہے تو یہ قابلِ تعریف ہے۔ یقیناً  وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو عُمدہ لباس پہننے کی طاقت رکھنے  کے باوجودمحض اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے عاجِزی واِنکساری اِختیار کرتے ہوئے سادہ لباس پہنتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ  بروزِ قیامت ان کوجنتی لباس پہنائے گا چُنانچہ تاجدارِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے : جو باوُجُودِ قدرت اچھے کپڑے پہننا ، تواضُع (عاجِزی ) کے طور پر چھوڑ دے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے کرامت کا حُلّہ(یعنی جنّتی لباس) پہنائے گا۔ ([4])

اگر کوئی عمدہ لباس اس نیت سے  پہنے  کہاللہ   عَزَّ  وَجَلَّ  کی نعمت کا اِظہار ہو تو یہ بھی جائزہے کہ شریعتِ مطہرہ نے اس سے منع نہیں فرمایا بلکہ اس کو پسند فرمایا ہے چُنانچہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے رسول ، رسولِ مقبولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ فرحت نشان



[1]   کسی بیماری کو اس معنیٰ میں لاعلاج قرار دینا شرعاً درست نہیں کہ اس کا علاج ہی نہیں ہے کیونکہ موت کے سِوا کوئی بھی  ایسی بیماری نہیں جس کی دَوا نہ ہو جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے : ہر بیماری کی دوا ہے ، جب دوا بیماری تک پہنچا دی جاتی ہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے مریض اچھا ہو جاتا ہے۔ (مسلم، کتاب السلام، باب لکل  داء   دواء…الخ ، ص۱۲۱۰ ، حدیث : ۲۲۰۴) ہاں! یہ بات الگ ہے کہ کئی اَمراض کا علاج اَطِبّااب تک دریافت نہیں کر پائے۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

[2]   بِلاحاجتِ شرعی کسی کی خامی یا کمزوری دوسرے کے آگے بیان کرنا غیبت وگناہ ہے ، البتہ بعض ڈاکٹر اور سرجن بد عُنوان بھی ہوتے ہیں ، اگر ایسے ڈاکٹروں اور سرجنوں  سے کسی مریض کو بچانا مقصود ہو تو اس نیت سے ان کی کمزوری یا خامی صِرف اُس کے آگے بیان کرنا جسے بتانے میں مصلحت ہو تو اس صورت میں بتانے والا گنہگار نہیں۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

[3]   انسان جس وصف کا اَہل نہ ہو اس وصف سے اپنی تعریف کرنا یا سننا پسند کرنا مذموم صفت اور حرام ہے۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : اگر کوئی اپنی جھوٹی تعریف کو دوست رکھےکہ لوگ ان فضائل سے اس کی ثنا  کریں جو اس میں نہیں جب تو صریح حرامِ قطعی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱ / ۵۹۷)

[4]   ابو داود ،کتاب الادب ،باب من کظم غیظا ، ۴ / ۳۲۶ ، حدیث : ۴۷۷۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن