دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nekiyan Chupao | نیکیاں چھپاؤ

book_icon
نیکیاں چھپاؤ

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نہ اس کا فرض قبول کرے گا اور نہ ہی نَفْل۔ ([1])

کِلکِ رضا ہے خنجرِ خونخوار برق بار

                 اَعدا سے کہدو  خیر منائیں نہ شر کریں     (حدائقِ بخشش)

عالِم کا اپنا علم ظاہر کرنے کی  صورتیں

شیخ الْاِسلام حضرتِ  سَیِّدُنا امام احمد بن حجر ہیتمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : اگر کوئی عالم ایسے شہر میں جائے جہاں کے رہنے والے لوگ اس کے علم اور اطاعت کو نہ جانتے ہوں تو اسے اس بات کا اِختیار ہے کہ ان کے سامنے اس نیت سے اپنا علم وتقویٰ ظاہر کرے کہ وہ لوگ اسے قبول کر لیں اور اس سے نفع اٹھائیں ، اس کی مثال حضرتِ سیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وہ فرمان ہے جسے پارہ 13 سورۂ یوسف کی آیت نمبر 55 میں یوں بیان کیا گیا ہے :

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآىٕنِ الْاَرْضِۚ-اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ(۵۵)

ترجمۂ کنز الایمان : یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کر دے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں۔

اِسی طرح اگر کوئی جاہل یادُشمنی  رکھنے والا اس کے علم کا اِنکار کر دے تو اسے اس آیتِ مُبارَکہ سے اِستدلال کرتے ہوئے اپنے علم کے بارے میں بتانے کا اِختیار ہے تا کہ اس دُشمنی رکھنے والے کی ناک خاک آلود  ہو جائے اور لوگ اسے قبول کرتے ہوئے اس کے عُلُوم سے نفع اٹھائیں۔ ([2])

اگرکوئی ایسی صورت نہ ہو تو پھر بِلاوجہ  اپنے علم وفضل  کا اِظہار نہ کیاجائے ، مثلاً میں عالِم وفاضِل ہوں ، میں بھی فُلاں شیخ الحدیث صاحب کا شاگرد ہوں ، ہم نے بھی عُلَما کے جوتے سیدھے کیے ہیں وغیرہ  کہ اس سے حُبِّ جاہ ، رِیاکاری اور غرور وتکبر میں پڑجانے کا اندیشہ ہے۔ یہی مُعامَلہ  ہنر ، فن ، صلاحیت ، دولت اور عہدے وغیرہ کے اِظہار کا بھی ہے۔ اگر ان چیزوں کے اِظہار کی  کوئی خاص ضرورت و حاجت نہیں تو پھر بِلاوجہ  ان کو  ظاہر نہ کیا جائے کہ اس سے خود سِتائی ، حُبِّ جاہ اور دیگر کئی باطنی اَمراض کی گناہ والی صورتوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔ بِلاضرورت نعمتوں کے اِظہار سے ویسے بھی  بچنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ان نعمتوں کی حفاظت ہو اور حاسدین سے بچا جا سکے۔ حدیثِ پاک میں ہے : تم پر اپنی نعمتوں کو پوشیدہ رکھنا لازم ہے(حسد سے بچنے کے لیے) کیونکہ ہر ذِی نعمت  پرحسد کیا جاتا  ہے۔([3])

ڈاکٹر، سرجن ، انجینئر اور پروفیسر

عرض : ڈاکٹر ، سرجن ، انجینئر اور پروفیسر وغیرہ کس طرح تعریف اور شہرت کی محبت سے بچ سکتے ہیں؟

اِرشاد : ڈاکٹر ، سرجن ، انجینئر اور پروفیسر وغیرہ حضرات میں  عموماً حُبِّ جاہ کا غلبہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی دوسرا ان کی تعریف کرے تو



[1]   الجامع لاخلاق الراوی ، باب اتخاذ المستملی ،املاء فضائل الصحابة ...الخ ، ص ۳۵۷ ، حدیث : ۱۳۵۲

[2]   الزواجر،الباب الاوّل  فی  الکبائر...الخ ،الکبیرة  السادسة  والاربعون...الخ ، ۱ / ۲۰۲-۲۰۳

[3]   روح البیان ، پ۳۰ ، الضحی ،تحت الآیة : ۱۱ ، ۱۰ / ۴۵۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن