30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لکھ کر چھاپ دیں اور پھر اس سے توبہ کا مُطالَبہ کریں تو اس طرح قبولِ حق کے اِمکانات بَہُت کم ہوتے ہیں۔ اس طرح سامنے والا اِصلاح قبول کرنے کے بجائے مقابلے پر اُتر آتاہےلہٰذا مصنفین اور کالم نِگاروں کو چاہیے کہ اپنی تحریر میں خلوصِ نیت کے ساتھ حکمت بھرا اَنداز اپناتے ہوئے خود کو رِیاکاری ، خودسِتائی اور حُبِّ جاہ سے بچانے کی کوشش کریں۔
اِسی طرح نعت خواں اسلامی بھائیوں کو اچھی آواز کے ساتھ ساتھ اگر بھرپور اخلاص کی دولت بھی میسر آ جائے تو سونے پہ سُہاگا ہے۔ آج کل نعت خوانی جیسے مقدس کام کو بھی بعض نعت خوانوں نےمحض ایک رَسم اور کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ اگر انہیں کوئی مالدار ، سرمایہ دار دعوت دے تو وہاں سر کے بل پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دَورانِ نعت جُوں جُوں نوٹوں کی برسات ہوتی ہے تو وہ مچلنے لگتے ہیں ، ان پر وَجدکی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے ، اَشعار کا تکرار ہونے لگتا ہے ، کبھی کوئی شعر سیٹھ صاحب کی نذر کرتے ہیں تو کبھی حاجی صاحب کی الغرض ان کا مائیک چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ اگر کوئی غریب و نادار ، سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عاشقِ زار اپنے گھر میں محفلِ نعت کا اِہتمام کرے اور انہیں بلائے تو ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ، متعدد محافل میں شرکت کی وجہ سے انہیں تھکاوٹ بھی ہو جاتی ہے اور مُسلسل نعتیں پڑھنے کے سبب گلا بھی خراب ہو چکا ہوتا ہے۔ ایسے نعت خوانوں کو غور کرنا چاہیے کہ کیا اسی کا نام اِخلاص ہے؟ کیااسی کو عشقِ رسول کہتے ہیں؟اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے نعتیں پڑھنی ہیں تو امیر وغریب کے ہاں جانے میں فرق کیوں؟ بڑی محفل اور گھرکی محفل میں نعت پڑھنے کے انداز میں فرق کیوں؟ رضائے الٰہی تو ان چیزوں کے بغیر بھی حاصل ہو سکتی ہے بلکہ مزہ تو اسی میں ہے کہ کوئی آئے یا نہ آئے ، ایکو ساؤنڈ ہو یا نہ ہو ، آپ نعت پڑھے جا رہے ہوں۔ شہنشاہِ سخن ، اُستادِ زَمن مولانا حسن رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کیا خوب فرماتے ہیں : ؎
دل میں ہو یاد تِری گوشۂ تنہائی ہو
پھر تو خَلْوت میں عجب اَنجمن آرائی ہو (ذوقِ نعت)
اپنے علم ، ہنر اور فن کو ظاہر کرنا کیسا؟
عرض : کیا نیکیوں کی طرح علم ، ہنر ، فن ، صَلاحیت ، دولت اور عہدے وغیرہ کوبھی چھپانا چاہیے؟
اِرشاد : کوئی علم ہویا فن ، ہنر ہو یا صَلاحیت ، دولت ہو یا عہدہ یہ سباللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں ہیں۔ انہیں لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے اور پوشیدہ رکھنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اگر واقعی ان چیزوں کو ظاہر کرنے کی حاجت ہے تو ظاہر کر سکتے ہیں مثلاً اگر کوئی شخص عالِم ہے اور وہاں پر بَدمذہبیت اور فتنوں کا ظہور ہو رہا ہے تو اب اس عالِم پر فرض ہے کہ وہ اپنا علم ظاہر کرے اور ان فتنوں اور بدمذہبیت کا سدِّباب کرے اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو وہ وعیدِ شدید کا مستحق ہو گا چُنانچہ مکّی مَدَنی سلطان ، سرورِ ذیشانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے : جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہوں اور میرے صحابہ کو بُرا کہا جائے تو عالِم کو چاہیے کہ وہ اپنا علم ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے تو اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ، فرشتوں اور تمام آدَمیوں کی لعنت ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع