30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چھاپنے پر قلبی صدمہ کیوں ہو رہا ہے؟اگر اس کا اپنی تحریر یا کلام سے مقصوداللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا اور لوگوں کی اِصلاح کرنا ہے تو وہ بغیر نام وتخلُّص کے بھی ہو سکتی ہے ، البتہ یہاں یہ یاد رکھیں کہ نام لکھنے میں بہت سی اچھی نیتیں ہو سکتی ہیں ، ہم اپنے عمل پر غور کریں ، دوسروں پر بدگمانی نہ کریں کہ یہ حرام ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اخلاص کی دولت سے مالامال فرمائے ،
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔
مصنف اورنعت خواں رِیاکاری سے کیسے بچیں؟
عرض : مصنف ، کالم نِگار ، شاعر اورنعت خواں رِیاکاری سے کیسے بچیں؟
اِرشاد : مصنف ہو یا کالم نِگار ، شاعر ہو یانعت خواں ، عام ہویاخاص سبھی کوچاہیے کہ رِیا کاری سے بچنے کے لیے اپنی نیّتوں کو درست رکھیں ۔ ہر قول و فعل سے پہلے خوب غور وفکر کرنے کی عادت بنائیں کہ اِس سے اُس کا مقصد کیا ہے؟ اگر اس میں دِکھاوے کی بُو پائیں تو فوراً اپنی نیّت کی اِصلاح فرمائیں اور یہ ذِہن بنائیں کہ بارگاہِ الٰہی میں وُہی عمل مقبول ہوتا ہے جو فقط رِضائے الٰہی کے لیے کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو دِکھانے یا سُنانے کی خاطِر کیے گئے نیک عمل کا قبول ہونا تو ایک طرف رہا اُلٹا عذابِ جہنّم کا باعث ہو سکتا ہے۔ اس طرح غور وفکر کرنے کی عادت بنانے سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی تحریر و تقریر بلکہ ہرقول وفعل رِیاکاری کی آفت سے دُور اور اِخلاص کی دولت سے مَعْمور ہو جائے گا۔
اگر آپ اپنی تحریر کے ذریعے مسلمانوں کی اِصلاح کرنا چاہتے ہیں تو اس کےلیے نرم و ہمدردانہ اور مَصلحت بھرا اَنداز اپنانے کی کوشش کیجیے ، تحریر میں ہرگز ایسے الفاظ اِستعمال نہ کیجیے جن سے اپنی بڑائی اور خود سِتائی کا اِظہار ہومثلاً “ اس موضوع پر میری تحریر حرفِ آخِر ہے ، میں نےاس تحریر میں ہزاروں کُتُب کا نچوڑ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے ، میر ی یہ کتاب آپ کو دیگر کُتُب سے بے نیاز کر دے گی “ وغیرہ۔ یاد رکھیے !اگر کوئی اس انداز سے عزت کمانا یا عوام میں اپنی علمیت کا لوہا منوانا چاہے تو یہ اس کی بھول ہےکیونکہ لوگ ایسے مصنفین کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ بہرحال اگر کسی کی تحریر میں اس قسم کے اَلفاظ پائیں خصوصاً معروف علماء اور بزرگانِ دین کی کتابوں میں تو ان کے بارے میں اپنے دل میں ہرگز ہرگز بدگمانی نہ لائیں کیونکہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر ایک کی نیت وارادے سے باخبر ہے ۔
اگرآپ اپنی تحریرکے ذریعے کسی غَلَطی کرنے والے کی اِصلاح کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے بالمشافہ( براہِ راست) تنہائی میں اس سے رابِطہ کیجیے اور نرمی سے اسے سمجھائیے کہ سب کے سامنے اِصلاح کرنا گویا اسے ذَلیل و رُسوا کرنا ہےچُنانچہ حضرتِ سَیِّدُناابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جس نے اپنے بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے اس کو ذَلیل کر دیا اور جس نے تنہائی میں نصیحت کی اس نے اس کو مزیّن (آراستہ) کر دیا۔ ([1]) اگر آپ پہلے رابِطہ کرنے کے بجائے اس کا رد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع