دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nekiyan Chupao | نیکیاں چھپاؤ

book_icon
نیکیاں چھپاؤ

اس بار بھی غُلام یہ کہہ کر تھوڑا سا نمک لے آیا ۔ تیسری منزل پرآقا نے پھر بھیجنا چاہا ، تو غُلام(جوکہ حقیقتاً آقا بننے کے قابِل تھا اُس ) نے جواب دیا : پَرسوں نمک کے چند دانوں کے بدلے اپنا حج بیچا ، کل آپ کا بیچا ، آج کس کا بیچ کر لاؤں؟([1])

ایک جُملے میں  دو حج ضائِع

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی وہ غُلام بَہُت دانا تھا ، اس نے اپنے آقا   اور آج کل کے ہر حاجی صاحب کو کتنی زبردست اور عِبرت انگیز بات بتائی کہ اپنے حج کا اِعلان کر کے نمک حاصل کرنا گویا کہ اپنا حج ہی  بیچ دینا ہے ۔ اِسی طرح حضرتِ سَیِّدُنا سُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی ایک شخص کے یہاں دعوت میں تشریف لے  گئے ، میزبان نے خادِم سے کہا : “ اُن برتنوں میں کھانا کھلاؤ جو میں دوبارہ (دوسرے)حج میں لایا ہوں۔ “ حضرتِ سَیِّدُنا  سُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے فرمایا : مسکین ! تُو نے ایک جُملے میں اپنے دو حج ضائِع کر دیئے۔([2])

ریاکاری کے خوف سے نیک عمل ترک کرنا کیسا؟

عرض : کوئی شخص اس اندیشے سے نیک عمل ترک کر دے  کہ جب ریاکاری ، تکبر اور خود نُمائی وغیرہ سے نیک عمل اَکارَت ہو جاتے ہیں تو  ان کو بجا لانے کا کیا فائدہ ،  کیا ایسا کرنا دُرُست ہے؟

اِرشاد : ریا کاری ، تکبر اور خود نُمائی وغیرہ آفات کی وجہ سے نیک عمل ترک کر دینا دانشمندی نہیں بلکہ سرا سر نادانی اور وسوسۂ شیطانی ہے۔ اس  شیطانی وسوسے کو دور کرتے ہوئے نیک اعمال چھوڑنے کے بجائے اپنی نیت درست کرنی چاہیے کیونکہ اگر ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو مکھی کو اُڑایا جاتا ہے ناک نہیں کاٹی جاتی۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہِ  الْوَالِی فرماتے ہیں : ریاکاری  کے خوف سے عمل  چھوڑ دینے والے شخص کی مثال اس غلام کی  طرح ہے  جسے آقا نے ایسی گندم دی جس میں دیگر دانے بھی  ملے ہوئے تھے اور کہا : اسے اچھی طرح صاف کر دو۔ غلام  اس خوف سے کہ  میں اسے اچھی طرح صاف نہ کر سکوں گا لہٰذا آقا کی بات پر سِرے سے عمل ہی چھوڑ دیتا ہے۔ تو ریاکاری کے خوف سے سِرے سے عمل ترک کرنا اخلاص کو ترک کرنا ہے اور ریاکاری کے ایسے خوف کا کوئی اِعتبار نہیں ۔ ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِخلاص ہو یا نہ ہو بہر صورت فرائض و واجبات  بجا لانے ہی میں فائدہ ہے۔ اِخلاص کے ساتھ کیے جانے والے اَعمال کافائدہ تو ظاہر ہے اور بغیر اِخلاص(یعنی ریا کاری وغیرہ)کے ساتھ کیے جانے والے  نیک اَعمال  کا اگرچہ ثواب نہیں ملتا مگر پھر بھی عبادات کی صحت(یعنی فرائض وواجبات وغیرہ کے ذِمّے سے ساقط ہوجانے) کا حکم دیا جائے گا “ مثلاً رِیا کے ساتھ نماز پڑھی تو نماز کی صحت کا حکم دیا جائے مگر چونکہ اخلاص نہیں ہے لہٰذا  ثواب نہیں۔ “ ([4])اور اگر رِیا کار سچّی توبہ کر لے تو اس کی بَرَکت سے



[1]   فضائلِ دُعا ، ص ۲۸۱ ملخصاً

[2]   فضائلِ دُعا ، ص ۲۸۱ ملخصاً

[3]   احیاءُ العلوم ، کتاب  ذم الجاہ  والریاء ، بیان  ترک  الطاعت …الخ ، ۳ / ۳۹۵

[4]   بہارِ شریعت ، ۳ / ۶۳۶-۶۳۷ ، حصّہ : ١٦

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن