30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میرے آقا اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتفرماتے ہیں : اب فی زمانہ سنّتوں کے مساجد ہی میں پڑھنے پرمسلمانوں کا عمل ہے اور اس میں کئی مصلحتیں ہیں کہ گھر جا کر سنتیں ادا کرنے میں وہ اطمینان نہیں ہوتا جو مساجد میں ہوتا ہےاورلوگوں کی عادت کے خلاف کرنا باعثِ طعن ورُسوائی اور بدگمانیوں اور غیبتوں کا دروازہ کھولنا ہے۔ گھر میں سنتیں(اور نوافل)ادا کرنے کا حکم صرف مستحب ہے مگر ان مصلحتوں کی رعایت کو اس حکم پر ترجیح دی جائے گی لہٰذا اب سنتیں وغیرہ مساجد ہی میں ادا کی جائیں۔ ائمہ دینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں : معمول کے خلاف کرنا شہرت اور مکروہ ہے۔ ([1])
ہاں! نفل نمازوں کی ادائیگی ، تلاوتِ قرآنِ پاک اور وظائف وغیرہ جہاں تک ممکن ہو پوشیدہ طور پر ادا کیجیے اور ادا کرنے کے بعد بھی انہیں لوگوں سے مخفی رکھیے اور بارگاہِ الٰہی میں ان کی قبولیت کی دُعا کرتے رہیے۔ بسا اوقات شیطان لوگوں کو “ تحدیثِ نعمت “ کاجذبہ دِلا کر انہیں عبادات ظاہر کرنے پر اُ کساتا ہے تو اچھے بھلے نیک و پارسا نظر آنے والے بھی “ تحدیثِ نعمت “ کہہ کر اپنی عبادات کے ڈَنکے بجانا شروع کر دیتے ہیں کہ “ میں تو اتنے سال سے باجماعت نماز ادا کررہاہوں ، اتناعرصہ ہو گیا میری کوئی نماز قضا نہیں ہوئی ، میں ہمیشہ پہلی صف میں نماز ادا کرتا ہوں ، رات کو جب تک اٹھ کر تہجد ادا نہ کر لوں تو سکون ہی نہیں ملتا وغیرہ ۔ “ اس طرح اپنے مُنْہ میاں مٹھو بننے سے نیک اَعمال کا اجر وثواب بھی ضائِع ہو جاتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے کے منصوبے بھی دَھرے کے دَھرے رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر کوئی محضاللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے عمل کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے خوش ہو کر لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتاہے لوگوں کے دل خود بخود اسے نیک ماننے لگتے ہیں۔
اپنے مُنْہ مِیاں مٹھو بننے سے کیا فائدہ!
اِسی طرح حاجی کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر اخلاص پیدا کرے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بے نیازی سے ڈرتا رہے اور یہ تصوّر کرے کہ نہ جانے میں حج کے مَناسِک اُس کے شایانِ شان ادا کر سکا ہوں یا نہیں ، میں واقعیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں بھی مقبول حاجی ہو چکا ہوں یا نہیں۔ یقیناً حقیقی حاجی تو وہی ہے جس کا حجاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں قبول ہو چکا ہے ورنہ اپنے مُنْہ مِیاں مٹھو بننے سے کیا فائدہ! جب حاجی اپنے اندر اس طرح خوف و خشیّت کی کیفیت پیدا کرے گا تو اسے اپنے آپ کو “ حاجی “ کہنے کہلوانے اور اپنے حج وعمرہ کی تعداد بیان کرنے کی خواہش ہی نہ رہے گی۔ اپنے مُنْہ مِیاں مٹھو بننے کا شوق بَہُت بُرا ہے کہ اس سے نیک اَعمال داؤ پر لگ جاتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک دانا غُلام اور اس کے نادان آقا کی عِبرت انگیز حِکایت مُلاحَظہ کیجیے :
ایک غُلام اور آقا حج کر کے پلٹے ، راہ میں نمک نہ رہا ، نہ خرچ تھا کہ مول (قیمتاً) لیتے ، ایک منزل پر آقا نے غُلام سے کہا : بقّال(سبزی فروش / کھانے پینے کاسامان بیچنے والے) سے تھوڑا سا نمک یہ کہہ کر لے آؤ کہ “ میں حج سے آیا ہوں۔ “ چُنانچہ وہ گیا اور یہ کہہ کر تھوڑا سا نمک لے آیا۔ دوسری منزل پر آقا نے پھر بھیجا اور کہا : اس بار یوں کہو کہ “ میرا آقا حج سے آیا ہے۔ “ چُنانچہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع