دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nekiyan Chupao | نیکیاں چھپاؤ

book_icon
نیکیاں چھپاؤ

چلاکہ یہ مال بھیجنے والے حضرتِ سَیِّدُنا امام زينُ العابدينرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  تھے۔ حضرتِ سَیِّدُنا شیبہ بن نَعامَہرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جب آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وصال ہوا تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ 100 گھروں کی کفالت فرمایاکرتے تھے۔([1])

میرا نام  کسی پر ظاہر نہ فرمائيں

اِسی طرح ایک مرتبہ حضرتِ  سَیِّدُنا ابو اسمٰعیل بن نُجید  نیشاپوری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے  شیخ ابو عثمان حِیریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کو مجاہِدین کے لیے کچھ رقم کی ضرورت  پڑی لیکن کہیں سے کچھ اِنتظام نہ ہوسکا ، تو شیخ نے سَیِّدُنا ابنِ نُجید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد سے اس ضَرورت کو بیان فرمایا۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فوراً دوہزار دِرہموں کی تھیلیاں لا کر شیخ کے قدموں پر ڈال دیں۔ شیخ بیحد خوش ہوئے اور بھری مجلس میں اس کا اِعلان فرما دیا اور لوگوں نے خوب واہ وا کی مگر ابنِ نُجید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد کو انتہائی صدمہ ہواکہ افسوس! میرا یہ عملِ خیر لوگوں پر ظاہر ہو گیا ۔ بے تابانہ بھری مجلس میں شیخ سے عرض کیا کہ حضور! مجھے میرا  مال واپس کر دیجیے میں ابھی اس کو راہِ  خدا میں خرچ کرنا نہیں چاہتا۔ شیخ نے فوراً  دِرہموں کی تھیلیاں ابنِ نُجید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد کے سامنے ڈال دیں ، آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تھیلیاں اُٹھا کر گھر لے آئے۔ حاضرینِ مجلس میں خوب چہ میگوئیاں ہوئیں۔ جب رات ہوئی اور شیخ اکیلے رہ گئے توحضرتِ سیِّدُنا ابنِ نُجید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد پھر دو ہزار دِرہموں کی تھیلیاں لے کر شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے شیخ ! آپ اس مال کو پوشیدہ طور پر خرچ فرمائيں اور میرا نام ہرگز کسی پر ظاہر نہ فرمائيں۔ یہ سُن کرشیخ ابو عثمان حِیریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی پر حالتِ گریہ طاری ہوگئی اور فرمانے لگے کہ ابنِ نُجید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد! تیری ہمت پر صد آفرین ہے۔ ([2])

نفسِ بدکار نے دل پر یہ قیامت توڑی

                  عملِ نیک کیا بھی تو چھپانے نہ دیا        (سامانِ بخشش)

نمازی اورحاجی  نیکیاں کیسے  چھپائیں؟

عرض : نمازی اور حاجی کس طرح اپنی نیکیاں چھپائیں؟

اِرشاد : نماز ہو یا حج ، زکوٰۃ ہو یا خیرات ، کوئی سا بھی عملِ خیر  ہواُسے  مخفی  ہی رکھنےمیں اس کی حفاظت اور بَقاہے۔ فی زمانہ اپنی نیکیوں کو چھپانا بَہُت مشکِل ہے مگر ناممکن  نہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے : آدمی کا فرض نماز کے علاوہ(نفل) نماز اپنے گھر میں پڑھنا افضل ہے۔ ([3]) مگر آہ!آج ہمارے دلوں میں سکون و اطمینان ہے نہ گھروں میں امن و سلامتی کہ فرائض و تحیۃ المسجد کے علاوہ بقیہ نماز و نوافل وغیرہ گھروں میں چھپ کر یکسوئی کے ساتھ ادا کر سکیں اور مزید یہ کہ بقیہ نماز گھر میں ادا کرنے پر لوگوں کی طرف سے بدگمانی   انہیں گناہ میں مبتلا کر سکتی ہے  لہٰذا بقیہ نماز بھی مسجد ہی میں پڑھ لیجیے۔

 



[1]   سير اعلام النبلاء ، علی بن ابی الحسین...الخ ، ۵ / ۳۳۶-۳۳۷  ملخصاً

[2]   بستانُ المحدثین ، ص۲۵۲-۲۵۳  ملخصاً

[3]   بخاری،کتاب الاذان ، باب  صلاة  اللیل ، ۱ / ۲۶۰ ، حدیث : ۷۳۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن