30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تحسین دیکھیں ، مَاشَآءَاللہ بولیں ، احتِرامًا حافِظ صاحِب ، قاری صاحب اور حاجی صاحب کہہ کر پکاریں ، دُعاؤں کی اِلتجائیں کریں تو اس صورت میں منع ہے اوراگر رِیا کی نیّت نہ ہو تو منع نہیں جیسے اپنے نام کے ساتھ حافِظ ، قاری یا حاجی اس نیت سے لکھے یا بولے تاکہ کسی ادارے یا علاقے میں اپنے ہم ناموں میں اس کی جلد پہچان ہو سکے اور تعارف میں آسانی ہو تو حَرج نہیں۔ یونہی کو ئی دوسرا شخص اس کے نام ساتھ یہ اَلفاظ بولتا یا لکھتا ہے تو کوئی مُضایَقہ نہیں مگر اپنے نفس پر قابو رکھے اور اس پر لوگوں کے سامنے خوشی کا اِظہار نہ کر ے بلکہ اپنی خطاؤں اور عیبوں کو یاد رکھے۔
آج بنتا ہوں معزز جو کھلے حشر میں عیب
آہ! رُسوائی کی آفت میں پھنسوں گا یارب! (وسائلِ بخشش)
اپنے ”سیِّد “ہونے کا اِظہار کرنا کیسا؟
عرض : ساداتِ کرام کا اپنے “ سیِّد “ ہونے کا اِظہار کرنا کیسا ہے ؟
اِرشاد : ساداتِ کرام کے اپنے آپ کو سیِّد ظاہر کرنے میں اگر فخر میں پڑجانے کا خوف نہ ہو تو ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر احتیاط اپنے آپ کو پوشیدہ رکھنے ہی میں ہے کیونکہ بَسااوقات لوگ “ سیِّد صاحب ، سیِّد صاحب “ کہہ کر تعظیم شروع کر دیتے ہیں تو پھر شیطان بھی حملہ آور ہو جاتا ہے یوں نفس پر قابو پانا دُشوار ہو جاتا ہے اَلبتہ اگر کوئی حَسَب ونَسَب پوچھے تو اس صورت میں اپنا سیِّد ہونا ظاہر کر دیں کہ جھوٹ سے بچنا ضَروری ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عاجزی وانکساری کرتے ہوئے مُنْہ سے جھوٹ نکل جائے اور گناہ کا وَبال سر پر آپڑے۔ اگرکوئی لوگوں میں عظمت پانے کے لیے اس کا اِظہار کرے تو یہ جائزنہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ عظمت کا دارومدار محض نَسَب پر نہیں بلکہ اصل بنیاد تقویٰ وپرہیزگاری پر ہے جیسا کہ پارہ 26 سورۃُ الحجرات کی آیت نمبر13میں اِرشادِ ربُّ العباد ہے :
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-
ترجمۂ کنزالایمان : بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والاوہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
لہٰذا فخر کے اِظہار کے لیے حَسَب ونَسَب بیان کرنا ، لوگوں سے عزت و عظمت چاہنا اور دل میں یہ خواہش رکھنا کہ لوگ میرااَدب واحترام بجالائیں یہ ممنوع ہے ایسے لوگوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ اگر کوئی سید صاحب اپنا سید ہونا ظاہر کرتے ہوں تو ہمیں ان کے متعلق بدگمانی کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ دِلوں کا حال ربِّ ذُوالجلال کو معلوم ہے ، ہم پر لازِم ہے کہ حسنِ ظن سے کام لیں۔
دِل میں یہ خواہش نہ رکھنا سب کریں میرا ادب
ڈر کہیں ناراض ہو جائے نہ تجھ سے تیرا رب (وسائلِ بخشش)
امام، مؤذِّن اور خطیب رِیاکاری سے کیسے بچیں؟
عرض : حافظ وقاری ، امام ، مؤذِّن اور خطیب رِیاکاری سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع