30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پوچھ لیا تو آپ جواباً کہہ دیجیے کہ میں روزے سے ہوں مگر ایسا نہ ہو کہ آپ اس کو تفصیلات بتانا شروع کر دیں کہ جناب!آپ توآج کا پوچھ رہے ہیں ، میں تو لگاتارتین مہینوں(رجب ، شعبان اور رَمَضان)کے روزے رکھتا ہوں اور یہ بَرسوں سے میرا معمول ہے۔ ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ درحقیقت اپنی نیکیوں کا چرچا کرنا ہے۔ بہرحال بقدرِ ضَرورت اپنی نیکیوں کے بیان کرنے میں کوئی مُضایَقہ نہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے : جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اُسے چاہیے کہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ ([1])
اِس حدیثِ پاک کے تحت حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ عبدُالرَّء ُوْف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی فرماتے ہیں : روزہ دار کوحکم دیا گیا کہ وہ اپنے روزے کا عذر پیش کرتے ہوئے دعوت قبول نہ کرے اگرچہ نفلی روزے کا پوشیدہ رکھنا مستحب ہے مگر یہاں اس کے اِظہار کا حکم دیا گیا تاکہ ان دونوں کے درمیان بغض وعداوت پیدا نہ ہو۔ ([2])
اپنے نام کے ساتھ اَلقابات لگانا
عرض : اپنے نام کے ساتھ حافِظ ، قاری ، حاجی ، علّامہ اورمفتی وغیرہ لگانا کیسا ہے؟ نیزکیا اَلقابات لگانے سے بھی دوسروں پر نیکیوں کا اِظہار ہوتا ہے؟
اِرشاد : اپنے نام کے ساتھ بلاضرورت اَلقابات لگانا دراصل اپنی خوبیاں بیان کرکے اپنے مُنْہ سے اپنی تعریف کرنا ہے اور یہ جائزنہیں۔ ہاں! اگر اس کی حاجت ہو تو وقتِ حاجت ، بقدرِضَرورت تحدیثِ نعمت کے طور پر یا کسی اور دُرُست نیت سے ان خوبیوں کا اِظہار کیا جا سکتاہے جیساکہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنَّت ، مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : خود سِتائی(یعنی اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا) جائز نہیں مگر وقتِ حاجت ، اِظہارِ حقیقت تحدیثِ نعمت ہے (یعنی بوقتِ حاجت اپنے بارے میں حقیقت کا اِظہار کرنا بھی نعمت کا چرچا کرنا ہے)۔ سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بادشاہِ مصر سے فرمایا :
قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآىٕنِ الْاَرْضِۚ-اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ(۵۵) (پ۱۳ ، یوسف : ۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کر دے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں۔ ([3])
اگرحاجتِ شرعی نہ ہو تو بِلاوجہ اپنے نام کے ساتھ اَلقابات لگاکر بِلا واسِطہ یا بِالواسطہ اپنی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کرناتاکہ لوگ بنظرِ تحسین دیکھیں اور ادب واحترام بجا لائیں یہ ممنوع ہے لہٰذااپنے نام کے ساتھ اَلقابات وغیرہ لگانے سے بچنا چاہیے کہ اس سے حافظِ قرآن ہونے اور حج کی سعادت سے مُشرّف ہونے کا پتہ چلتا ہے اور یہی نیکیوں کا اِظہار ہے۔ بہرحال اپنے نام کے ساتھ اَلقابات لگانے کا دارومدار نیّت پر ہے۔ اگر کوئی اپنے نام کے ساتھ اس نیت سے حافِظ ، قاری اور حاجی بولنے یا لکھنے کا اِہتمام کرے کہ لوگ اسے بنظرِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع